تہران: ایران نے ایک مرتبہ پھر آبنائے ہرمز پر اپنے مکمل اختیار اور کنٹرول کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکا یا کسی بھی عالمی معاہدے کے باوجود اس اہم بحری گزرگاہ کے انتظامی اور سکیورٹی معاملات صرف ایرانی حکام کے اختیار میں رہیں گے۔ ایرانی فوج کے سینئر ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابراہیم ذوالفقاری نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام بحری جہازوں کے ٹرانزٹ روٹس، آمد و رفت کے اوقات اور میری ٹائم لائسنسوں کے اجرا کا مکمل اختیار ایران کے پاس ہوگا اور اس معاملے میں کسی بیرونی دباؤ یا مداخلت کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
بریگیڈیئر جنرل ابراہیم ذوالفقاری نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی سمندری حدود، قومی سلامتی اور اہم آبی گزرگاہوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز نہ صرف ایران کی جغرافیائی اور اسٹریٹجک اہمیت کا حصہ ہے بلکہ یہ ملک کی خودمختاری سے بھی جڑا ہوا معاملہ ہے، اس لیے کسی دوسرے ملک کو اس کے انتظامی امور میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
ایرانی فوجی ترجمان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر نے حالیہ خطاب میں کہا تھا کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان نیا معاہدہ طے پا جاتا ہے تو آبنائے ہرمز دوبارہ مکمل طور پر کھول دی جائے گی، جس سے عالمی تجارتی سرگرمیوں اور توانائی کی ترسیل میں آسانی پیدا ہوگی۔ امریکی صدر کے اس بیان کو عالمی سطح پر اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا تھا، تاہم ایران نے فوری ردعمل دیتے ہوئے واضح کردیا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے باوجود آبنائے ہرمز پر حتمی اختیار تہران کے پاس ہی رہے گا۔
ایران نے اپنے ردعمل میں کہا کہ آبنائے ہرمز خطے کی سب سے اہم اور حساس بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور اس کی سلامتی و نگرانی ایران کی قومی ذمہ داری ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس آبی راستے کے حوالے سے کیے جانے والے فیصلے ایرانی خودمختاری کے دائرہ کار میں آتے ہیں اور اس پر کسی دوسرے ملک کی شرائط قبول نہیں کی جائیں گی۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ دنیا بھر میں سپلائی ہونے والے خام تیل اور قدرتی گیس کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، عراق اور قطر سے برآمد ہونے والی توانائی کی ترسیل کے لیے یہ بحری راستہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اندازوں کے مطابق دنیا کی مجموعی تیل تجارت کا بڑا حصہ روزانہ کی بنیاد پر آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، جس کے باعث یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے عالمی منڈیوں پر فوری اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری سیاسی و سفارتی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور نئے معاہدے کی باتیں کی جا رہی ہیں، تاہم ایران کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنی مکمل عملداری برقرار رکھنے کے معاملے میں کسی قسم کی لچک دکھانے کے لیے تیار نہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر کسی بھی قسم کی کشیدگی یا فوجی تنازع نہ صرف عالمی تیل منڈی کو شدید متاثر کرسکتا ہے بلکہ مشرق وسطیٰ کی مجموعی سلامتی کی صورتحال کو بھی غیر مستحکم بنا سکتا ہے۔ اگر اس اہم بحری راستے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی تجارت، ایندھن کی قیمتوں اور بین الاقوامی معیشت پر فوری طور پر مرتب ہوسکتے ہیں۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرنا دراصل امریکا اور مغربی ممالک کو واضح پیغام دینا ہے کہ تہران اپنی اسٹریٹجک پوزیشن اور بحری حدود کے معاملے میں کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کرے گا۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے پیش نظر آبنائے ہرمز آنے والے دنوں میں عالمی سفارت کاری اور سکیورٹی مباحث کا اہم موضوع بنی رہے گی۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

