10 کھلاڑیوں کے ساتھ بوسنیا و ہرزیگووینا کو 2-0 سے شکست، فولارین بالوگن کے ریڈ کارڈ نے اگلے میچ سے باہر کر دیا
کیلیفورنیا: فیفا ورلڈ کپ 2026 کے راؤنڈ آف 32 میں میزبان امریکہ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بوسنیا و ہرزیگووینا کو 2-0 سے شکست دے کر راؤنڈ آف 16 میں جگہ بنا لی۔ امریکی ٹیم نے یہ تاریخی کامیابی اس وقت حاصل کی جب میچ کے آخری 26 منٹ اسے صرف 10 کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنا پڑا۔ اس فتح کے ساتھ امریکہ نے ورلڈ کپ کی تاریخ میں صرف دوسری مرتبہ ناک آؤٹ مرحلے کا میچ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔
کیلیفورنیا کے لیوائز اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس سنسنی خیز مقابلے میں فولارین بالوگن اور مالک ٹل مین نے گول کرکے امریکہ کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ اب امریکی ٹیم کا اگلا مقابلہ بیلجیئم سے ہوگا، تاہم بالوگن ریڈ کارڈ کے باعث اس اہم میچ میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔
پہلے ہاف میں بالوگن کی شاندار کارکردگی
میچ کے آغاز ہی سے امریکہ نے جارحانہ انداز اپنایا اور بوسنیا کی دفاعی لائن پر مسلسل دباؤ برقرار رکھا۔ امریکی فارورڈ فولارین بالوگن پہلے ہاف کے نمایاں کھلاڑی رہے۔
میچ کے 31ویں منٹ میں بالوگن نے گیند جال میں پہنچا دی، لیکن ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (VAR) کی جانچ کے بعد انہیں آف سائیڈ قرار دے دیا گیا اور گول مسترد کر دیا گیا۔
اس کے باوجود بالوگن نے ہمت نہیں ہاری اور 45ویں منٹ میں ایک عمدہ حملے کے اختتام پر گیند کو گول میں پہنچا کر امریکہ کو 1-0 کی برتری دلا دی۔ یہ رواں ورلڈ کپ میں ان کا تیسرا گول تھا۔
گول کرنے کے بعد بالوگن نے امریکی باسکٹ بال سپر اسٹار لیبرون جیمز کے مشہور “دی سائلنسر” انداز میں جشن منایا، جسے شائقین نے خوب سراہا۔
ریڈ کارڈ نے امریکہ کو مشکل میں ڈال دیا
دوسرے ہاف کے آغاز میں امریکی ٹیم کو بڑا دھچکا اس وقت لگا جب بالوگن بوسنیا کے کھلاڑی طارق محاریمووچ کے ٹخنے پر پاؤں رکھ بیٹھے۔
برازیل سے تعلق رکھنے والے ریفری رافیل کلاوس نے VAR کی مدد سے واقعے کا جائزہ لیا اور بالوگن کو براہِ راست ریڈ کارڈ دکھا کر میدان سے باہر بھیج دیا۔
اس فیصلے کے بعد امریکہ کو میچ کے آخری 26 منٹ صرف دس کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے پڑے، جس سے بوسنیا کو واپسی کا بہترین موقع ملا۔
فیفا قوانین کے مطابق براہِ راست ریڈ کارڈ ملنے کے باعث بالوگن کو ایک میچ کی معطلی کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کے نتیجے میں وہ بیلجیئم کے خلاف راؤنڈ آف 16 کے اہم مقابلے میں دستیاب نہیں ہوں گے۔
ورلڈ کپ میں ناپسندیدہ ریکارڈ
اس ریڈ کارڈ کے ساتھ ہی فولارین بالوگن امریکہ کی جانب سے ورلڈ کپ کی تاریخ میں ریڈ کارڈ حاصل کرنے والے پانچویں کھلاڑی بن گئے ہیں۔
اس سے قبل ایرک ونالڈا (1990)، فرنینڈو کلاویجو (1994)، پابلو ماسٹروئینی (2006) اور ایڈی پوپ (2006) بھی ورلڈ کپ میں ریڈ کارڈ دیکھ چکے ہیں۔
دس کھلاڑیوں کے باوجود دفاع مضبوط رہا
ایک کھلاڑی کم ہونے کے باوجود امریکی دفاع نے غیر معمولی نظم و ضبط اور تحمل کا مظاہرہ کیا۔ بوسنیا نے برابری کے لیے کئی حملے کیے، مگر امریکی دفاع اور گول کیپر نے ہر کوشش ناکام بنا دی۔
امریکی کھلاڑیوں نے نہ صرف دفاعی حکمت عملی اختیار کی بلکہ موقع ملنے پر جوابی حملے بھی جاری رکھے، جس سے بوسنیا کی ٹیم دباؤ میں رہی۔
مالک ٹل مین نے کامیابی پر مہر ثبت کر دی
میچ کے 82ویں منٹ میں امریکہ کو پینلٹی ایریا کے قریب ایک خطرناک فری کک ملی۔
نوجوان مڈفیلڈر مالک ٹل مین نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے انتہائی خوبصورت اور طاقتور شاٹ لگایا۔ بوسنیا کے گول کیپر واسل نے گیند کو روکنے کی کوشش ضرور کی، لیکن شاٹ کی رفتار اور سمت اتنی شاندار تھی کہ گیند سیدھی جال میں جا پہنچی۔
اس گول کے ساتھ امریکہ کی برتری 2-0 ہوگئی اور اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں شائقین خوشی سے جھوم اٹھے۔ یہی گول امریکہ کی تاریخی فتح کی ضمانت ثابت ہوا۔
بیلجیئم کے خلاف سخت امتحان
اس کامیابی کے بعد امریکہ نے راؤنڈ آف 16 میں جگہ تو بنا لی ہے، لیکن اب اس کے سامنے مضبوط حریف بیلجیئم ہوگا۔
امریکی ٹیم کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوگا کہ اس کا اہم اسٹرائیکر فولارین بالوگن معطلی کے باعث دستیاب نہیں ہوگا، جس کے بعد کوچ کو حملہ آور لائن میں نئی حکمت عملی اختیار کرنا پڑے گی۔
فٹبال ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ نے بوسنیا کے خلاف غیر معمولی حوصلہ اور دفاعی نظم کا مظاہرہ کیا، لیکن بیلجیئم جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف کامیابی کے لیے اسے مزید منظم اور مؤثر کھیل پیش کرنا ہوگا۔ تاہم موجودہ فارم اور ٹیم کے بلند حوصلے کو دیکھتے ہوئے امریکی شائقین کو امید ہے کہ ان کی ٹیم ورلڈ کپ میں مزید تاریخ رقم کر سکتی ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

