دنیا

آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات 6 جولائی کو

📷 File Photo

ایران بھر میں عام تعطیل، 8 جولائی کو یومِ سوگ منانے کا اعلان، عالمی رہنماؤں اور لاکھوں عوام کی شرکت متوقع

تہران: ایرانی حکومت نے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے موقع پر 6 جولائی کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ 8 جولائی کو سرکاری سطح پر یومِ سوگ منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملک کے تمام سرکاری ادارے، تعلیمی مراکز اور بیشتر کاروباری ادارے 6 جولائی کو بند رہیں گے تاکہ عوام اپنے مرحوم رہنما کی آخری رسومات میں بھرپور انداز میں شرکت کر سکیں۔

ایرانی حکام کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقریبات میں ایران کی اعلیٰ سیاسی، عسکری اور مذہبی قیادت کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک سے سربراہانِ مملکت، وزرائے خارجہ، سفارتی وفود، مذہبی شخصیات اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔ حکومت نے ان تقریبات کو ملک کی تاریخ کا ایک اہم قومی اور مذہبی موقع قرار دیتے ہوئے خصوصی انتظامات مکمل کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

سرکاری تعطیل اور یومِ سوگ کا اعلان

ایرانی کابینہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 6 جولائی کو ملک بھر میں عام تعطیل ہوگی تاکہ عوام بلا رکاوٹ آخری رسومات میں شریک ہو سکیں۔ اس موقع پر سرکاری دفاتر، تعلیمی ادارے اور متعدد نجی ادارے بھی بند رہیں گے، جبکہ ملک بھر میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ 8 جولائی کو پورے ایران میں یومِ سوگ منایا جائے گا۔ اس روز قومی پرچم سرنگوں رکھا جائے گا، مساجد، امام بارگاہوں اور مذہبی مراکز میں خصوصی دعائیہ اجتماعات، قرآن خوانی اور تعزیتی پروگرام منعقد کیے جائیں گے، جبکہ سرکاری میڈیا پر خصوصی نشریات پیش کی جائیں گی۔

شہادت سے متعلق سرکاری مؤقف

ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو ایران پر ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملے کے دوران شہید ہوئے تھے۔ حکومت نے اس واقعے کو ایران کی خودمختاری اور سلامتی کے خلاف ایک بڑا حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قوم اپنے عظیم رہنما کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔

سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی پوری زندگی ایران کی خودمختاری، اسلامی انقلاب کے تحفظ، قومی وقار اور عوامی مفادات کے لیے وقف کیے رکھی۔ ان کی وفات نہ صرف ایران بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔

عوامی شرکت کے لیے خصوصی انتظامات

ایرانی وزارت داخلہ اور دیگر متعلقہ اداروں نے آخری رسومات کے موقع پر لاکھوں افراد کی شرکت کے پیش نظر سیکیورٹی اور ٹریفک کے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ مختلف شہروں سے تہران آنے والے زائرین اور عوام کے لیے اضافی ٹرانسپورٹ، طبی سہولیات اور رہنمائی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔

حکام کے مطابق ملک بھر سے بڑی تعداد میں عوام تہران پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں اور توقع ہے کہ نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقریب ایران کی تاریخ کے سب سے بڑے عوامی اجتماعات میں شامل ہوگی۔

بین الاقوامی وفود کی آمد متوقع

ایرانی حکومت نے مختلف دوست اور اتحادی ممالک کو آخری رسومات میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی ہے۔ حکام کے مطابق متعدد ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود اپنی شرکت کی تصدیق کر چکے ہیں، جبکہ کئی بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی تہران پہنچیں گے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تقریبات کے دوران مختلف ممالک کے رہنماؤں کے درمیان اہم ملاقاتوں اور مشاورت کا بھی امکان ہے، جس کے پیش نظر سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

تعزیتی تقریبات کا سلسلہ جاری

ایران کے مختلف شہروں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی یاد میں تعزیتی اجتماعات کا سلسلہ جاری ہے۔ مذہبی رہنما، سیاسی شخصیات اور سماجی تنظیمیں ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کر رہی ہیں۔ سرکاری ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر ان کی زندگی، سیاسی جدوجہد اور مذہبی خدمات پر خصوصی پروگرام نشر کیے جا رہے ہیں۔

علماء اور مقررین کا کہنا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای نے مشکل حالات میں ایران کی قیادت کرتے ہوئے قومی اتحاد، خود انحصاری اور مزاحمت کی پالیسی کو فروغ دیا، جس کی وجہ سے وہ ایران کی معاصر تاریخ کی ایک نمایاں شخصیت کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔

قوم کے لیے ایک تاریخی لمحہ

تجزیہ کاروں کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات ایران کی سیاسی اور مذہبی تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ ثابت ہوں گی۔ حکومت کی جانب سے عام تعطیل اور یومِ سوگ کے اعلان سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایرانی ریاست اس موقع کو قومی سطح پر انتہائی اہمیت دے رہی ہے۔

حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ امن، نظم و ضبط اور اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے آخری رسومات میں شریک ہوں اور مرحوم رہنما کے لیے دعا کریں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی خدمات، قربانیاں اور قومی کردار ہمیشہ تاریخ میں یاد رکھے جائیں گے، جبکہ ان کی آخری رسومات میں عوام کی بڑی تعداد کی شرکت ان سے عقیدت اور محبت کا عملی اظہار ہوگی۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories