امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے سے کینیڈا میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے کا امکان
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی
اوٹاوا: امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کینیڈا میں پیٹرول کی قیمتوں میں بھی مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مزید خراب ہوئی تو آنے والے دنوں میں کینیڈین صارفین کو ایندھن کی زیادہ قیمتیں ادا کرنا پڑ سکتی ہیں۔
بدھ کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً پانچ فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت تقریباً 73.60 امریکی ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ یورپی معیار کے برینٹ کروڈ کی قیمت بھی 73 امریکی ڈالر فی بیرل کے قریب رہی، جو منگل کے مقابلے میں تین فیصد سے زیادہ اضافہ ہے۔
کینیڈا میں پیٹرول کی اوسط قیمت پہلے ہی بڑھ گئی
خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کینیڈا میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ کینیڈین آٹوموبائل ایسوسی ایشن (CAA) کے مطابق ملک بھر میں ریگولر پیٹرول کی اوسط قیمت تقریباً ایک ڈالر چونسٹھ سینٹ فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے، جو ایک روز قبل کے مقابلے میں تقریباً چار سینٹ زیادہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا اثر آنے والے دنوں میں مزید واضح ہو سکتا ہے اور مختلف صوبوں میں پیٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین نے مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کر دیا
گیس بڈی کے پیٹرولیم تجزیہ کار پیٹرک ڈی ہان نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے کینیڈا میں پیٹرول کی قیمتوں میں فی لیٹر مزید چند سینٹ اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک مسلسل تبدیل ہونے والی صورتحال ہے اور یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ قیمتیں کس حد تک جائیں گی، تاہم مارکیٹ میں موجود غیر یقینی صورتحال کے باعث قیمتوں پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ تیل کی عالمی منڈی اس وقت سیاسی اور جغرافیائی خطرات کے باعث غیر معمولی اتار چڑھاؤ کا شکار ہے، اس لیے صارفین کو آنے والے دنوں میں قیمتوں میں مزید تبدیلیوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ
معاشی ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں کا تعین بنیادی طور پر طلب اور رسد کی توقعات پر ہوتا ہے۔ چونکہ مشرقِ وسطیٰ دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے خطوں میں شامل ہے، اس لیے وہاں کسی بھی قسم کی جنگ یا کشیدگی عالمی تیل کی سپلائی کو متاثر کر سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سرمایہ کاروں اور توانائی کی منڈیوں میں اس وقت سب سے بڑی تشویش یہی ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو خام تیل کی سپلائی متاثر ہونے سے قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں۔
ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید کارروائی کا اشارہ دے دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایران کے ساتھ ہونے والے جنگ بندی معاہدے کو عملاً ختم قرار دیتے ہوئے تہران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ نیٹو کے ایک اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی حکام نے ان معاہدوں کی پاسداری نہیں کی جن پر مذاکرات کے دوران اتفاق کیا گیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف مزید سخت اقدامات پر غور کر رہا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو مزید فوجی حملے بھی کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد عالمی توانائی کی منڈیوں میں بے چینی مزید بڑھ گئی۔
ایران کی تیل فروخت پر امریکی پابندی
اس صورتحال سے قبل امریکہ نے منگل کے روز ایران کو تیل فروخت کرنے کے لیے دی گئی لائسنس کی سہولت بھی منسوخ کر دی تھی۔ یہ فیصلہ ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا کہ آبنائے ہرمز کے اہم بحری راستے میں تین آئل ٹینکروں پر حملے کیے گئے ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین تیل بردار بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے اور دنیا کے ایک بڑے حصے کی تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس راستے میں نقل و حمل متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی رسد میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔
کینیڈین صارفین کو مزید مہنگے ایندھن کا سامنا ہو سکتا ہے
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید تیزی آ سکتی ہے، جس کے براہِ راست اثرات کینیڈا سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں بھی محسوس کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق کینیڈا میں پیٹرول، ڈیزل اور دیگر ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافہ صارفین کے لیے مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

