AdvertisementStudioX News
کینیڈا

امریکہ نے کینیڈا سمیت درجنوں ممالک پر 10 فیصد نیا ٹیرف عائد کر دیا

📷 U.S. imposes new 10% tariff on Canada and dozens of other countries(Instant Image)
AdvertisementStudioX test advertisement

امریکہ نے کینیڈا سمیت درجنوں ممالک پر 10 فیصد نیا ٹیرف عائد کر دیا، جبری مشقت سے تیار اشیا کی درآمدات پر سخت مؤقف

کینیڈا، میکسیکو اور برطانیہ سمیت 17 ممالک بنیادی 10 فیصد ٹیرف کی زد میں، تاہم کسما (CUSMA) معاہدے کے تحت تجارت کرنے والی کینیڈین مصنوعات مستثنیٰ

اوٹاوا/واشنگٹن: امریکہ نے جبری مشقت (Forced Labour) سے تیار کی جانے والی مصنوعات کی درآمدات روکنے میں مبینہ ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے کینیڈا سمیت دنیا کے 60 ممالک پر نئے درآمدی ٹیرف نافذ کر دیے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کے اس فیصلے کے تحت کینیڈا، میکسیکو اور برطانیہ سمیت 17 ممالک پر بنیادی طور پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے، جبکہ یورپی یونین سمیت دیگر ممالک پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف نافذ کیا گیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد جبری مشقت کے ذریعے تیار کی جانے والی مصنوعات کی عالمی تجارت کی حوصلہ شکنی کرنا، انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا اور بین الاقوامی تجارتی نظام میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔

امریکی انتظامیہ کا مؤقف

امریکہ کے تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ یہ اقدام انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کے خلاف ایک اہم قدم ہے۔

ان کے مطابق نئی پالیسی کا مقصد ایسے تجارتی رویوں کی اصلاح کرنا ہے جو عالمی منڈی میں مسابقت کو متاثر کرتے ہیں، جبکہ دنیا بھر کے محنت کشوں کے حقوق اور فلاح و بہبود کو بہتر بنانا بھی اس فیصلے کا بنیادی مقصد ہے۔

کسما معاہدے کے تحت کینیڈین اشیا مستثنیٰ

امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے مطابق کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (CUSMA) کے تحت تجارت کی جانے والی کینیڈین اور میکسیکن مصنوعات پر یہ 10 فیصد ٹیرف لاگو نہیں ہوگا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کسما کے قواعد و ضوابط کے مطابق ہونے والی تجارت معمول کے مطابق جاری رہے گی، جبکہ صرف وہ مصنوعات متاثر ہوں گی جو اس معاہدے کے دائرہ کار سے باہر ہوں گی۔

امریکہ نے کینیڈا پر کیا الزام لگایا؟

امریکی حکومت نے اپنے فیصلے کی بنیاد امریکی تجارتی قانون 1974 کی سیکشن 301 کے تحت ہونے والی تحقیقات کو قرار دیا ہے۔ اس تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ کینیڈا جبری مشقت سے تیار کی گئی مصنوعات کی درآمد پر عائد پابندیوں کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے میں ناکام رہا ہے۔

تاہم کینیڈا نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے قوانین اور نگرانی کا نظام عالمی معیار کے مطابق ہے اور حکومت مسلسل ان اقدامات کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔

کینیڈا کا ردعمل

وزیراعظم مارک کارنی نے گزشتہ ماہ اس تجویز کے اعلان کے وقت کہا تھا کہ امریکہ کا یہ اقدام غیر متوقع نہیں تھا کیونکہ واشنگٹن کئی ماہ سے اس نوعیت کی پالیسی پر کام کر رہا تھا۔

ادھر کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارت کے وزیر ڈومینک لی بلانک نے بھی کہا کہ امریکی فیصلہ حیران کن نہیں بلکہ امریکہ کی یکطرفہ تجارتی پالیسیوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ کینیڈا بھی امریکہ کی اس بنیادی سوچ سے اتفاق کرتا ہے کہ جبری مشقت سے تیار ہونے والی اشیا عالمی سپلائی چین کا حصہ نہیں بننی چاہئیں۔

وزیر تجارت کے مطابق کینیڈا کے پاس پہلے ہی جبری مشقت کے خلاف ایک مضبوط قانونی اور انتظامی فریم ورک موجود ہے، جسے مزید مؤثر بنانے کے لیے حکومت مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ ہفتوں میں امریکہ کے ساتھ اس معاملے سمیت دیگر تجارتی امور پر تعمیری مذاکرات جاری رکھے جائیں گے تاکہ دونوں ممالک کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

کسما کے تحت سخت قوانین کی پابندی

کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو کے درمیان ہونے والے کسما معاہدے میں تینوں ممالک نے اپنی سپلائی چین میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے سخت قوانین نافذ کرنے کا عہد کیا تھا۔

امریکی ٹیرف کے اعلان کے چند روز بعد کینیڈا کی لبرل حکومت نے اسی مقصد کے تحت نئی قانون سازی بھی متعارف کرائی، تاہم یہ بل تاحال پارلیمنٹ سے منظور نہیں ہو سکا۔

ماہرین کے مطابق اس قانون کی منظوری کے بعد کینیڈا اپنی سپلائی چین کی نگرانی کو مزید مضبوط بنا سکے گا۔

کینیڈا میں پہلے سے سخت قوانین موجود

کینیڈین چیمبر آف کامرس نے اپنے ردعمل میں یاد دلایا کہ کینیڈا نے 2020 ہی سے جبری مشقت کے ذریعے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

اس کے علاوہ کمپنیوں کے لیے سپلائی چین سے متعلق لازمی رپورٹنگ کا نظام بھی نافذ کیا جا چکا ہے تاکہ کاروباری ادارے اس بات کی تصدیق کریں کہ ان کی مصنوعات کی تیاری میں جبری یا بچوں سے مشقت نہیں لی گئی۔

پارلیمنٹ میں پیش رپورٹ کے اہم نکات

پبلک سیفٹی کینیڈا کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کی گئی تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال 84 فیصد کاروباری اداروں اور 65 فیصد سرکاری اداروں نے اپنی سپلائی چین میں جبری اور بچوں سے مشقت روکنے کے لیے باقاعدہ پالیسیاں اور نگرانی کا نظام نافذ کر رکھا تھا۔ یہ شرح گزشتہ برس کے مقابلے میں زیادہ ہے، جو اس شعبے میں پیش رفت کی نشاندہی کرتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 91 فیصد اداروں نے حکومت کو اطلاع دی کہ انہیں اپنی سپلائی چین میں جبری یا بچوں سے مشقت کا کوئی مصدقہ واقعہ نہیں ملا، اس لیے ایسے معاملات کی اصلاح سے متعلق سوالات ان پر لاگو نہیں ہوتے تھے۔

تجارتی تعلقات پر ممکنہ اثرات

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کسما معاہدے کے تحت زیادہ تر کینیڈین مصنوعات اس نئے ٹیرف سے محفوظ رہیں گی، تاہم امریکی اقدام دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات میں ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔ ان کے مطابق آئندہ ہفتوں میں اوٹاوا اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات اس بات کا تعین کریں گے کہ جبری مشقت کے خاتمے سے متعلق تعاون کو کس طرح مزید مؤثر بنایا جائے، تاکہ تجارت بھی متاثر نہ ہو اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیارات پر بھی مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

Urdu contributor
+ posts

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

AdvertisementStudioX News

Related Stories