اسٹیٹس کینیڈا کی جانب سے جاری کی گئی ایک نئی قومی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ کینیڈا میں درمیانی اور زیادہ عمر کے تقریباً 45 لاکھ افراد کو ماہر ڈاکٹروں (اسپیشلسٹ) تک بروقت رسائی حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
45 سال سے زائد عمر کے 45 لاکھ سے زیادہ افراد کو اسپیشلسٹ علاج کے حصول میں مشکلات کا سامنا
اوٹاوا: اسٹیٹس کینیڈا کی جانب سے جاری کی گئی ایک نئی قومی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ کینیڈا میں درمیانی اور زیادہ عمر کے تقریباً 45 لاکھ افراد کو ماہر ڈاکٹروں (اسپیشلسٹ) تک بروقت رسائی حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آبادی میں مسلسل اضافے اور بزرگ افراد کی تعداد بڑھنے کے باعث مستقبل میں یہ بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2024 کے سروے کی بنیاد پر تیار کیے گئے اعداد و شمار 45 برس یا اس سے زیادہ عمر کے تقریباً ایک کروڑ 72 لاکھ کینیڈین شہریوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان میں سے 66 لاکھ افراد نے گزشتہ سال کسی نہ کسی اسپیشلسٹ ڈاکٹر سے علاج کروانے کی کوشش کی، تاہم اکثریت کو طویل انتظار، اپائنٹمنٹ نہ ملنے یا دیگر رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔
لاکھوں مریض مہینوں تک انتظار پر مجبور
اسٹیٹس کینیڈا کے مطابق اسپیشلسٹ کے پاس بھیجے جانے والے تقریباً 45 لاکھ مریض آسانی سے اپائنٹمنٹ حاصل نہیں کر سکے یا انہیں کئی ماہ تک انتظار کرنا پڑا۔ دوسری جانب تقریباً 29 لاکھ افراد ایسے بھی تھے جنہیں اپنی جسمانی یا ذہنی بیماریوں کے لیے مطلوبہ طبی سہولت ہی میسر نہیں آ سکی، جس کے باعث ان کی صحت مزید متاثر ہوئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسپیشلسٹ علاج کی سب سے زیادہ ضرورت جلدی امراض، یورولوجی، گائناکالوجی اور ہڈیوں سے متعلق بیماریوں کے مریضوں کو پیش آئی۔
فیملی ڈاکٹر نہ ہونا بھی بڑی وجہ قرار
ٹورنٹو کے معروف جیریاٹرک معالج اور سینائی ہیلتھ سے وابستہ ڈاکٹر سمیر سنہا نے کہا کہ اسپیشلسٹ علاج تک رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ لاکھوں کینیڈین شہریوں کے پاس بنیادی نگہداشت فراہم کرنے والا فیملی ڈاکٹر ہی موجود نہیں۔
ان کے مطابق جب کسی مریض کے پاس فیملی ڈاکٹر نہیں ہوگا تو وہ اسپیشلسٹ کے لیے بروقت ریفرل بھی حاصل نہیں کر سکے گا، جس سے علاج میں مزید تاخیر ہوتی ہے۔
برٹش کولمبیا سب سے زیادہ متاثر
رپورٹ میں برٹش کولمبیا کو وہ صوبہ قرار دیا گیا ہے جہاں اسپیشلسٹ علاج تک رسائی کے مسائل سب سے زیادہ سنگین ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 45 سے 64 سال کی عمر کے تقریباً 35.9 فیصد اور 65 سال سے زائد عمر کے 29.2 فیصد افراد کو اسپیشلسٹ ڈاکٹر تک پہنچنے میں مشکلات پیش آئیں۔
برٹش کولمبیا کے نیورولوجسٹ ڈاکٹر رابرٹ کیروتھرز کے مطابق اس وقت صوبے میں تقریباً 12 لاکھ افراد اسپیشلسٹ علاج کے انتظار میں ہیں اور صرف گزشتہ ایک سال کے دوران اس تعداد میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران برٹش کولمبیا کی آبادی میں تقریباً 10 لاکھ افراد کا اضافہ ہوا، لیکن صحت کا نظام اس رفتار سے ترقی نہیں کر سکا، جس کے باعث اسپیشلسٹ خدمات شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہیں۔
کئی ماہر ڈاکٹر نئی فائلیں لینے سے گریزاں
ڈاکٹر رابرٹ کیروتھرز کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے مریضوں کی تعداد کے باعث متعدد اسپیشلسٹ ڈاکٹروں نے غیر ہنگامی مریضوں کے لیے اپنی انتظار فہرستیں بند کرنا شروع کر دی ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔
دوسری جانب برٹش کولمبیا کے فیملی ڈاکٹر بیرندر نارنگ نے کہا کہ اسپیشلسٹ کی کمی کے علاوہ پرانا اور غیر مؤثر نظام بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
پرانا ریفرل نظام بھی مسئلے کی وجہ
ڈاکٹر نارنگ کے مطابق آج بھی متعدد ریفرلز فیکس مشین کے ذریعے بھیجے جاتے ہیں، جن میں سے کئی متعلقہ اسپیشلسٹ تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔
انہوں نے بتایا کہ صوبائی ہیلتھ سروسز اتھارٹی کے اندازوں کے مطابق تقریباً 10 فیصد ریفرلز تکنیکی خرابیوں کے باعث ناکام ہو جاتے ہیں، جبکہ 33 فیصد کیسز میں ریفرل غلط اسپیشلسٹ کو بھیج دیا جاتا ہے یا مطلوبہ فارم درست طریقے سے مکمل نہیں کیا جاتا۔
ان کے مطابق اس مسئلے کا مستقل حل صحت کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانا ہے، جس پر کام کا آغاز ہو چکا ہے۔
کیوبیک اور نیوفاؤنڈ لینڈ بھی متاثرہ صوبے
رپورٹ کے مطابق برٹش کولمبیا کے بعد کیوبیک اور نیوفاؤنڈ لینڈ اینڈ لیبراڈور وہ صوبے ہیں جہاں لوگوں کو اسپیشلسٹ علاج حاصل کرنے میں نمایاں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ 45 سے 64 برس کے 31 فیصد اور 65 برس سے زائد عمر کے تقریباً 30.9 فیصد افراد کو ریفرل کے بعد تین ماہ سے کم عرصے میں اسپیشلسٹ سے ملاقات کا موقع ملا، تاہم تقریباً سات فیصد درمیانی عمر کے افراد اور پانچ فیصد بزرگ شہریوں کو ایک سال یا اس سے بھی زیادہ انتظار کرنا پڑا۔
تاخیر سے مریضوں کی صحت متاثر
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ علاج میں تاخیر کے باعث مریضوں کو شدید ذہنی دباؤ، بے چینی اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ بہت سے افراد میں درد میں اضافہ، روزمرہ سرگرمیوں میں مشکلات اور مجموعی صحت کی خرابی جیسے مسائل بھی پیدا ہوئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسپیشلسٹ علاج تک بروقت رسائی کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں کینیڈا کا صحت کا نظام مزید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے اور لاکھوں مریضوں کی صحت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

