دنیا

جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف عالمی کریک ڈاؤن، 24 افراد گرفتار

📷 Global Crackdown on Criminal Networks, 24 Arrested

امریکہ، کینیڈا اور یورپ میں مشترکہ کارروائی، سکھ رہنما کے قتل سمیت متعدد سنگین جرائم کے الزامات

لاس اینجلس: امریکی محکمۂ انصاف نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ، کینیڈا اور یورپ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کارروائی کے دوران بھارت میں قائم تین بین الاقوامی منظم جرائم پیشہ گروہوں سے تعلق رکھنے والے 24 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتار افراد میں 11 ملزمان امریکی ریاست کیلیفورنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق ان گروہوں پر قتل، بھتہ خوری، اغوا، منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ سمیت متعدد سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ ان جرائم میں 2023 میں کینیڈا کے شہر سرے میں ایک ممتاز بھارتی سیاسی اور مذہبی شخصیت کے قتل کا مقدمہ بھی شامل ہے۔

’’آپریشن ہارڈ بال‘‘ کے تحت کارروائی

امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق ’’آپریشن ہارڈ بال‘‘ نامی یہ کارروائی کئی برسوں پر محیط تحقیقات کا نتیجہ ہے۔ تحقیقات میں ایسے بھارتی جرائم پیشہ گروہوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا جو دنیا بھر میں بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، فائرنگ، منشیات کی بین الاقوامی اسمگلنگ اور دیگر جرائم میں ملوث رہے ہیں۔ ان سرگرمیوں کے اثرات بالخصوص دنیا بھر میں مقیم بھارتی برادری پر مرتب ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق مجموعی طور پر 37 افراد کے خلاف تین فردِ جرم عائد کی گئی ہیں، جن میں دو ایسے ملزمان بھی شامل ہیں جو بھارت کی جیلوں میں قید رہتے ہوئے اپنے عالمی جرائم پیشہ نیٹ ورک چلا رہے تھے۔

اس کارروائی کے دوران تقریباً ایک ہزار کلوگرام کوکین، ایک کلوگرام ہیروئن، چالیس ہزار امریکی ڈالر نقد رقم اور ایک درجن آتشیں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔ اس کے علاوہ سیکرامنٹو کے علاقے میں 23 جبکہ لاس اینجلس کے علاقے میں 11 سرچ وارنٹس پر عمل درآمد کیا گیا۔

لارنس بشنوئی کے خلاف سنگین الزامات

یکم جولائی کو دائر کی گئی نو نکاتی فردِ جرم کے مطابق بھارت کے صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والا 33 سالہ گینگسٹر لارنس بشنوئی، جو طویل عرصے سے بھارت میں قید ہے، ابتدا میں خود کو ایک طلبہ رہنما کے طور پر پیش کرتا تھا، تاہم بعد میں اس نے سیاست چھوڑ کر جرائم کی دنیا میں قدم رکھا اور اپنے پیروکاروں کو بھی اسی راستے پر گامزن کیا۔

فردِ جرم کے مطابق بشنوئی نے سوشل میڈیا پوسٹس اور انٹرویوز کے ذریعے خود کو محبِ وطن، قوم پرست اور مذہبی شخصیت کے طور پر پیش کیا اور اسی عوامی تاثر کو استعمال کرتے ہوئے بھارت، امریکہ اور دیگر ممالک میں اپنے جرائم پیشہ نیٹ ورک کے لیے افراد کو بھرتی کیا۔

امریکی حکام کے مطابق حقیقت میں لارنس بشنوئی ایک ایسے بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورک کی سربراہی کرتا تھا جو کئی براعظموں تک پھیلا ہوا تھا۔ وہ جیل کے اندر اسمگل کیے گئے موبائل فونز اور دیگر مواصلاتی آلات کے ذریعے سیاسی قتل، فائرنگ، بھتہ خوری، اغوا، منشیات کی اسمگلنگ، انسانی اسمگلنگ اور دیگر جرائم کی ہدایات دیتا تھا۔

کینیڈا کی حکومت نے ستمبر 2025 میں بشنوئی نیٹ ورک کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔

گولڈی برار اور روہت گودارا کا کردار

فردِ جرم کے مطابق لارنس بشنوئی نے اپنے جرائم پیشہ نیٹ ورک کی روزمرہ سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے متعدد قریبی ساتھیوں کو ذمہ داریاں سونپ رکھی تھیں۔ ان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والا ستیندرجیت سنگھ عرف گولڈی برار، راجستھان کا روہت گودارا اور پنجاب کا سکھراج سنگھ کانگ شامل ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق گولڈی برار شمالی امریکہ میں جبکہ روہت گودارا یورپ میں بشنوئی نیٹ ورک کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتا تھا۔ دونوں رہنما بشنوئی کے ترجمان اور قریبی ساتھی کے طور پر کام کرتے تھے اور امریکہ، کینیڈا اور دیگر ممالک میں جرائم کی منصوبہ بندی اور ہدایات جاری کرتے تھے۔

سرے میں سکھ رہنما کے قتل کا الزام

فردِ جرم کے مطابق بشنوئی نیٹ ورک پر 18 جون 2023 کو کینیڈا کے صوبہ برٹش کولمبیا کے شہر سرے میں ایک ممتاز سیاسی اور مذہبی رہنما، جسے عدالتی دستاویزات میں ’’ایچ۔ایس۔این‘‘ کہا گیا ہے، کے قتل کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق بشنوئی اور گولڈی برار نے اس قتل کا حکم دیا تھا۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق دو مسلح افراد نے سرے میں ایک سکھ مندر سے باہر نکلتے وقت مذکورہ رہنما کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

بھتہ خوری اور منشیات کی اسمگلنگ

امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق بشنوئی نیٹ ورک نے واٹس ایپ اور دیگر خفیہ پیغام رسانی کی ایپلی کیشنز کے ذریعے لوگوں کو دھمکیاں دے کر بھتہ وصول کیا۔ دسمبر 2025 اور جنوری 2026 میں لاس اینجلس اور تھاؤزنڈ اوکس میں بعض افراد سے 50 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

فردِ جرم کے مطابق یہ نیٹ ورک اپنی سرگرمیوں کے لیے منشیات کی اسمگلنگ سے مالی وسائل حاصل کرتا تھا۔ نومبر 2024 میں بشنوئی اور گولڈی برار نے 49 کلوگرام کوکین کی ترسیل کی نگرانی کی، جسے امریکی ریاست کیلیفورنیا کے علاقے ریڈ لینڈز میں ضبط کر لیا گیا۔ یہ منشیات امریکہ سے کینیڈا بھیجی جانی تھیں۔

اسی طرح مارچ 2024 سے جولائی 2025 کے درمیان بشنوئی نیٹ ورک نے لاس اینجلس کے علاقے میں حریف منشیات فروش گروہوں سے تقریباً 520 کلوگرام کوکین بھی چھین لی۔

جگگو بھگوان پوریا گینگ بھی نشانے پر

امریکی حکام نے بتایا کہ 25 جون کو دائر کی گئی ایک اور فردِ جرم میں 17 افراد پر قتل کے لیے کرائے کے قاتلوں کے استعمال، منشیات کی اسمگلنگ، اغوا، بھتہ خوری، اسلحے کی غیر قانونی تجارت اور دیگر جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ان ملزمان میں پنجاب کا 38 سالہ گینگسٹر جگگو بھگوان پوریا بھی شامل ہے، جو اس وقت بھارت میں قید ہے اور ماضی میں بشنوئی کا ساتھی رہ چکا ہے۔ بعد ازاں دونوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے اور بھگوان پوریا نے اپنا الگ جرائم پیشہ نیٹ ورک قائم کر لیا۔

امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق بھگوان پوریا گینگ بھارت، امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، یورپ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ تک پھیلا ہوا ہے اور اس کے ایک ہزار سے زائد ارکان اور ساتھی موجود ہیں، جن میں سے ایک سو سے زیادہ افراد امریکہ میں سرگرم ہیں۔

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories