فیفا ورلڈ کپ 2026: کینیڈا کا افتتاحی میچ برابر، پہلی جیت کی تلاش برقرار
ٹورنٹو : فیفا ورلڈ کپ 2026 میں میزبان ملک کینیڈا اپنے پہلے میچ میں فتح حاصل کرنے میں ناکام رہا اور بوسنیا و ہرزیگووینا کے خلاف ایک دلچسپ مقابلے کے بعد میچ ایک، ایک گول سے برابر رہا۔ یہ مقابلہ نہ صرف کینیڈا کے لیے تاریخی حیثیت رکھتا تھا بلکہ یہ 2026 فیفا ورلڈ کپ کا پہلا میچ بھی تھا جو کینیڈین سرزمین پر کھیلا گیا۔
ٹورنٹو اسٹیڈیم میں ہزاروں شائقین کی موجودگی میں کھیلے گئے اس میچ میں دونوں ٹیموں نے جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کیا، تاہم مقررہ وقت تک کوئی بھی ٹیم فیصلہ کن برتری حاصل نہ کر سکی۔ میچ کے اختتام پر دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ ملا، جس کے بعد گروپ بی میں کینیڈا اور بوسنیا و ہرزیگووینا ایک ایک پوائنٹ کے ساتھ مشترکہ طور پر موجود ہیں۔
میچ کا پہلا گول بوسنیا و ہرزیگووینا کی جانب سے 21 ویں منٹ میں کیا گیا۔ ایک کارنر کک پر سیاد کولاسیناک نے گیند کو گول کے سامنے پہنچایا جہاں جووو لوکیچ نے شاندار ہیڈر کے ذریعے گیند کو جال میں پہنچا دیا۔ یہ گول ورلڈ کپ 2026 کے دوران کینیڈا کی سرزمین پر کیا جانے والا پہلا گول بھی بن گیا۔
پہلے ہاف میں برتری حاصل کرنے کے بعد بوسنیا کی ٹیم نے دفاعی انداز اپنایا جبکہ کینیڈا نے برابری کے لیے مسلسل حملے جاری رکھے۔ دوسرے ہاف میں کینیڈین کوچ نے متعدد تبدیلیاں کیں تاکہ ٹیم کی اٹیکنگ صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکے۔
میچ کا فیصلہ کن لمحہ 79 ویں منٹ میں آیا جب متبادل کھلاڑی کے طور پر میدان میں آنے والے کائل لارین نے شاندار انداز میں گیند کو جال میں پہنچا کر اسکور برابر کر دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لارین میدان میں آنے کے صرف دو منٹ بعد ہی گول کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان کے گول کے ساتھ ہی ٹورنٹو اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں شائقین خوشی سے جھوم اٹھے اور کینیڈین ٹیم کو بھرپور حوصلہ ملا۔
دونوں ممالک کی فٹبال ٹیموں کے درمیان یہ پہلا بین الاقوامی مقابلہ تھا۔ اس سے قبل کینیڈا اور بوسنیا و ہرزیگووینا کبھی بھی کسی سرکاری بین الاقوامی میچ میں آمنے سامنے نہیں آئے تھے۔
فیفا عالمی درجہ بندی کے مطابق بوسنیا و ہرزیگووینا اس وقت 65 ویں نمبر پر موجود ہے، تاہم ٹیم نے رواں سال اپریل میں اٹلی جیسی مضبوط ٹیم کو پلے آف کوالیفائر میں پنالٹی شوٹ آؤٹ پر شکست دے کر سب کو حیران کر دیا تھا۔ دوسری جانب کینیڈا فیفا رینکنگ میں 30 ویں نمبر پر ہے اور میزبان ملک ہونے کے باعث اسے براہِ راست ورلڈ کپ میں شرکت کا موقع ملا۔
کینیڈا کے لیے یہ ٹورنامنٹ خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ قومی ٹیم اب تک ورلڈ کپ کی تاریخ میں ایک بھی میچ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ کینیڈا نے اس سے قبل 1986 اور 2022 کے ورلڈ کپ میں شرکت کی تھی لیکن تمام چھ میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 1986 کے ورلڈ کپ میں کینیڈا ایک بھی گول نہ کر سکا تھا جبکہ 2022 کے ایڈیشن میں ٹیم نے تین میچوں میں صرف دو گول کیے تھے۔
بوسنیا و ہرزیگووینا کی ورلڈ کپ تاریخ بھی زیادہ طویل نہیں ہے۔ اس ملک نے اب تک صرف 2014 کے ورلڈ کپ میں شرکت کی تھی جہاں اس نے ایران کو 1-3 سے شکست دی تھی، تاہم ارجنٹینا اور نائجیریا کے خلاف شکستوں کے باعث اگلے مرحلے میں رسائی حاصل نہ کر سکی تھی۔
میچ سے قبل افتتاحی تقریب نے شائقین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ معروف کینیڈین گلوکارہ الانیس موریسیٹ نے قومی ترانہ پیش کیا جبکہ 43 ہزار نشستوں والے اسٹیڈیم میں سرخ جرسیوں میں ملبوس کینیڈین شائقین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ بوسنیا و ہرزیگووینا کے حامی بھی مختلف حصوں میں اپنی ٹیم کی حمایت کرتے دکھائی دیے۔
افتتاحی تقریب میں کینیڈا کی مقامی Indigenous برادریوں نے روایتی انداز میں شرکت کی اور تقریب کا آغاز کیا۔ بعد ازاں معروف فنکارہ الیسیا کارا، جیسی ریز، نورا فتحی اور ویجی ڈریم نے اپنی پرفارمنس کے ذریعے شائقین کا جوش بڑھایا۔ میدان کے وسط میں نصب سنہری فٹبال نے تقریب کو مزید یادگار بنا دیا۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 دنیا کا سب سے بڑا فٹبال ٹورنامنٹ ہے جس میں 48 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں اور مجموعی طور پر 104 میچ کھیلے جائیں گے۔ ٹورنامنٹ کی میزبانی امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔ کینیڈا میں ٹورنٹو اور وینکوور سمیت مختلف شہروں میں مجموعی طور پر 13 میچز منعقد ہوں گے۔
اب کینیڈا اپنی پہلی تاریخی ورلڈ کپ فتح کے حصول کے لیے 18 جون کو وینکوور کے بی سی پلیس اسٹیڈیم میں قطر کے خلاف میدان میں اترے گا۔ دوسری جانب بوسنیا و ہرزیگووینا کی ٹیم اسی روز امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں سوئٹزرلینڈ کا سامنا کرے گی۔
کینیڈین شائقین کو امید ہے کہ قومی ٹیم اگلے میچ میں کامیابی حاصل کرکے نہ صرف اپنی پہلی ورلڈ کپ جیت کا جشن منائے گی بلکہ ناک آؤٹ مرحلے کی دوڑ میں بھی مضبوط پوزیشن حاصل کرے گی۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

