بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں وفاقی حکومت نے ریفائنریوں کے ریکارڈ منافع کے بعد پیٹرولیم لیوی میں ردوبدل کیا ہے۔ اس تبدیلی کے تحت پیٹرول کی قیمت کا کچھ بوجھ صارفین کے بجائے ریفائنریوں کو منتقل کر دیا گیا ہے۔

منافع میں غیرمعمولی اضافہ
رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران پاکستان کی متعدد ریفائنریوں کے منافع میں ایک ہزار فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، حالانکہ اس دوران مشرق وسطیٰ کا بحران تھا اور مقامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی بھی آئی تھی۔
اٹک ریفائنری کا خالص منافع گذشتہ سال جولائی تا ستمبر کی سہ ماہی میں 1.45 ارب روپے تھا، جو اس سال اسی عرصے میں بڑھ کر 18.65 ارب روپے ہو گیا۔ نیشنل ریفائنری اور پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کے منافع میں بھی ایک ہزار فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سنرجیکو کی خالص آمدنی 61.61 ارب روپے سے بڑھ کر 145.17 ارب روپے ہو گئی، اور کمپنی نے 12.88 ارب روپے بعد از ٹیکس منافع ریکارڈ کیا۔ 2025 کی اسی سہ ماہی میں کمپنی کو خسارہ ہوا تھا۔
حکومت کا فیصلہ اور نیا فارمولا
وفاقی وزرا کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعہ کے روز ’سخت‘ ہدایت دی کہ پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے اضافہ نہیں کیا جائے گا اور یہ بوجھ ریفائنریاں برداشت کریں گی۔ اس موقف کی تائید پریس کانفرنس میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی کی۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پیر کو اسلام آباد میں کہا کہ 30 اکتوبر کو پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے اضافہ ہونے والا تھا، مگر ریفائنریوں کے تعاون سے اسے روکا جا سکا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ عارضی طور پر 30 دن کے لیے لاگو کیا گیا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن نے قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار بدلا ہے۔ اب پیٹرول کی درآمدی قیمت پاکستان سٹیٹ آئل کے کارگو کی حقیقی درآمدی لاگت کی بنیاد پر طے ہوگی۔ درآمدی اور ریفائنری قیمت کا فرق پیٹرولیم لیوی کی مد میں جمع کرانا ہوگا، اور ریفائنریوں کو روزانہ فروخت کی رپورٹس بھی دینا ہوں گی۔
ریفائنریوں اور ماہرین کے تحفظات
ریفائنریوں کا کہنا ہے کہ پیشگی مشاورت کے بغیر پالیسی بدلی گئی اور انھیں پیداواری لاگت سے کم قیمت پر پیٹرول فروخت کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ ان کے تحفظات سننے کے لیے ریفائنریوں کے ساتھ بیٹھا جائے گا۔
ٹاپ لائن سکیورٹیز کے تجزیے کے مطابق مقامی ریفائنریاں ملکی پیٹرول سپلائی کا تقریباً 30 فیصد فراہم کرتی ہیں، اور نئی پالیسی سے ان پر فی لیٹر تقریباً 49 روپے کا مؤثر بوجھ پڑتا ہے۔ اے کے ڈی سکیورٹیز کا تخمینہ ہے کہ ریفائنری سیکٹر کو 16.4 ارب روپے کا بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے، جس میں اٹک ریفائنری پر سب سے زیادہ 2.2 ارب روپے ہوں گے۔
پائیڈ سے منسلک محقق عافیہ ملک کے مطابق پیٹرولیم لیوی ہی پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کی بنیادی وجہ ہے، اس لیے حکومت کو اس میں کمی کرنی چاہیے تھی۔ توانائی امور کے ماہر علی خضر کے مطابق ریفائنریوں سے مشاورت نہیں کی گئی، اور ان کے خیال میں منافع پر ٹیکس لگانا زیادہ مناسب ہوتا۔
منافع کی ممکنہ وجوہات
ماہرین سے بات چیت میں منافع میں اضافے کی تین بڑی وجوہات سامنے آئیں:
- جنگ اور سپلائی میں رکاوٹوں کی وجہ سے ڈیزل اور پیٹرول کی عالمی قیمتیں خام تیل کے مقابلے میں تیزی سے بڑھیں۔
- بعض کمپنیوں کو قیمتوں میں اضافے سے انوینٹری گین حاصل ہوا۔
- عالمی سطح پر ریفائنڈ مصنوعات، خصوصاً ڈیزل، کی فراہمی زیادہ متاثر ہوئی، جس سے ڈیزل کی قیمتوں اور ریفائنری مارجن میں غیرمعمولی اضافہ ہوا۔
بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کے اثرات کا اندازہ آنے والے دنوں میں ہوگا۔
ماخذ: BBC News Urdu
Articles from this desk are produced with AI assistance from verified, attributed sources and published under StudioX News editorial standards. To report an error: studioxnews.ca/complaints/
