کینیڈا

سوشل میڈیا پر مسلمانوں اور یہودیوں کے خلاف نفرت پھیلانے والے ونی پیگ کے شہری کا اعترافِ جرم

📷 Winnipeg Man Pleads Guilty to Spreading Hate Against Muslims and Jews on Social Media(Instant Image)

کینیڈا کے صوبہ مینٹوبا کے شہر ونی پیگ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے سوشل میڈیا پر مسلمانوں اور یہودیوں کے خلاف نفرت انگیز مواد شائع کرنے، نسل کشی پر اکسانے اور مذہبی منافرت پھیلانے کے الزامات کا عدالت میں اعتراف جرم کر لیا ہے۔

ونی پیگ: کینیڈا کے صوبہ مینٹوبا کے شہر ونی پیگ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے سوشل میڈیا پر مسلمانوں اور یہودیوں کے خلاف نفرت انگیز مواد شائع کرنے، نسل کشی پر اکسانے اور مذہبی منافرت پھیلانے کے الزامات کا عدالت میں اعتراف جرم کر لیا ہے۔ اس مقدمے کو کینیڈا میں آن لائن نفرت انگیز تقاریر اور انتہا پسندانہ نظریات کے خلاف جاری قانونی کارروائیوں کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

عدالت میں الزامات تسلیم

50 سالہ جیسن پال رِنڈال نے جمعرات کے روز ونی پیگ کی مینٹوبا صوبائی عدالت میں پیش ہو کر مسلمانوں اور یہودیوں کے خلاف نفرت پھیلانے اور نسل کشی کی حمایت سے متعلق الزامات قبول کر لیے۔

ملزم کے خلاف وزیراعظم مارک کارنی کو سوشل میڈیا پر دھمکیاں دینے کا ایک الگ الزام بھی عائد کیا گیا تھا، تاہم استغاثہ نے بعد ازاں یہ الزام واپس لے لیا۔

عدالت میں کراؤن اٹارنی وینیسا گاما نے متفقہ حقائق پر مشتمل بیان پیش کیا، جس پر ملزم اور اس کے وکیل مائیکل برینن پہلے ہی دستخط کر چکے تھے۔

آر سی ایم پی کی تحقیقات سے معاملہ بے نقاب

استغاثہ کے مطابق رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (RCMP) نے اپریل 2025 میں ایک ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی تحقیقات کا آغاز کیا تھا، جہاں عوامی طور پر قابل رسائی متعدد نفرت انگیز پوسٹس شائع کی جا رہی تھیں۔

ابتدائی تحقیقات میں پولیس کو شبہ ہوا کہ اکاؤنٹ چلانے والا شخص ونی پیگ میں رہتا ہے، تاہم اس کی شناخت فوری طور پر ممکن نہ ہو سکی۔ کئی ماہ تک نگرانی کے بعد جنوری 2026 میں وزیراعظم مارک کارنی کے خلاف دھمکی آمیز پوسٹس سامنے آنے پر تحقیقات مزید تیز کر دی گئیں۔

بعد ازاں شواہد کی بنیاد پر یہ اکاؤنٹ جیسن پال رِنڈال سے منسلک کر دیا گیا۔

مسلمانوں، یہودیوں اور تارکین وطن کے خلاف نفرت انگیز مواد

عدالت میں بتایا گیا کہ ملزم کی سوشل میڈیا سرگرمیوں میں حکومت مخالف، مسلمانوں مخالف، امیگریشن مخالف اور سفید فام بالادستی کے نظریات پر مبنی بڑی تعداد میں پوسٹس شامل تھیں۔

کراؤن اٹارنی کے مطابق بعض پوسٹس میں خانہ جنگی کی حمایت بھی کی گئی، جبکہ متعدد پیغامات میں مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کی کھلی ترغیب دی گئی۔

استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ فروری 2025 سے فروری 2026 کے دوران ملزم نے ایسی کئی پوسٹس شائع کیں جن میں مسلمانوں کو قتل کرنے، مساجد کو نقصان پہنچانے اور ان کے خلاف تشدد پر اکسانے جیسے مطالبات شامل تھے۔

خود کو “انتہائی نسل پرست” قرار دیا

عدالتی کارروائی کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ جیسن پال رِنڈال نے اپنی متعدد پوسٹس میں خود کو “انتہائی نسل پرست” قرار دیا تھا اور سفید فام بالادستی کے نظریات کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔

تحقیقات کے مطابق اس نے یہودی برادری کے خلاف بھی نفرت انگیز مواد شائع کیا، جس میں جرمن آمر ایڈولف ہٹلر سے متعلق تعریف پر مبنی بیانات بھی شامل تھے۔

استغاثہ نے مزید بتایا کہ ملزم نے بعض مساجد کو دہشت گرد تنظیموں سے تشبیہ دینے والی پوسٹس بھی شیئر کیں، جنہیں مذہبی منافرت کو ہوا دینے کی کوشش قرار دیا گیا۔

گھر پر چھاپہ، اسلحہ برآمد نہ ہو سکا

پولیس نے 13 مارچ کو ملزم کے گھر کی تلاشی کے لیے عدالتی وارنٹ پر کارروائی کی۔

اگرچہ ملزم نے بعض سوشل میڈیا پوسٹس میں اپنے پاس اسلحہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم گھر کی تلاشی کے دوران پولیس کو کوئی ہتھیار برآمد نہیں ہوا۔

اس سے قبل فروری 2026 میں اسے وزیراعظم کے خلاف مبینہ دھمکیوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ مارچ کے آخر میں اس پر نفرت انگیز تقاریر اور نسل کشی پر اکسانے کے مزید الزامات بھی عائد کیے گئے۔

پولیس کے سامنے اعتراف

عدالتی ریکارڈ کے مطابق رِنڈال نے پولیس کو دیے گئے بیان میں تسلیم کیا کہ سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی تمام متنازع پوسٹس اسی نے لکھی تھیں۔

اس نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے اظہارِ رائے کی آزادی حاصل ہے اور وہ جو چاہے لکھ سکتا ہے۔ اس نے نفرت انگیز مواد سے متعلق کینیڈا کے قوانین پر بھی اعتراض کیا۔

استغاثہ کے مطابق ملزم نے پولیس کو یہ بھی کہا کہ اگر اس کی زبان بھی کاٹ دی جائے تب بھی وہ اپنے نظریات کا اظہار کرتا رہے گا۔

سزا کا فیصلہ بعد میں ہوگا

مینٹوبا صوبائی عدالت کے جج جے فنک نے ملزم کے اعتراف جرم کو قبول کر لیا ہے۔

اب عدالت آئندہ سماعت پر جیسن پال رِنڈال کو سزا سنائے گی، جس کے لیے الگ تاریخ مقرر کی جائے گی۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ مقدمہ کینیڈا میں آن لائن نفرت انگیز تقاریر، مذہبی منافرت اور انتہا پسندانہ نظریات کے خلاف حکومتی پالیسیوں کا ایک اہم امتحان سمجھا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے مذہبی یا نسلی گروہوں کے خلاف تشدد اور نفرت کو فروغ دینے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ معاشرے میں مذہبی ہم آہنگی، عوامی تحفظ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories