ورلڈ کپ 2026 سے قبل ٹورنٹو پولیس کی بڑی کارروائی، 35 لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کا جعلی کھیلوں کا سامان ضبط
ٹورنٹو: فیفا ورلڈ کپ 2026 سے قبل ٹورنٹو پولیس نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے کھیلوں سے متعلق جعلی مصنوعات کے مبینہ نیٹ ورک کا پردہ فاش کر دیا۔ پولیس نے دو افراد کو گرفتار کرتے ہوئے 35 لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کی جعلی فٹبال جرسیوں، ٹوپیوں، جھنڈوں اور دیگر کھیلوں کے سامان کی بڑی کھیپ ضبط کر لی ہے۔
حکام کے مطابق یہ کینیڈا میں اب تک پکڑی جانے والی جعلی فٹبال مصنوعات کی سب سے بڑی برآمدگیوں میں سے ایک ہے۔ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فیفا ورلڈ کپ 2026 کے آغاز کے ساتھ ہی ٹورنٹو میں شائقین کی بڑی تعداد کی آمد اور کھیلوں کی مصنوعات کی مانگ میں نمایاں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق تحقیقات کا آغاز مئی میں اس وقت ہوا جب برانڈ تحفظ سے متعلق ایک قانونی ادارے نے شکایت درج کرائی۔ شکایت میں بتایا گیا تھا کہ مسی ساگا کے ایک گودام میں فیفا ورلڈ کپ سے منسلک جعلی سامان ذخیرہ اور تقسیم کیا جا رہا ہے۔
تحقیقات کے بعد 26 مئی کو پولیس نے چار مختلف مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے، جن میں ایک گودام، ایک گاڑی اور متعدد آن سائٹ ٹریلرز شامل تھے۔ کارروائی کے دوران 16 ہزار سے زائد جعلی اشیا برآمد کی گئیں۔ ضبط شدہ سامان میں فٹبال جرسیوں، ٹوپیوں، جھنڈوں اور دیگر اشیا کے علاوہ فیفا، نائکی، ایڈیڈاس اور پوما کے جعلی لوگوز بھی شامل تھے۔ پولیس نے دو جعلی ورلڈ کپ ٹرافیاں بھی قبضے میں لے لیں۔
حکام کے مطابق برآمد شدہ سامان کی مجموعی مالیت تقریباً 35 لاکھ 64 ہزار ڈالر ہے۔ اس کیس میں 41 سالہ رامی جابر، جو ملٹن کا رہائشی ہے، اور 62 سالہ ولید سرحان، جو مسی ساگا سے تعلق رکھتا ہے، کو گرفتار کیا گیا ہے۔ دونوں ملزمان پر پانچ ہزار ڈالر سے زائد مالیت کی دھوکا دہی اور مبینہ طور پر غیر قانونی ذرائع سے حاصل شدہ جائیداد رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ٹورنٹو پولیس کے نائب سربراہ رابرٹ جانسن نے کارروائی کو ایک اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان مبینہ طور پر کھیلوں کے شائقین کے جذبات اور عالمی ایونٹ کی مقبولیت سے فائدہ اٹھا کر مالی منفعت حاصل کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے عوام کو خبردار کیا کہ ورلڈ کپ کے دوران کھیلوں کی مصنوعات خریدتے وقت مستند فروخت کنندگان کا انتخاب کریں تاکہ جعلی سامان سے بچا جا سکے۔
واضح رہے کہ ٹورنٹو کو فیفا ورلڈ کپ 2026 کے 16 میزبان شہروں میں شامل کیا گیا ہے۔ شہر میں مجموعی طور پر چھ میچز کھیلے جائیں گے، جن میں پانچ گروپ مرحلے کے مقابلے اور ایک ناک آؤٹ مرحلے کا میچ شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق ورلڈ کپ کے قریب آتے ہی جعلی کھیلوں کی مصنوعات کی فروخت میں اضافے کا خدشہ ہے، جس کے پیش نظر قانون نافذ کرنے والے ادارے نگرانی مزید سخت کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ٹورنٹو کو فیفا ورلڈ کپ 2026 کے 16 میزبان شہروں میں شامل کیا گیا ہے، جس کے باعث شہر میں تیاریاں تیزی سے جاری ہیں۔ ورلڈ کپ کے دوران ٹورنٹو میں مجموعی طور پر چھ میچز کھیلے جائیں گے، جن میں پانچ گروپ مرحلے کے مقابلے اور ایک ناک آؤٹ مرحلے کا اہم میچ شامل ہوگا۔ اس عالمی ایونٹ کے پیش نظر توقع کی جا رہی ہے کہ دنیا بھر سے لاکھوں شائقینِ فٹبال ٹورنٹو کا رخ کریں گے، جس سے سیاحت، کاروبار اور مقامی معیشت کو نمایاں فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔
تاہم، بڑے بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں کے ساتھ جعلی کھیلوں کی مصنوعات کی فروخت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کے قریب آتے ہی جعلی جرسیوں، یادگاری اشیاء، ٹوپیوں اور دیگر کھیلوں سے متعلق سامان کی غیر قانونی فروخت میں تیزی آ سکتی ہے۔ ایسی مصنوعات نہ صرف صارفین کو دھوکا دیتی ہیں بلکہ اصل برانڈز اور لائسنس یافتہ کاروباروں کو بھی مالی نقصان پہنچاتی ہیں۔
اسی خدشے کے پیش نظر کینیڈا کے قانون نافذ کرنے والے اداروں، سرحدی حکام اور متعلقہ ایجنسیوں نے نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔ حکام درآمدی سامان، آن لائن فروخت اور مقامی مارکیٹوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ جعلی مصنوعات کی خرید و فروخت کو روکا جا سکے۔ عوام کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ صرف مجاز اور مستند فروخت کنندگان سے ہی کھیلوں کی مصنوعات خریدیں اور غیر معمولی کم قیمت پر دستیاب اشیاء سے محتاط رہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ فیفا ورلڈ کپ 2026 کو محفوظ، شفاف اور کامیاب بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ جعلی مصنوعات کی روک تھام بھی انہی کوششوں کا اہم حصہ ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

