ڈیلی ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق وفاقی آئینی عدالت نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے اس عدالت پر لاگو نہیں ہوتے۔

جسٹس عامر فاروق کا فیصلہ
جسٹس عامر فاروق نے نظرثانی اور اپیل کے اختیار سے متعلق آٹھ صفحات کے فیصلے میں کہا ہے کہ آئینی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلے کی پابند نہیں۔ تاہم سپریم کورٹ کے فیصلوں کی قانونی حیثیت رہنمائی کی حامل ہے۔
فیصلے کے مطابق جہاں سپریم کورٹ کے وضع کردہ قانونی اصول قابلِ قبول ہوں یا قانون اور آئین سے مطابقت رکھتے ہوں، وہاں ان پر عمل کیا جا سکتا ہے۔
آرٹیکل 199 کے مقدمات
عدالت کے مطابق آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹس کے فیصلوں اور احکامات کے خلاف اپیل سے متعلق سپریم کورٹ کے اصول آئینی عدالت کے لیے لازمی نہیں۔ البتہ آئینی عدالت سپریم کورٹ کے قانونی اصولوں اور عدالتی نظائر سے رہنمائی حاصل کر سکتی ہے۔
نظرثانی کا دائرہ
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حالیہ رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ درخواست گزار اور وکلا نظرثانی کو مقدمے پر دوبارہ بحث کا ایک اور موقع سمجھنے لگے ہیں۔
عدالت نے یاد دلایا کہ نظرثانی کی سماعت میں بینچ مقدمے کی دوبارہ سماعت نہیں کرتا، بلکہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ عدالتی ریکارڈ میں کوئی واضح غلطی یا خامی موجود تو نہیں۔
Source: Daily Express Urdu
Articles from this desk are produced with AI assistance from verified, attributed sources and published under StudioX News editorial standards. To report an error: studioxnews.ca/complaints/
