ایران کے طاقتور عسکری ادارے پاسدارانِ انقلاب نے امریکہ اور اسرائیل کو ایک سخت اور دوٹوک انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کی گئی تو اس کے نتائج صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ جنگ خطے کی سرحدوں سے باہر تک پھیل سکتی ہے۔ ایرانی عسکری قیادت کے اس بیان کو موجودہ عالمی اور علاقائی کشیدہ صورتحال میں ایک انتہائی سنگین اشارہ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں پہلے ہی مختلف محاذوں پر تناؤ برقرار ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق موجودہ حالات اگرچہ بظاہر ایک غیر فعال کشیدگی یا وقتی وقفے کی کیفیت دکھائی دے رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن غیر مستحکم ہے اور کسی بھی وقت صورتحال دوبارہ بڑے پیمانے پر تصادم میں بدل سکتی ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مسلسل مضبوط بنا رہا ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور اور فوری جواب دینے کی مکمل تیاری رکھتا ہے۔
اسی دوران چین میں تعینات ایران کے سفیر عبدالرضا رحمانی فضلی نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی رابطوں اور پس پردہ مذاکراتی کوششوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی پیچیدہ اور حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ براہ راست مذاکرات آسان نہیں، تاہم مختلف ممالک کی ثالثی کے ذریعے ایک محدود مگر اہم سفارتی راستہ برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایرانی سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ چین اس پورے عمل میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے، کیونکہ بیجنگ عموماً انہی ثالثی کوششوں میں شامل ہوتا ہے جن میں اسے کسی مثبت اور دیرپا نتیجے کی امید ہو۔ ان کے مطابق پاکستان نے بھی اس عمل میں ابتدائی سطح پر اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے ذریعے مختلف فریقین کے درمیان رابطوں کو آگے بڑھانے میں مدد ملی ہے۔ ایران، پاکستان اور چین کے درمیان یہ سہ فریقی تعاون خطے میں استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سفیر کے مطابق موجودہ سفارتی کوششوں کا بنیادی مقصد خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچانا اور تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی قسم کی جارحیت کی صورت میں اپنے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔
دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے بھی ممکنہ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر اپنی عسکری تیاریوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے ایک اعلیٰ سطحی سیکیورٹی اجلاس طلب کیا جس میں فوج، فضائیہ اور دیگر دفاعی اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں ایران کے ساتھ ممکنہ تصادم اور امریکہ کی ممکنہ حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق کشیدہ حالات کے باعث نیتن یاہو نے اپنی عدالتی پیشی بھی ملتوی کر دی جبکہ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے نیویارک کا طے شدہ دورہ بھی منسوخ کر دیا، جو اس بات کی علامت سمجھا جا رہا ہے کہ اسرائیلی قیادت خطے کی صورتحال کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔
اسی دوران ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے آئندہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے، جو نیویارک میں منعقد ہوگا۔ یہ اجلاس عالمی امن اور سلامتی کے موضوع پر ہوگا اور اس ماہ سلامتی کونسل کی صدارت چین کے پاس ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے مطابق ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا گیا کہ وزیر خارجہ اس اجلاس میں شرکت کریں گے یا نہیں۔
مجموعی طور پر خطے کی صورتحال ایک بار پھر نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں ایک طرف سفارتی کوششیں جاری ہیں اور دوسری طرف عسکری بیانات اور تیاریوں نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر صورتحال قابو میں نہ رکھی گئی تو یہ تنازع محدود سطح سے بڑھ کر ایک بڑے علاقائی بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سیاست اور معیشت دونوں پر پڑ سکتے ہیں۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

