بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر پولیس اہلکاروں کی آمد اور کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے ’تجاوزات‘ کے خاتمے کے نوٹس نے حکومت اور جے یو آئی (ف) کے درمیان سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

پولیس کا مؤقف اور جے یو آئی کا ردعمل
اسلام آباد پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس کے اہلکار مولانا فضل الرحمان کی گلی میں ’غلط فہمی‘ کی بنیاد پر پہنچے تھے۔
سٹی ایس پی خرم اشرف نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ایک سوشل میڈیا ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ رہائش گاہ کے باہر انصار الاسلام کے کارکن کچھ لوگوں کو روک کر چیک کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اسی معاملے کی تصدیق کے لیے پولیس ٹیم بھیجی گئی تھی، مگر وہاں ایسا کچھ نہیں تھا۔
ان کے بقول ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی نے حالات خراب کرنے اور پولیس کو گمراہ کرنے کے لیے یہ ویڈیو وائرل کی تھی۔
دوسری جانب جے یو آئی (ف) نے بھی ایک ویڈیو جاری کی ہے، جس میں پولیس اہلکار مولانا فضل الرحمان کے گھر کے باہر دیکھے جا سکتے ہیں۔ پارٹی کے ایک رہنما نے بیان میں کہا کہ رات گئے پولیس کی آمد کو ہراساں کرنے کے مترادف قرار دیا جا سکتا ہے۔
سی ڈی اے کا نوٹس اور اس کا مؤقف
سی ڈی اے کے نوٹس میں مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ کے باہر لان میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ نوٹس کے مطابق سی ڈی اے کی اراضی پر گارڈ پوسٹس اور جنریٹر کی تنصیب بھی مبینہ خلاف ورزیوں میں شامل ہے۔
نوٹس میں ہدایت کی گئی ہے کہ یہ خلاف ورزیاں 15 روز کے اندر ختم کی جائیں، ورنہ قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔ عدم تعمیل کی صورت میں عمارت سیل کرنے اور مبینہ غیر قانونی تعمیرات مسمار کرنے کی کارروائی کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
سی ڈی اے کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کے سیکٹرز میں جہاں بھی بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی ہوئی، وہاں نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق ادارہ کسی شخصیت کو مدنظر رکھ کر کارروائی نہیں کرتا۔
جے یو آئی (ف) کے ترجمان محمد اسلم غوری کا کہنا ہے کہ نوٹس اس وقت چسپاں کیے گئے جب مولانا فضل الرحمان نے دو روز قبل پارلیمنٹ میں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔ ان کے مطابق اسی گلی میں دیگر گھروں کے باہر بھی گارڈ کیبن اور جنریٹر نصب ہیں، لیکن کسی اور گھر کو نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک شہر بھر کی تجاوزات کے خلاف یکساں کارروائی نہیں ہوتی، مولانا کی رہائش گاہ کے باہر موجود مبینہ تجاوزات نہیں ہٹائی جائیں گی۔
سیاسی کشیدگی کا پس منظر
گذشتہ ہفتے قومی اسمبلی کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نے وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر داخلہ کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ وزیر داخلہ ایران میں دفاعی معاہدے کر رہے ہیں۔ انھوں نے خواجہ آصف کا ایک جملہ دہراتے ہوئے کہا: ’کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے۔‘
مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر بھی حکومت پر تنقید کی تھی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ متعلقہ دستاویز میں صدر کے اطمینان کا واضح ذکر موجود نہیں، اس لیے آئینی تقاضے پورے نہیں ہوئے۔
اس کے بعد خواجہ آصف اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے جے یو آئی کی قیادت پر تنقید کی اور کہا کہ اب ریاست کی جانب سے انھیں مزید ’اکاموڈیٹ‘ نہیں کیا جائے گا۔ خواجہ آصف نے یہ الزام بھی لگایا کہ جے یو آئی کی قیادت خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد اپنا حصہ مانگ رہی تھی۔ یہ الزامات سیاسی دعوے ہیں۔
اسلم غوری کے مطابق مسلم لیگ (ن) کو تشویش ہے کہ جے یو آئی پنجاب میں بھی اپنی سیاسی بنیادیں مضبوط کر رہی ہے۔ انھوں نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا نام لیے بغیر الزام لگایا کہ ایک پالیسی کے تحت صوبوں میں مختلف جماعتوں کے سیاسی کردار کو مخصوص انداز میں ایڈجسٹ کیا جاتا ہے۔ یہ بھی ان کا دعویٰ ہے۔
Source: BBC News Urdu
Articles from this desk are produced with AI assistance from verified, attributed sources and published under StudioX News editorial standards. To report an error: studioxnews.ca/complaints/
