اگر وزیر اعظم کی نیت میں کھوٹ نہیں ہوتا تو پیپر لیک مافیا کے ماسٹر مائنڈ کو ضمانت نہیں، سخت سزا دلواتے: کیجریوال,اگر سنجیو مکھیا ماسٹر مائنڈ نہیں ہے تو پھر کون ہے، یا 2024 میں لیک ہونے والا پیپر کسی نے لیک ہی نہیں کیا تھا؟: کیجریوال
جمعرات کو ہی آپ کی یقین دہانی کھوکھلی ثابت ہوگئی، جب سی بی آئی نے 2024 نیٹ پیپر لیک کے ماسٹر مائنڈ کو بے قصور قرار دے دیا: کیجریوال
نئی دہلی، 24 جولائی: عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے وزیر اعظم کی جانب سے پیپر لیک کے معاملات کی سماعت کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کے سلسلے میں پارلیمنٹ میں قانون لانے کی یقین دہانی کو مکمل طور پر کھوکھلا اور جھوٹا قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپر لیک کے معاملے میں پیر کو پارلیمنٹ میں فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے سے متعلق مودی جی کی دی گئی یقین دہانی کتنی کھوکھلی ہے، یہ جمعرات کو خود ہی ثابت ہوگیا، جب سی بی آئی نے 2024 کے نیٹ پیپر لیک کے ماسٹر مائنڈ کو عدالت میں بے قصور قرار دے دیا۔ انہوں نے وزیر اعظم سے کہا کہ اگر اسی طرح کی تحقیقات کرنی ہیں، اگر آپ نے ثبوت ہی پیش نہیں کرنے ہیں تو فاسٹ ٹریک عدالتیں بنانے کا ڈرامہ کیوں؟ مودی جی، آپ کی نیت میں ہی کھوٹ ہے۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ جمعرات کی رات 12 بجے وزیر اعظم نے ایک ویڈیو جاری کرکے پورے ملک سے کہا کہ پیپر لیک کے معاملات کی سماعت کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کے مقصد سے پیر کو پارلیمنٹ میں ایک قانون لایا جائے گا۔ وزیر اعظم کی یہ یقین دہانی کتنی کھوکھلی اور جھوٹی ہے، یہ جمعرات کو ہی ثابت ہوگیا۔ 2024 میں جب نیٹ کا پیپر لیک ہوا تھا، اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ سنجیو مکھیا نامی ایک شخص اس کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ حکومت نے بڑے زور و شور کے ساتھ اسے گرفتار کیا، لیکن گرفتاری کے تین ماہ کے اندر ہی حکومت نے اسے ضمانت دلوا دی اور وہ جیل سے باہر آگیا۔ اس کے خلاف مقدمہ چلنے لگا۔ اروند کیجریوال نے بتایا کہ جمعرات کی دوپہر ڈیڑھ بجے پی ٹی آئی کی خبر آئی کہ سی بی آئی نے عدالت میں کہا ہے کہ سنجیو مکھیا بے قصور ہے۔ سی بی آئی نے کہا کہ سنجیو مکھیا کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا، اس لیے اسے رہا کر دیا جائے۔ اگر سی بی آئی کے مطابق سنجیو مکھیا ماسٹر مائنڈ نہیں ہے تو پھر ماسٹر مائنڈ کون ہے؟ سی بی آئی نے کسی ماسٹر مائنڈ کا نام نہیں بتایا۔ اس کا مطلب ہے کہ 2024 میں جو پیپر لیک ہوا تھا، اسے کسی نے لیک ہی نہیں کیا۔ کیا آپ فاسٹ ٹریک عدالت بنا کر اسی طرح کام کریں گے؟ اروند کیجریوال نے کہا کہ جمعرات کی صبح ساڑھے نو بجے وزیر اعظم نے ٹویٹ کرکے بھی کہا تھا کہ میں فاسٹ ٹریک عدالتیں بناؤں گا، اور محض چند گھنٹوں بعد، دوپہر ڈیڑھ بجے پی ٹی آئی کی خبر آگئی کہ سی بی آئی نے ماسٹر مائنڈ کو رہا کر دیا۔ وزیر اعظم جی، اگر آپ کی سی بی آئی عدالت میں ثبوت ہی پیش نہیں کرے گی تو ان فاسٹ ٹریک عدالتوں کی اہمیت ہی کیا ہے؟ آپ پیپر لیک مافیا کو کیوں بچانا چاہتے ہیں؟ آپ ملک کو اس طرح کی جھوٹی اور کھوکھلی یقین دہانیاں کیوں دے رہے ہیں؟ اروند کیجریوال نے کہا کہ پورے ملک کا نوجوان متاثر ہے۔ بچوں نے خودکشی کرلی ہے اور آپ اس طرح کے کھوکھلے وعدے کر رہے ہیں۔ کیا آپ نے یہ یقینی بنانے کے لیے کوئی قدم اٹھایا ہے کہ اگلے سال نیٹ کا پیپر لیک نہ ہو؟ کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اس بار پیپر لیک ہوا، کئی بچوں نے خودکشی کی۔ اگلی بار پھر پیپر لیک ہوگا اور آپ فاسٹ ٹریک عدالتیں بنانے میں لگے رہیں گے۔ ان فاسٹ ٹریک عدالتوں سے کیا ہوگا؟ اروند کیجریوال نے بتایا کہ فاسٹ ٹریک عدالتیں تو پہلے ہی پوکسو اور عصمت دری کے مقدمات کے لیے قائم ہیں، لیکن وہاں بھی مقدمات کے فیصلوں میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ وزیر اعظم جی، اگر آپ کو پیپر لیک مافیا کے ماسٹر مائنڈ کو بچانا ہی ہے، اگر آپ کو ثبوت اکٹھے ہی نہیں کرنے ہیں، تحقیقات ہی نہیں کرنی ہیں، انہیں ضمانت ہی دلوانی ہے اور جیل سے باہر ہی نکلوانا ہے، تو یہ فاسٹ ٹریک عدالتیں آخر کیا کریں گی؟ وزیر اعظم جی، آپ کی نیت میں ہی کھوٹ ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

