جیٹ (WestJet) اور اس کی فلائٹ اٹینڈنٹس یونین کے درمیان نئے اجتماعی معاہدے پر مذاکرات ناکام ہونے کے بعد اتوار سے فلائٹ اٹینڈنٹس کی ہڑتال باقاعدہ طور پر شروع ہو گئی۔ ہڑتال کے باعث کمپنی نے نئی بکنگ عارضی طور پر معطل کر دی ہے جبکہ اب تک تقریباً 600 پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں، جس سے ہزاروں مسافر متاثر ہوئے ہیں۔
کیلگری: کینیڈا کی فضائی کمپنی ویسٹ جیٹ (WestJet) اور اس کی فلائٹ اٹینڈنٹس یونین کے درمیان نئے اجتماعی معاہدے پر مذاکرات ناکام ہونے کے بعد اتوار سے فلائٹ اٹینڈنٹس کی ہڑتال باقاعدہ طور پر شروع ہو گئی۔ ہڑتال کے باعث کمپنی نے نئی بکنگ عارضی طور پر معطل کر دی ہے جبکہ اب تک تقریباً 600 پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں، جس سے ہزاروں مسافر متاثر ہوئے ہیں۔
ویسٹ جیٹ کے تقریباً 4,400 فلائٹ اٹینڈنٹس کی نمائندگی کرنے والی کینیڈین یونین آف پبلک ایمپلائز (CUPE) لوکل 8125 نے تصدیق کی کہ اس کے ارکان نے ہڑتال کا آغاز کر دیا ہے۔ یونین کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ مذاکرات آخری لمحے تک جاری رہے، تاہم دونوں فریق کسی قابل قبول معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔
یونین کے رپورٹنگ سیکریٹری کیمرون جونز نے کیلگری میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی نے ہڑتال کے آغاز سے قبل پوری کوشش کی کہ کوئی متفقہ حل نکل آئے، لیکن یہ ممکن نہ ہو سکا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہڑتال شروع ہونے کے باوجود یونین مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتی اور اس کی ٹیم اب بھی کمپنی کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
بکنگ معطل، سینکڑوں پروازیں منسوخ
ہڑتال کے پیش نظر ویسٹ جیٹ نے ہفتے ہی سے اپنی بوئنگ جیٹ پروازوں کی تعداد کم کرنا شروع کر دی تھی۔ کمپنی نے اعلان کیا کہ 5 اگست تک نئی فضائی بکنگ معطل رہے گی، تاہم اگر اس دوران کوئی معاہدہ نہ ہوا تو یہ مدت مزید بڑھ سکتی ہے۔
کمپنی کے مطابق اب تک تقریباً 600 پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں، جس کے باعث مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ تاہم ویسٹ جیٹ نے واضح کیا ہے کہ اس کی علاقائی سروس ویسٹ جیٹ اینکور (WestJet Encore) معمول کے مطابق کام کرتی رہے گی۔
کمپنی کی مایوسی، مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان
ویسٹ جیٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر الیکسس فان ہونس بروخ نے ہڑتال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی اب بھی یونین کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ویسٹ جیٹ نے ایسا تنخواہی پیکج پیش کیا تھا جو ان کے بقول کینیڈا میں کیبن کریو کے لیے ایک نئی مثال قائم کر سکتا تھا۔
کمپنی کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق پیشکش میں یکم اکتوبر سے 13 فیصد تنخواہ اضافہ شامل تھا، جس کا اطلاق یکم جنوری 2026 سے مؤثر سمجھا جانا تھا۔ اس کے بعد 2029 تک ہر سال 2.5 فیصد اضافے کی بھی تجویز دی گئی تھی۔
تنازع کی اصل وجہ کیا ہے؟
یہ تنازع بنیادی طور پر ان فرائض کی ادائیگی سے متعلق ہے جو فلائٹ اٹینڈنٹس پرواز اڑنے سے پہلے اور لینڈنگ کے بعد انجام دیتے ہیں، لیکن جن کے لیے انہیں مکمل معاوضہ نہیں ملتا۔
یونین کا مؤقف ہے کہ فلائٹ اٹینڈنٹس کو مسافروں کی بورڈنگ، حفاظتی جانچ، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے، طویل تاخیر کے دوران خدمات اور دیگر زمینی ذمہ داریوں کے لیے مناسب اجرت نہیں دی جاتی، حالانکہ وہ ان تمام اوقات میں ڈیوٹی پر ہوتے ہیں۔
کیمرون جونز نے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی اسی فرق کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ ایسا معاہدہ سامنے آئے جسے ارکان بھی منصفانہ تصور کریں۔
کمپنی کا مؤقف
ویسٹ جیٹ کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی پیشکش میں “ڈیوٹی پے پریمیم” شامل کیا تھا، جس کے تحت فلائٹ اٹینڈنٹس کو تمام ڈیوٹی اوقات کے لیے اضافی معاوضہ دیا جانا تھا۔ کمپنی کے مطابق اس اقدام کی مالی مالیت تقریباً 12 فیصد مزید تنخواہ اضافے کے برابر بنتی ہے۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
میک گل یونیورسٹی کے لیبر ماہر بیری ایڈلن کا کہنا ہے کہ ویسٹ جیٹ سمیت شمالی امریکہ کی کئی ایئر لائنز میں فلائٹ اٹینڈنٹس کو عموماً صرف اس وقت کی ادائیگی کی جاتی ہے جب طیارہ روانہ ہو کر فضاء میں ہوتا ہے، جبکہ بورڈنگ، انتظار اور تاخیر کے دوران گزارا گیا وقت اکثر بلا معاوضہ رہتا ہے۔
دوسری جانب کارلٹن یونیورسٹی کے سپراٹ اسکول آف بزنس کے پروفیسر ایان لی نے کہا کہ ایسی ہڑتالیں ایئر لائنز کے لیے مالی طور پر انتہائی مہنگی ثابت ہوتی ہیں کیونکہ پروازیں روکنے، طیارے پارک کرنے اور دوبارہ آپریشن بحال کرنے کا عمل طویل اور پیچیدہ ہوتا ہے۔
وفاقی حکومت کی اپیل
وفاقی وزیر برائے روزگار پیٹی ہاجو نے ہڑتال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے جلد از جلد مسئلے کا حل نکالیں۔
انہوں نے کہا کہ ہڑتال یا لاک آؤٹ کا مطلب یہ نہیں کہ معاہدہ ممکن نہیں رہا، بلکہ لیبر قوانین کے مطابق بہترین حل وہی ہے جو مذاکرات کی میز پر حاصل کیا جائے۔
جب یونین سے پوچھا گیا کہ کیا گزشتہ برس ایئر کینیڈا کے تنازع کی طرح وفاقی حکومت مداخلت کرے گی، تو کیمرون جونز نے کہا کہ انہیں امید ہے حکومت اجتماعی سودے بازی کے قانونی حق کا احترام کرے گی اور مذاکرات کو آزادانہ طور پر جاری رہنے دے گی۔
ویسٹ جیٹ نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی پرواز کی تازہ صورتحال مسلسل چیک کرتے رہیں کیونکہ آئندہ چند روز میں مزید پروازیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

