کیلگری اور ایڈمنٹن سمیت کئی شہروں میں ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ، ماہرین نے آئندہ ہفتوں میں مزید مہنگائی کا خدشہ ظاہر کر دیا
اوٹاوا/کیلگری: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی نے عالمی تیل کی منڈی کو ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، جس کے اثرات اب کینیڈا کے مختلف صوبوں میں بھی نمایاں طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث البرٹا کے شہروں، خصوصاً کیلگری اور ایڈمنٹن میں پٹرول کی قیمتوں میں اچانک نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے عام شہریوں، روزانہ سفر کرنے والوں اور کاروباری طبقے کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر عالمی سطح پر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو آنے والے دنوں میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات صرف ٹرانسپورٹ ہی نہیں بلکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑنے کا خدشہ ہے۔
کیلگری میں پٹرول 1.85 ڈالر فی لیٹر تک پہنچ گیا
حالیہ دنوں میں کیلگری کے متعدد پٹرول پمپس پر عام گریڈ کے پٹرول کی قیمت تقریباً 1.85 کینیڈین ڈالر فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ایڈمنٹن میں بھی کئی مقامات پر قیمتیں 1.82 ڈالر فی لیٹر کے قریب ریکارڈ کی گئی ہیں۔
صرف چند روز کے اندر پٹرول کی قیمت میں 10 سے 15 سینٹ فی لیٹر تک اضافے نے شہریوں کو حیران کر دیا ہے۔ روزانہ اپنی گاڑیوں کے ذریعے دفاتر، تعلیمی اداروں یا دیگر مقامات پر جانے والے افراد کا کہنا ہے کہ اس اچانک اضافے نے ان کے ماہانہ اخراجات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
کئی شہریوں کا کہنا ہے کہ اب انہیں ہر ہفتے گاڑی میں ایندھن بھرانے کے لیے پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم خرچ کرنا پڑ رہی ہے، جس سے گھریلو بجٹ متاثر ہو رہا ہے۔
عالمی کشیدگی نے تیل کی منڈی کو متاثر کر دیا
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ نے عالمی منڈی میں بے یقینی پیدا کر دی ہے، جبکہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ بھی توانائی کی عالمی سپلائی چین پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ ان عوامل کے باعث سرمایہ کاروں اور خریداروں میں خدشات بڑھ رہے ہیں کہ اگر تیل کی فراہمی میں مزید رکاوٹ پیدا ہوئی تو خام تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کا براہِ راست اثر پٹرول، ڈیزل اور دیگر ایندھن کی قیمتوں پر پڑتا ہے، اسی لیے بین الاقوامی سیاسی بحران اکثر صارفین کے روزمرہ اخراجات میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
آئندہ ہفتوں میں مزید اضافے کا خدشہ
ایندھن کی قیمتوں کے معروف تجزیہ کار پیٹرک ڈی ہان کے مطابق موجودہ رجحان کو دیکھتے ہوئے اگلے ایک سے دو ہفتوں کے دوران ایندھن مزید مہنگا ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں 10 سے 15 سینٹ فی لیٹر جبکہ پٹرول کی قیمت میں 5 سے 15 سینٹ فی لیٹر تک مزید اضافہ ممکن ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں کوئی نئی رکاوٹ پیدا ہوئی یا مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مزید بگڑ گئی تو قیمتوں میں اس سے بھی زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت عالمی توانائی کی منڈی غیر معمولی دباؤ کا شکار ہے اور معمولی جغرافیائی تبدیلی بھی قیمتوں کو تیزی سے اوپر لے جا سکتی ہے۔
کیلگری کے شہریوں پر اضافی مالی بوجھ
پیٹرک ڈی ہان کے مطابق کیلگری کے رہائشی ایک ماہ پہلے کے مقابلے میں تقریباً 28 سینٹ فی لیٹر زیادہ قیمت ادا کر رہے ہیں، جو عام صارفین کے لیے ایک نمایاں مالی بوجھ ہے۔
انہوں نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ شمالی امریکا کی کئی ریفائنریز پہلے ہی اپنی زیادہ سے زیادہ پیداواری صلاحیت کے قریب کام کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے اگر خام تیل کی سپلائی میں کوئی نئی رکاوٹ پیدا ہوئی تو طلب پوری کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے اور قیمتیں تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔
مہنگے ایندھن کا اثر صرف ڈرائیورز تک محدود نہیں
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات پورے معاشی نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔
جب ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں تو اشیائے خورونوش، روزمرہ استعمال کی مصنوعات، تعمیراتی سامان اور دیگر ضروری اشیا کی ترسیل بھی مہنگی ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کو مجموعی طور پر زیادہ قیمتیں ادا کرنا پڑتی ہیں۔ اسی لیے ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ مہنگائی کی مجموعی شرح میں بھی اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
کینیڈین شہریوں نے سفری منصوبے تبدیل کرنا شروع کر دیے
اگرچہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے موسمِ گرما کی تعطیلات کے منصوبوں کو متاثر کیا ہے، تاہم بیشتر کینیڈین شہریوں نے سفر مکمل طور پر منسوخ کرنے کے بجائے اپنے منصوبوں میں تبدیلی کو ترجیح دی ہے۔
ٹورو (Turo) کی ایک نئی سمر ٹریول رپورٹ کے مطابق تقریباً 68 فیصد کینیڈین شہری بڑھتے ہوئے سفری اخراجات کی وجہ سے اپنے سفری منصوبوں میں ردوبدل کر رہے ہیں۔ بہت سے افراد اب مختصر فاصلے کے سفر کو ترجیح دے رہے ہیں، جبکہ کچھ شہریوں نے سال بھر میں سفر کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ بڑھتے ہوئے اخراجات پر قابو پایا جا سکے۔
کیلگری کے ایک شہری نے بتایا کہ وہ آئندہ ماہ کیلونا جانے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم پٹرول کی بلند قیمتوں کے باعث اسے اپنے مجموعی سفری بجٹ پر نظرثانی کرنا پڑ رہی ہے۔ ایک اور شہری نے کہا کہ پہلے وہ سال میں تین یا چار مرتبہ سیر و تفریح کے لیے جاتا تھا، لیکن موجودہ حالات میں شاید صرف ایک یا دو سفر ہی ممکن ہوں گے۔
مستقبل کا منظرنامہ
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم نہیں ہوتی اور عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی مستحکم نہیں ہوتی، ایندھن کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ ایسے میں کینیڈین شہریوں کو نہ صرف روزمرہ کے اخراجات میں احتیاط برتنا ہوگی بلکہ اپنے سفری منصوبوں اور گھریلو بجٹ کو بھی نئی معاشی حقیقتوں کے مطابق ترتیب دینا پڑے گا۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.




