لندن: برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے ایک تازہ انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اور اس کے گردونواح میں بحری سلامتی کی صورتحال بدستور انتہائی تشویشناک اور غیر مستحکم ہے۔ ادارے کے مطابق خلیج عمان، بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز جیسے اہم بین الاقوامی بحری راستوں میں خطرے کی سطح اب بھی “انتہائی سنگین” برقرار ہے، جس کے باعث تجارتی جہاز رانی متاثر ہو رہی ہے اور خطے میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ عالمی شپنگ کمپنیوں نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنے راستوں میں تبدیلی کی ہے یا اضافی احتیاطی اقدامات اختیار کیے ہیں، جس کے نتیجے میں اس خطے میں ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے۔
یو کے ایم ٹی او کے بیان کے مطابق بحیرہ عرب اور قریبی سمندری علاقوں میں بحری قزاقی کا خطرہ بھی اب تک برقرار ہے اور بعض مقامات پر اسے “شدید نوعیت” کا قرار دیا جا رہا ہے۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ مسلح گروہوں اور غیر ریاستی عناصر کی سرگرمیوں کے باعث تجارتی جہازوں کو مسلسل خطرات لاحق ہیں۔
انتظامیہ نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 21 اپریل سے 2 مئی کے درمیان کم از کم تین تجارتی جہازوں کو روکے جانے یا ان پر قبضے کے واقعات پیش آئے، جن میں سے بعض جہاز تاحال متعلقہ حکام کی تحویل میں ہیں۔ ان واقعات نے خطے میں سمندری تحفظ کے حوالے سے مزید سوالات کو جنم دیا ہے۔
ایک اور واقعے میں 2 مئی کو یمن کے ساحل کے قریب تقریباً 10 ناٹیکل میل کے فاصلے پر ایک آئل ٹینکر کو مبینہ طور پر روکا گیا اور اسے سمندری راستے سے تبدیل کر کے صومالیہ کے پانیوں کی سمت لے جایا گیا۔ تاہم اس جہاز کی موجودہ صورتحال اور اس پر سوار عملے کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آسکی ہیں، جس کے باعث تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب بعض حساس علاقوں میں بارودی سرنگوں کی موجودگی کے خدشات بھی برقرار ہیں، اگرچہ ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس کے ساتھ ساتھ سیٹلائٹ نیویگیشن سسٹمز میں مداخلت اور سگنلز کی خرابی کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں، جس سے جہاز رانی مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
یو کے ایم ٹی او نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ باب المندب اور خلیج عدن کے کچھ حصوں میں تجارتی ٹریفک نسبتاً مستحکم ہے، لیکن وہاں بھی مکمل طور پر خطرات ختم نہیں ہوئے۔ خاص طور پر یمن کے حوثی گروہ کی جانب سے بیانات اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے، جو خطے میں کشیدگی کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔
بین الاقوامی بحری ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی ترسیلی راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا کشیدگی عالمی منڈیوں پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے، جس میں توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی چین کی مشکلات شامل ہیں۔
شپنگ انڈسٹری سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی بڑی کمپنیوں نے اپنی بیمہ پالیسیوں میں تبدیلیاں کی ہیں اور اضافی خطراتی فیسیں عائد کی جا رہی ہیں۔ بعض کمپنیوں نے متبادل راستوں کا استعمال شروع کر دیا ہے، اگرچہ یہ راستے طویل اور مہنگے ثابت ہو رہے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی ایک بڑی وجہ مختلف علاقائی تنازعات اور جغرافیائی سیاسی صورتحال ہے، جس نے سمندری سلامتی کو براہ راست متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق جب تک سیاسی سطح پر کوئی جامع حل سامنے نہیں آتا، اس وقت تک بحری خطرات مکمل طور پر ختم ہونا مشکل ہے۔
ادھر بین الاقوامی برادری نے بھی صورتحال پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے اور مختلف ممالک اپنے بحری بیڑوں اور نگرانی کے نظام کو مزید فعال بنا رہے ہیں۔ کئی ممالک نے اپنے تجارتی جہازوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس خطے سے گزرتے وقت اضافی حفاظتی اقدامات اختیار کریں اور براہ راست اطلاع رسانی نظام سے منسلک رہیں۔
ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں اگر خطے میں کشیدگی کم نہ ہوئی تو عالمی تجارت، خصوصاً توانائی کی ترسیل، متاثر ہونے کا خدشہ برقرار رہے گا۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر بحری سلامتی کے نئے سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔
یو کے ایم ٹی او نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا ہے کہ وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور متعلقہ اداروں کو بروقت معلومات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ بحری حادثات اور خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

