ہیلتھ کینیڈا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 30 جولائی 2026 کو موڈرنا کو فیز ون کلینیکل ٹرائل شروع کرنے کی اجازت دی گئی، جس کا مقصد ویکسین کی ابتدائی حفاظت، مناسب خوراک اور ممکنہ مضر اثرات کا جائزہ لینا ہے۔
اوٹاوا: ہیلتھ کینیڈا نے بنڈی بگیو وائرس سے پیدا ہونے والی ایبولا بیماری کے خلاف تیار کی جانے والی نئی ایم آر این اے (MRNA) ویکسین کے پہلے مرحلے (فیز ون) کے کلینیکل ٹرائل کی منظوری دے دی ہے۔ یہ ویکسین امریکی بایوٹیک کمپنی موڈرنا (Moderna) نے تیار کی ہے، جبکہ کینیڈا اس ویکسین کے ابتدائی انسانی آزمائشی مرحلے کی اجازت دینے والا برطانیہ کے بعد دنیا کا دوسرا ملک بن گیا ہے۔
ہیلتھ کینیڈا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 30 جولائی 2026 کو موڈرنا کو فیز ون کلینیکل ٹرائل شروع کرنے کی اجازت دی گئی، جس کا مقصد ویکسین کی ابتدائی حفاظت، مناسب خوراک اور ممکنہ مضر اثرات کا جائزہ لینا ہے۔
حکام کے مطابق اس وقت جمہوریہ کانگو میں بنڈی بگیو وائرس سے ہونے والی ایبولا بیماری کا پھیلاؤ جاری ہے، جبکہ اس مخصوص وائرس کے خلاف اب تک دنیا میں کوئی منظور شدہ ویکسین یا مؤثر علاج دستیاب نہیں۔
ہیلتھ کینیڈا نے واضح کیا کہ فیز ون ٹرائل میں صحت مند رضاکاروں کو ویکسین دی جائے گی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان کے جسم میں بنڈی بگیو وائرس کے خلاف حفاظتی اینٹی باڈیز پیدا ہوتی ہیں یا نہیں۔ اس دوران شرکاء کو وائرس نہیں لگایا جائے گا، اس لیے ان کے ایبولا سے متاثر ہونے کا کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔
ادارے کے مطابق اگر ابتدائی مرحلہ کامیاب رہتا ہے تو موڈرنا کو مزید کلینیکل ٹرائلز کے دوسرے اور تیسرے مراحل بھی مکمل کرنا ہوں گے، جس کے بعد ہی ویکسین کی باقاعدہ منظوری کے لیے درخواست دی جا سکے گی۔ حتمی منظوری صرف اسی صورت میں دی جائے گی جب ویکسین ہیلتھ کینیڈا کے سخت حفاظتی، مؤثریت اور معیار کے تقاضوں پر پوری اترے گی۔
ہیلتھ کینیڈا نے بتایا کہ اس وقت کینیڈا میں ایبولا بیماری کا کوئی مریض موجود نہیں، تاہم عالمی سطح پر وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق ایبولا وائرس متاثرہ شخص یا جانور کے جسمانی رطوبتوں کے براہِ راست رابطے، آلودہ اشیاء یا متاثرہ جانوروں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے اور یہ بیماری انتہائی خطرناک سمجھی جاتی ہے، جس میں شرح اموات بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔
ہیلتھ کینیڈا کے مطابق ہر سال ملک میں نئی ادویات، ویکسینز اور طبی علاج سے متعلق سیکڑوں کلینیکل ٹرائل درخواستیں موصول ہوتی ہیں، جن کا سائنسی بنیادوں پر تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ہی منظوری دی جاتی ہے۔
ادارے نے یہ بھی بتایا کہ حکومت کلینیکل ٹرائلز کے نظام کو جدید بنانے پر کام کر رہی ہے تاکہ ملک کے مختلف علاقوں کے زیادہ سے زیادہ افراد تحقیق میں حصہ لے سکیں اور کینیڈا عالمی طبی تحقیق میں اپنی نمایاں حیثیت برقرار رکھ سکے۔
عالمی سطح پر ایبولا کے خلاف جاری کوششوں کے تحت کینیڈا کی پبلک ہیلتھ ایجنسی (PHAC) بھی سرگرم کردار ادا کر رہی ہے۔ ونی پیگ میں قائم نیشنل مائیکروبائیولوجی لیبارٹری بنڈی بگیو وائرس سمیت مختلف ایبولا وائرسز پر تحقیق جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ مستقبل میں مؤثر ویکسینز اور علاج تیار کیے جا سکیں۔
پبلک ہیلتھ ایجنسی آف کینیڈا اور موڈرنا کے درمیان پہلے ہی تعاون کا معاہدہ موجود ہے، جس کے تحت کینیڈا میں mRNA ویکسینز کی مقامی تیاری اور تحقیق کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تحقیق کامیاب ثابت ہوتی ہے تو بنڈی بگیو وائرس سے پیدا ہونے والی ایبولا بیماری کے خلاف دنیا کو پہلی مؤثر ویکسین ملنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جو مستقبل میں وباؤں سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

