دنیا

شہید آیت اللہ علی خامنہ ای مشہد میں سپردِ خاک

📷 Martyr Ayatollah Ali Khamenei Laid to Rest in Mashhad(Image Credit:Irani Media)

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو مشہد مقدس میں روضہ حضرت امام رضا علیہ السلام کے احاطے میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

مشہد: ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو بدھ کے روز مشہد مقدس میں روضہ حضرت امام رضا علیہ السلام کے احاطے میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ ان کی تدفین کے موقع پر لاکھوں سوگواروں نے شرکت کی اور شہر کی سڑکیں عزاداروں سے بھر گئیں۔

نمازِ جنازہ بڑے صاحبزادے نے پڑھائی

ایرانی میڈیا کے مطابق شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ ان کے بڑے بیٹے آیت اللہ سید مصطفیٰ خامنہ ای نے پڑھائی۔ نمازِ جنازہ میں مذہبی، سیاسی اور سماجی شخصیات سمیت لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر فضا سوگ اور غم سے بوجھل رہی اور شرکاء نے اپنے محبوب رہنما کو اشکبار آنکھوں کے ساتھ الوداع کہا۔

مشہد میں انسانوں کا سمندر

رپورٹس کے مطابق شہید سپریم لیڈر کو آخری دیدار اور خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مشہد کی سڑکوں پر انسانوں کا سمندر امڈ آیا۔ شہریوں کی بڑی تعداد نے ہاتھوں میں ایرانی پرچم اور تصاویر اٹھا رکھی تھیں، جبکہ مختلف مقامات پر دعائیہ اجتماعات اور مرثیہ خوانی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

سوگواروں نے آیت اللہ خامنہ ای کی سیاسی، مذہبی اور قومی خدمات کو یاد کرتے ہوئے ان کے انتقال کو ایران اور مسلم دنیا کے لیے ایک عظیم سانحہ قرار دیا۔ عوامی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے شرکاء نے انہیں استقامت، مزاحمت اور قومی وحدت کی علامت قرار دیا۔

چھ روزہ سوگ تقریبات میں کروڑوں افراد کی شرکت

ایرانی میڈیا کے مطابق شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین اور نمازِ جنازہ سے متعلق چھ روزہ تقریبات ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں منعقد کی گئیں۔ ان تقریبات کا انعقاد تہران، قم، نجف، کربلا اور مشہد میں کیا گیا۔

ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق ان چھ روزہ سوگ تقریبات میں مجموعی طور پر تقریباً 4 کروڑ 30 لاکھ افراد نے شرکت کی۔ یہ تقریبات ایران کی حالیہ تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار کی جا رہی ہیں۔

نجف اور کربلا میں بھی خراجِ عقیدت پیش کیا گیا

واضح رہے کہ شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسدِ خاکی پہلے عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جایا گیا، جہاں لاکھوں افراد نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

کربلا میں ان کی میت کو حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت عباس علیہ السلام کے روضوں پر لے جایا گیا، جہاں نمازِ جنازہ بھی ادا کی گئی۔ گورنر آفس کے مطابق کربلا میں نکالے گئے جلوسِ جنازہ میں 70 لاکھ سے زائد سوگواران شریک ہوئے۔

نجف اشرف میں بھی بڑی تعداد میں لوگوں نے شہید رہنما کے لیے دعائیں کیں اور ان کی دینی و سیاسی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

جسدِ خاکی کو خصوصی حفاظتی حصار میں مشہد پہنچایا گیا

ایرانی میڈیا کے مطابق نجف سے مشہد منتقل کیے جانے کے دوران آیت اللہ علی خامنہ ای کے جسدِ خاکی کو غیر معمولی حفاظتی انتظامات کے تحت ایران لایا گیا۔ ایرانی فضائیہ کے متعدد طیاروں نے جسدِ خاکی لانے والے طیارے کو حصار میں لے کر مشہد ایئرپورٹ تک پہنچایا۔

مشہد پہنچنے کے بعد جسدِ خاکی کو خصوصی جلوس کی صورت میں روضہ حضرت امام رضا علیہ السلام منتقل کیا گیا، جہاں عوام کی بڑی تعداد پہلے ہی موجود تھی۔

آج حرم حضرت معصومہ میں تعزیتی اجتماع

ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کے ایصالِ ثواب اور خراجِ عقیدت کے لیے آج حرم حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا میں ایک خصوصی تعزیتی اجتماع منعقد ہوگا۔

رپورٹس کے مطابق نمازِ مغرب و عشاء کے بعد ہونے والے اس تعزیتی اجتماع میں آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای شرکت کریں گے۔ اس موقع پر مختلف مذہبی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد بھی موجود ہوگی اور مرحوم رہنما کی مغفرت اور بلندیٔ درجات کے لیے خصوصی دعائیں کی جائیں گی۔

قومی و مذہبی تاریخ کا اہم باب اختتام پذیر

آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے ساتھ ایران کی سیاسی اور مذہبی تاریخ کا ایک اہم باب اختتام پذیر ہوگیا۔ چھ روز تک جاری رہنے والی سوگ تقریبات نے ایک مرتبہ پھر ایرانی عوام کے اپنے رہنما سے گہرے جذباتی اور روحانی تعلق کو نمایاں کیا۔

مشہد میں روضہ حضرت امام رضا علیہ السلام کے احاطے میں ان کی تدفین کے بعد لاکھوں افراد کی جانب سے فاتحہ خوانی اور دعاؤں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ایران بھر میں مختلف مقامات پر تعزیتی اجتماعات اور یادگاری تقریبات بھی منعقد کی جا رہی ہیں۔

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories