کمیونٹی

سرے کی تاریخ میں پہلی بار میئر کی مجموعی آمدنی 10 لاکھ ڈالر سے تجاوز

📷 Surrey Mayor's Earnings Top $1 Million for First Time(Image credit to Social Media)

سرے کی میئر برینڈا لاک صرف چار سالہ مدت میں مجموعی طور پر 10 لاکھ 38 ہزار کینیڈین ڈالر سے زائد تنخواہ، الاؤنسز، مراعات، اخراجات اور اجلاسوں کی فیس حاصل کرنے والی سرے کی پہلی میئر بن گئی ہیں

سرے، برٹش کولمبیا، 7 جولائی 2026: برٹش کولمبیا کے شہر سرے کی میئر برینڈا لاک صرف چار سالہ مدت میں مجموعی طور پر 10 لاکھ 38 ہزار کینیڈین ڈالر سے زائد تنخواہ، الاؤنسز، مراعات، اخراجات اور اجلاسوں کی فیس حاصل کرنے والی سرے کی پہلی میئر بن گئی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق برینڈا لاک نے سٹی آف سرے، میٹرو وینکوور اور ٹرانس لنک میئرز کونسل سے تنخواہ، اخراجات، فوائد، الاؤنسز اور اجلاسوں میں شرکت کی فیس کی مد میں مجموعی طور پر 10 لاکھ 38 ہزار ڈالر وصول کیے۔

لنڈا اینس کا اضافی فیس نہ لینے کا اعلان

سرے فرسٹ کی کونسلر اور میئر کے عہدے کی امیدوار لنڈا اینس نے اعلان کیا ہے کہ اگر وہ اکتوبر میں میئر منتخب ہوئیں تو وہ علاقائی اداروں سے کسی قسم کی اضافی آمدنی یا اجلاسوں کی فیس وصول نہیں کریں گی۔ انہوں نے اس طریقہ کار کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے بھی کام کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

لنڈا اینس نے کہا کہ جب کوئی شخص میئر منتخب ہوتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تنخواہ کیا ہے اور میٹرو وینکوور، میئرز کونسل یا دیگر علاقائی اداروں کے اجلاسوں میں شرکت میئر کی ذمہ داریوں کا حصہ ہے، اس کے لیے اضافی فیس نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس دہندگان اب اس نظام سے تنگ آ چکے ہیں اور اگر وہ منتخب ہوئیں تو کوئی اضافی فیس وصول نہیں کریں گی اور ان اجلاسوں کی ادائیگیوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے کام کریں گی۔

میٹرو وینکوور کے اجلاسوں پر تنقید

لنڈا اینس نے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ برینڈا لاک حالیہ ہفتوں میں میٹرو وینکوور پر تنقید کر رہی ہیں اور تبدیلی کا مطالبہ کر رہی ہیں، حالانکہ وہ گزشتہ چار برس سے اس کے بورڈ کا حصہ رہی ہیں اور اس دوران ایک لاکھ ڈالر سے زائد اجلاس فیس وصول کر چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس میں ایک حالیہ اجلاس بھی شامل ہے جس کی مدت چار منٹ سے بھی کم تھی اور اس کے لیے برینڈا لاک نے 577 ڈالر کی فیس وصول کی۔

خراب فیصلوں کا حصہ رہنے کا الزام

لنڈا اینس نے کہا کہ برینڈا لاک گزشتہ چار برسوں کے دوران میٹرو وینکوور کے تمام خراب فیصلوں کا حصہ رہی ہیں، جن میں نارتھ شور ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پراجیکٹ بھی شامل ہے جو بجٹ سے تقریباً 3 ارب ڈالر زیادہ لاگت کا شکار ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب جبکہ انتخابات قریب ہیں اور ووٹرز اور ٹیکس دہندگان میٹرو وینکوور کی کارکردگی سے نالاں ہیں، میئر لاک سرے کے عوام کو یہ باور کرانا چاہتی ہیں کہ وہ تبدیلی چاہتی ہیں، حالانکہ ان کے پاس تبدیلی لانے کے لیے چار سال موجود تھے۔

لنڈا اینس کے مطابق ان چار برسوں میں برینڈا لاک نے سرے کے ٹیکس دہندگان کے تحفظ کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا اور اس دوران اجلاسوں میں شرکت کی فیس وصول کرتی رہیں۔

میئرز کی آمدنی پر اعتراض

لنڈا اینس نے کہا کہ میٹرو وینکوور، میئرز کونسل اور دیگر علاقائی اداروں سے ملنے والی ادائیگیوں کے باعث خطے کے زیادہ سے زیادہ میئرز کی مجموعی آمدنی صوبے کے پریمیئر کی تنخواہ سے بھی زیادہ ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بورڈ اراکین کو اجلاسوں کی فیس دینے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے اور میٹرو وینکوور کو اپنی بنیادی ذمہ داریوں یعنی پانی اور سیوریج کے نظام تک محدود رہنا چاہیے۔

41 رکنی بورڈ کم کرنے کا مطالبہ

لنڈا اینس نے کہا کہ میٹرو وینکوور کے 41 رکنی بورڈ کے حجم کو کم کیا جانا چاہیے اور اس ادارے کو حکومت کی ایک اور مہنگی سطح کے بجائے ایک یوٹیلیٹی ادارے کی طرح کام کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر میٹرو وینکوور اپنے بورڈ میں شامل میئرز اور کونسلرز کو اجلاسوں کی ادائیگیاں بند کر دے تو چار سالہ مدت کے دوران تقریباً 50 لاکھ کینیڈین ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے۔

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories