تین برسوں میں ریستورانوں، مقامی زرعی مصنوعات اور فوڈ ٹورازم کو فروغ دینے کے لیے جامع منصوبہ
کیوبیک: کینیڈا کے صوبے کیوبیک کی حکومت نے صوبے کی معروف فوڈ انڈسٹری، مقامی زرعی پیداوار اور فوڈ ٹورازم کے شعبے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے آئندہ تین برسوں کے دوران 30 لاکھ کینیڈین ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد مقامی ریستورانوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا، مقامی مصنوعات کی کھپت میں اضافہ کرنا اور کیوبیک کو عالمی سطح پر ایک ممتاز فوڈ ٹورازم منزل کے طور پر مزید مستحکم کرنا ہے۔
یہ اعلان کیوبیک کے وزیر برائے معاشی امور برنارڈ ڈرین ویل نے جمعہ کے روز کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی یہ مالی معاونت لا ٹیبل رونڈ (La Table Ronde) نامی تنظیم کو دی جائے گی، جو صوبے کی فوڈ انڈسٹری کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
140 اراکین اور 210 ریستوران اس منصوبے کا حصہ
حکومتی اعلامیے کے مطابق لا ٹیبل رونڈ کے 140 اراکین صوبے کے 45 مختلف شہروں اور 12 علاقوں میں قائم تقریباً 210 ریستورانوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ تنظیم کئی برسوں سے مقامی ریستورانوں، شیف حضرات، خوراک کے ماہرین اور زرعی شعبے کے درمیان رابطے کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔
نئی سرمایہ کاری کے ذریعے آئندہ تین برسوں میں تقریباً دس مختلف منصوبے شروع کیے جائیں گے، جن میں ہر منصوبے کے تحت اوسطاً دس ریستوران مالکان اور متعلقہ کاروباری ادارے شریک ہوں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں سے نہ صرف ریستوران انڈسٹری کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد ملے گی بلکہ مقامی معیشت کو بھی نئی رفتار حاصل ہوگی۔
نئی نسل کو شیف کے پیشے کی جانب راغب کرنے پر توجہ
حکومت نے واضح کیا ہے کہ منصوبے کا ایک اہم مقصد نوجوان نسل کو شیف اور فوڈ انڈسٹری سے وابستہ پیشوں کی جانب راغب کرنا بھی ہے۔ اس مقصد کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام، ورکشاپس اور پیشہ ورانہ رہنمائی کے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ نوجوان اس شعبے میں بہتر مواقع حاصل کر سکیں۔
حکام کے مطابق حالیہ برسوں میں فوڈ انڈسٹری کو تربیت یافتہ افرادی قوت کی کمی کا سامنا رہا ہے، جس کے باعث کئی ریستورانوں کو مشکلات پیش آئیں۔ نئی سرمایہ کاری اس کمی کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔
جدید کاروباری ماڈلز متعارف کرانے کی منصوبہ بندی
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ منصوبے کے تحت ریستورانوں کے لیے جدید کاروباری ماڈلز بھی متعارف کرائے جائیں گے تاکہ وہ بدلتے ہوئے معاشی حالات، صارفین کی نئی ضروریات اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے بہتر انداز میں ہم آہنگ ہو سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آن لائن آرڈرنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، جدید مینجمنٹ سسٹمز اور پائیدار کاروباری حکمت عملی مستقبل میں فوڈ انڈسٹری کی ترقی کے لیے ناگزیر ہو چکی ہیں، اسی لیے ان پہلوؤں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
مقامی سپلائی چین کو مزید مضبوط بنانے کا عزم
کیوبیک حکومت نے اس منصوبے کے ذریعے مقامی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ حکام کے مطابق ریستورانوں کو زیادہ سے زیادہ مقامی کسانوں، ماہی گیروں اور غذائی مصنوعات تیار کرنے والے اداروں سے جوڑا جائے گا تاکہ مقامی پیداوار کی طلب میں اضافہ ہو اور علاقائی معیشت مزید مستحکم ہو۔
اس اقدام سے نہ صرف مقامی کاروباری افراد کو فائدہ پہنچے گا بلکہ صارفین کو بھی تازہ اور معیاری غذائی مصنوعات آسانی سے دستیاب ہوں گی۔
ماحول دوست گیسٹرونومی کو فروغ دیا جائے گا
حکومت نے کہا ہے کہ منصوبے کے تحت ماحول دوست گیسٹرونومی یا خوراک کی ثقافت کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ایسے طریقہ کار اپنائے جائیں گے جن سے خوراک کے ضیاع میں کمی آئے، مقامی مصنوعات کا استعمال بڑھے اور ماحول پر منفی اثرات کم ہوں۔
حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل کی فوڈ انڈسٹری صرف ذائقے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ماحول کے تحفظ، پائیدار ترقی اور ذمہ دارانہ کاروباری رویوں کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کرے گی۔
کیوبیک کو عالمی فوڈ ٹورازم مرکز بنانے کی کوشش
سرمایہ کاری کے ذریعے کیوبیک کی مقامی زرعی اور غذائی مصنوعات کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں متعارف کرانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔ حکومت کا مقصد ہے کہ کیوبیک کو دنیا کے نمایاں فوڈ ٹورازم مقامات میں شامل کیا جائے، جہاں سیاح نہ صرف قدرتی حسن بلکہ مقامی کھانوں اور ثقافتی ورثے سے بھی لطف اندوز ہو سکیں۔
وزیر برنارڈ ڈرین ویل کا بیان
وزیر برائے معاشی امور برنارڈ ڈرین ویل نے کہا کہ ہر کھانے کی پلیٹ کے پیچھے کسانوں، ماہی گیروں، کاریگروں اور فوڈ انڈسٹری سے وابستہ ہزاروں افراد کی محنت شامل ہوتی ہے۔ یہی شعبے نہ صرف خاندانی کاروباروں کو سہارا دیتے ہیں بلکہ کئی علاقوں کی معیشت کی بنیاد بھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی یہ سرمایہ کاری صوبے کے کاروبار، مقامی پیداوار، مختلف علاقوں اور پوری فوڈ انڈسٹری کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔ ان کے مطابق اس اقدام سے مقامی غذائی مصنوعات زیادہ سے زیادہ صارفین تک پہنچیں گی اور صوبے کو نمایاں معاشی، سماجی اور ثقافتی فوائد حاصل ہوں گے۔
فوڈ انڈسٹری معیشت کے لیے اسٹریٹجک شعبہ قرار
دوسری جانب لا ٹیبل رونڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹرک سینٹ ونسنٹ نے حکومت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کیوبیک کی فوڈ انڈسٹری صوبے کی معیشت کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے منصوبوں کے ذریعے فوڈ انڈسٹری نہ صرف معاشی ترقی کا ذریعہ بنے گی بلکہ ثقافتی شناخت، مقامی ورثے کے تحفظ اور علاقائی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ ان کے مطابق حکومت اور نجی شعبے کے درمیان یہ شراکت داری مستقبل میں کیوبیک کے غذائی شعبے کو مزید مضبوط اور عالمی سطح پر زیادہ نمایاں بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

