کینیڈا

گورڈی ہاؤ انٹرنیشنل برج معاہدہ: وزیر اعظم مارک کارنی کا دفاع

📷 There is no benefit in stopping oil supplies to the US: Canadian Prime Minister Mark Carney

گورڈی ہاؤ انٹرنیشنل برج معاہدہ: وزیر اعظم مارک کارنی کا دفاع، اپوزیشن نے پارلیمانی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا

پل کی آمدنی کی تقسیم کے نئے معاہدے پر سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا، حکومت کا مؤقف “یہ کینیڈا کے لیے اچھا معاہدہ ہے”

اوٹاوا: کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے گورڈی ہاؤ انٹرنیشنل برج (Gordie Howe International Bridge) کی آمدنی کی تقسیم سے متعلق امریکہ کے ساتھ طے پانے والے نئے اصولی معاہدے (Agreement in Principle) کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے اسے کینیڈا کے لیے ایک “بہترین معاہدہ” قرار دیا ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے معاہدے کی شرائط اور حکومت کی جانب سے عوام کو فراہم کی گئی معلومات پر سوالات اٹھاتے ہوئے پارلیمانی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔

یہ معاملہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا جب وفاقی حکومت نے رواں ہفتے امریکہ کے ساتھ ہونے والے اصولی معاہدے کا متن جاری کیا، جس میں گورڈی ہاؤ انٹرنیشنل برج سے حاصل ہونے والی آمدنی جمع کرنے اور اسے دونوں ممالک کے درمیان تقسیم کرنے کا طریقہ کار بیان کیا گیا ہے۔

مکمل سرمایہ کاری کینیڈا نے کی، مگر آمدنی کی تقسیم پر سوالات

گورڈی ہاؤ انٹرنیشنل برج کی تعمیر مکمل طور پر کینیڈا کے ٹیکس دہندگان کے سرمائے سے کی گئی تھی۔ اس منصوبے پر تقریباً 6.4 ارب کینیڈین ڈالر خرچ ہوئے، جس کی ادائیگی کینیڈا نے خود کی۔

تاہم، حکومت کی جانب سے جاری کردہ نئے معاہدے میں پل سے حاصل ہونے والی خالص آمدنی (Net Revenue) کا ایک حصہ امریکہ کے ساتھ شیئر کرنے کی شق شامل ہونے کے بعد سیاسی تنازع پیدا ہو گیا ہے۔

اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف ہے کہ معاہدے کی بعض شقیں وزیر اعظم مارک کارنی کے سابقہ بیانات سے مطابقت نہیں رکھتیں، جس کی وجہ سے حکومت کی شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

مارک کارنی کا دفاع

پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ میں کینیڈا کے صوبائی وزرائے اعلیٰ سے ملاقات کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ کینیڈا اور امریکی ریاست مشی گن کے درمیان بنیادی معاہدہ بدستور برقرار ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اس کے ساتھ ایک متوازی (Parallel) معاہدہ بھی طے پایا ہے، جس کے تحت امریکہ کے ساتھ بعض آمدنی شیئر کی جائے گی۔

مارک کارنی نے کہا:

“یہ ایک اچھا معاہدہ ہے۔ یہ کینیڈین کاروباری اداروں، محنت کشوں اور دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کی تجارت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔”

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معاہدے کا مقصد سرحدی تجارت کو مزید مضبوط بنانا اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

اپوزیشن نے تحقیقات کا مطالبہ کر دیا

حکومتی مؤقف کے برعکس اپوزیشن جماعتیں اس معاہدے سے مطمئن نہیں ہیں۔

پارلیمنٹ کی ہاؤس آف کامنز گورنمنٹ آپریشنز کمیٹی میں اپوزیشن ارکان نے معاہدے کی تفصیلات کا فوری جائزہ لینے اور تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

کنزرویٹو پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اور کمیٹی کے چیئرمین کیلی میک کالی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ اپوزیشن ارکان نے گورڈی ہاؤ برج معاہدے اور اس سے متعلق کینیڈین عوام کو دی گئی معلومات کی حقیقت جاننے کے لیے ہنگامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ اس معاملے پر غور کرنے کے لیے کمیٹی کا خصوصی اجلاس 29 جولائی کو طلب کیا گیا ہے تاکہ معاہدے کی تمام تفصیلات کا جائزہ لیا جا سکے۔

وزیر اعظم کے بیان اور معاہدے کے متن میں فرق؟

سیاسی تنازع کی بنیادی وجہ وزیر اعظم مارک کارنی کے سابقہ بیانات اور جاری کردہ معاہدے کے متن کے درمیان مبینہ تضاد ہے۔

16 جولائی کو مارک کارنی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ:

  • جب تک پل کی تعمیر پر آنے والا 6.4 ارب ڈالر کا قرض مکمل طور پر ادا نہیں ہو جاتا، اس وقت تک پل سے حاصل ہونے والے ٹول ٹیکس (Toll Revenue) میں سے امریکہ کو کوئی حصہ نہیں دیا جائے گا۔
  • اس کے بعد 15 سال تک حاصل ہونے والی خالص آمدنی دونوں ممالک کے درمیان تقسیم کی جائے گی۔

ان کے اس بیان سے یہ تاثر ملا تھا کہ پہلے کینیڈا اپنی پوری سرمایہ کاری واپس حاصل کرے گا، اس کے بعد ہی امریکہ کو آمدنی میں حصہ دیا جائے گا۔

معاہدے کی شقوں نے نئی بحث چھیڑ دی

تاہم حکومت کی جانب سے جاری کردہ اصولی معاہدے کے متن میں کہا گیا ہے کہ کینیڈا 15 سال تک پل اور سرحدی گزرگاہ سے حاصل ہونے والی خالص آمدنی کا 50 فیصد امریکہ کو ادا کرے گا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ معاہدے میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ “خالص آمدنی” کا تعین کس بنیاد پر کیا جائے گا، آپریٹنگ اخراجات میں کون سی مدات شامل ہوں گی، یا پل کی تعمیر پر آنے والے 6.4 ارب ڈالر کے قرض کا اس حساب میں کیا کردار ہوگا۔

اسی ابہام نے اپوزیشن کو حکومت پر تنقید کا موقع فراہم کیا ہے، جبکہ سیاسی مبصرین بھی معاہدے کی شفافیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

کاروباری حلقوں کی نظریں مذاکرات پر

تجارتی ماہرین کے مطابق گورڈی ہاؤ انٹرنیشنل برج شمالی امریکہ کی سب سے اہم سرحدی گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں سے ہر سال اربوں ڈالر کی تجارتی سرگرمیاں انجام پاتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان آمدنی کی تقسیم کا کوئی بھی فارمولا سرحدی تجارت کو مزید مستحکم کر سکتا ہے، لیکن معاہدے کی شرائط مکمل طور پر واضح ہونا ضروری ہیں تاکہ مستقبل میں کسی قسم کے قانونی یا مالیاتی تنازع سے بچا جا سکے۔

آئندہ کیا ہوگا؟

اب تمام نظریں 29 جولائی کو ہونے والے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس پر مرکوز ہیں، جہاں اپوزیشن ارکان حکومت سے معاہدے کی تفصیلات، آمدنی کی تقسیم کے فارمولے اور وزیر اعظم کے سابقہ بیانات سے متعلق وضاحت طلب کریں گے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر کمیٹی کی کارروائی کے دوران مزید متضاد معلومات سامنے آئیں تو یہ معاملہ نہ صرف پارلیمنٹ بلکہ کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعلقات کے تناظر میں بھی اہم سیاسی بحث کا موضوع بن سکتا ہے۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories