کینیڈا کی وفاقی حکومت نے ملک کے جمہوری اداروں اور سیاسی عمل کو غیر ملکی مداخلت سے محفوظ بنانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے فارن انفلوئنس ٹرانسپیرنسی اینڈ اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ (Foreign Influence Transparency and Accountability Act) اور اس سے متعلق قواعد و ضوابط کو باضابطہ طور پر نافذ کر دیا ہے
اوٹاوا: کینیڈا کی وفاقی حکومت نے ملک کے جمہوری اداروں اور سیاسی عمل کو غیر ملکی مداخلت سے محفوظ بنانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے فارن انفلوئنس ٹرانسپیرنسی اینڈ اکاؤنٹیبلٹی ایکٹ (Foreign Influence Transparency and Accountability Act) اور اس سے متعلق قواعد و ضوابط کو باضابطہ طور پر نافذ کر دیا ہے۔ اس قانون کے تحت ملک میں پہلی مرتبہ غیر ملکی اثر و رسوخ کی عوامی رجسٹری (Foreign Influence Registry) قائم کر دی گئی ہے، جس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ کون سے افراد یا ادارے غیر ملکی حکومتوں یا تنظیموں کی جانب سے کینیڈا کے سیاسی یا حکومتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر برائے پبلک سیفٹی گیری آننداسنگری نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں کینیڈین شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جان سکیں کہ اگر کوئی غیر ملکی ریاست یا اس کے نمائندے کینیڈا کی سیاسی، سماجی یا حکومتی سرگرمیوں پر اثر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں تو اس کی معلومات شفاف انداز میں عوام کے سامنے موجود ہوں۔
وزیر کے مطابق نئے قانون کے نفاذ کے ساتھ ہی ایک آزاد کمشنر کے ماتحت ایسا نظام قائم کر دیا گیا ہے جو غیر ملکی اثر و رسوخ سے متعلق سرگرمیوں کی نگرانی کرے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ بیرونی عناصر کی جانب سے ہونے والی لابنگ یا اثرانداز ہونے کی کوششیں عوام سے پوشیدہ نہ رہیں۔
رجسٹری میں اندراج لازمی
حکومت نے واضح کیا ہے کہ اب ایسے تمام افراد، کمپنیوں، اداروں یا تنظیموں کو، جن کا کسی غیر ملکی حکومت، سرکاری ادارے یا غیر ملکی پرنسپل کے ساتھ ایسا معاہدہ یا انتظام ہو جس کا مقصد کینیڈا کے سیاسی یا حکومتی فیصلوں کو متاثر کرنا ہو، اپنی سرگرمیوں کا اندراج اس رجسٹری میں کرانا ہوگا۔
یہ معلومات ایک عوامی آن لائن رجسٹری میں دستیاب ہوں گی تاکہ شہری جان سکیں کہ کون، کس کے لیے اور کس مقصد کے تحت کینیڈا کے عوامی یا سرکاری معاملات پر اثر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے شفافیت میں اضافہ ہوگا اور عوام کو یہ سمجھنے میں آسانی ہوگی کہ غیر ملکی اثر و رسوخ کس نوعیت کا ہے اور کن ذرائع سے استعمال کیا جا رہا ہے۔
آزاد کمشنر کی تقرری
قانون کے نفاذ کے ساتھ ہی اینٹن بوگمین (Anton Boegman) کو کینیڈا کا پہلا فارن انفلوئنس ٹرانسپیرنسی کمشنر مقرر کر دیا گیا ہے۔
کمشنر ایک آزاد آئینی عہدے کے طور پر اس قانون اور اس کے ضوابط پر عمل درآمد کی نگرانی کریں گے۔ انہیں رجسٹری کے انتظام، اندراجات کی جانچ، قوانین کی خلاف ورزیوں پر کارروائی اور نظام کی شفافیت برقرار رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ کمشنر کسی بھی سیاسی دباؤ سے آزاد ہو کر اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے تاکہ رجسٹری پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔
جمہوری نظام کے تحفظ کی کوشش
وفاقی حکومت کے مطابق یہ رجسٹری کینیڈا میں غیر ملکی مداخلت کے خلاف پہلے سے موجود اقدامات کا حصہ ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں حکومت نے انٹیلی جنس اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اضافی وسائل فراہم کرنے، سرحدی نگرانی مضبوط بنانے اور حساس کمیونٹیز کے ساتھ روابط بہتر بنانے جیسے اقدامات بھی کیے ہیں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ دنیا بھر میں غیر ملکی مداخلت کے طریقہ کار تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، اس لیے کینیڈا کو بھی اپنے جمہوری نظام کے تحفظ کے لیے جدید اور مؤثر قانونی ڈھانچہ درکار تھا۔
وزیر پبلک سیفٹی کا بیان
وزیر گیری آننداسنگری نے کہا کہ جمہوریت کے تحفظ میں شفافیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص یا ادارہ کسی غیر ملکی حکومت یا تنظیم کے مفادات کی نمائندگی کر رہا ہے تو اسے مکمل شفافیت اور جوابدہی کے ساتھ ایسا کرنا ہوگا۔
ان کے مطابق اس رجسٹری کے ذریعے خفیہ غیر ملکی مداخلت کو روکنے میں مدد ملے گی اور عوام کا جمہوری اور انتخابی اداروں پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
کمشنر اینٹن بوگمین کا مؤقف
نومنتخب کمشنر اینٹن بوگمین نے کہا کہ کینیڈا کے پہلے فارن انفلوئنس ٹرانسپیرنسی کمشنر کے طور پر خدمات انجام دینا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی رجسٹری کے قیام سے شفافیت، جوابدہی اور عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
ان کے مطابق اب شہری آسانی سے یہ جان سکیں گے کہ غیر ملکی اثر و رسوخ کس کی جانب سے استعمال کیا جا رہا ہے، کس مقصد کے لیے کیا جا رہا ہے اور اس کا کینیڈا کے عوامی فیصلوں پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔
عوامی اعتماد مضبوط بنانے کی کوشش
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں غیر ملکی مداخلت سے متعلق قوانین پہلے ہی نافذ ہیں اور اب کینیڈا نے بھی اسی طرز پر اپنا شفاف نظام متعارف کرایا ہے۔
حکومت کو امید ہے کہ اس نئے قانون کے ذریعے نہ صرف غیر ملکی اثر و رسوخ کی سرگرمیوں کو زیادہ شفاف بنایا جا سکے گا بلکہ کینیڈین عوام کا جمہوری اداروں، انتخابی نظام اور حکومتی فیصلوں پر اعتماد بھی مزید مضبوط ہوگا۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

