ایم این پی کنزیومر ڈیٹ انڈیکس نے کینیڈین شہریوں کی مالی مشکلات کی نئی تصویر پیش کر دی,تنخواہ آنے سے پہلے ہی آمدنی کا بڑا حصہ خرچ
کینیڈا میں مسلسل مہنگائی اور بڑھتے ہوئے مالی دباؤ نے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ تازہ ترین ایم این پی (MNP) کنزیومر ڈیٹ انڈیکس کے مطابق بڑی تعداد میں کینیڈین شہری ایسے ہیں جن کی تنخواہ بینک اکاؤنٹ میں آنے سے پہلے ہی اس کا زیادہ تر حصہ بلوں، قرضوں کی اقساط اور دیگر لازمی اخراجات کے لیے مختص ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال کے باعث شہریوں کو اپنے معیارِ زندگی میں کمی لانا پڑ رہی ہے، جسے ماہرین نے “لائف اسٹائل شرنک فلیشن” کا نام دیا ہے۔
تنخواہ آنے سے پہلے ہی آمدنی کا بڑا حصہ خرچ
مارکیٹ ریسرچ ادارے Ipsos کی جانب سے ایم این پی کے لیے کیے گئے سروے میں انکشاف ہوا کہ تقریباً 61 فیصد کینیڈین شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کی آمدنی کا کم از کم نصف حصہ تنخواہ ملنے سے پہلے ہی بلوں، قرضوں اور دیگر مستقل اخراجات کے لیے مختص ہو جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 32 فیصد افراد نے بتایا کہ ان کی تقریباً پوری تنخواہ پہلے ہی مختلف مالی ذمہ داریوں میں خرچ ہو جاتی ہے، جبکہ 16 فیصد شہری ایسے ہیں جنہوں نے اعتراف کیا کہ یا تو ان کی پوری تنخواہ پہلے سے خرچ ہو چکی ہوتی ہے یا ان کے اخراجات ان کی آئندہ آمدنی سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔
“لائف اسٹائل شرنک فلیشن” کیا ہے؟
ایم این پی لمیٹڈ کے صدر گرانٹ بازیان کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال نے لوگوں کو اپنی خواہشات اور غیر ضروری اخراجات محدود کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “لائف اسٹائل شرنک فلیشن” سے مراد یہ ہے کہ لوگ اپنی بنیادی ضروریات تو پوری کر رہے ہیں، لیکن سفر، تفریح، تقریبات، بچوں کی سرگرمیوں، خریداری اور دیگر آسائشوں پر خرچ کم کرتے جا رہے ہیں تاکہ مالی توازن برقرار رکھا جا سکے۔
ان کے مطابق شہری اب اپنی زندگی کے معیار میں بتدریج کمی لا رہے ہیں تاکہ قرضوں اور بڑھتے ہوئے اخراجات کا بوجھ سنبھال سکیں۔
سفر، تقریبات اور تفریح سب متاثر
رپورٹ کے مطابق مالی دباؤ کی وجہ سے 57 فیصد کینیڈین شہری اپنے سفری منصوبوں میں کمی کر رہے ہیں۔
اسی طرح:
- 56 فیصد افراد نے باہر کھانا کھانے کے اخراجات کم کر دیے ہیں۔
- 40 فیصد لوگ کنسرٹس، کھیلوں، فلموں، میلوں اور دیگر تقریبات میں جانا کم کر چکے ہیں۔
- 35 فیصد افراد نے ذاتی دیکھ بھال، کپڑوں اور بچوں کی سرگرمیوں پر خرچ محدود کر دیا ہے۔
- 37 فیصد شہریوں کا کہنا ہے کہ مالی دباؤ ان کی معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ رجحان صرف اخراجات تک محدود نہیں بلکہ سماجی تعلقات بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
سماجی تعلقات بھی مالی دباؤ کی زد میں
سروے کے مطابق:
- 28 فیصد افراد نے شادیوں، سالگرہ، تحائف اور دیگر تقریبات پر خرچ کم کر دیا ہے۔
- 21 فیصد لوگ اب پہلے کی نسبت اپنے گھر رشتہ داروں اور دوستوں کی دعوتیں بھی کم کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مالی مشکلات کا اثر صرف معیشت پر نہیں بلکہ خاندانی اور سماجی زندگی پر بھی واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے۔
ماہرین کی جانب سے اخراجات کم کرنے کے مشورے
البرٹا میں قائم غیر منافع بخش کریڈٹ کونسلنگ ادارے منی مینٹرز کی چیف ایگزیکٹو اسٹیسی یانچک اولیکسی کا کہنا ہے کہ معیارِ زندگی میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ تمام خوشیاں ختم کر دی جائیں بلکہ اخراجات کو دانشمندی سے ترتیب دیا جائے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر پہلے یورپ کی سیر کا منصوبہ بنتا تھا تو اب کینیڈا کے اندر ہی تعطیلات گزارنا بہتر ہو سکتا ہے، جبکہ اس سے بھی کم خرچ متبادل کے طور پر “اسٹے کیشن” اختیار کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے کریڈٹ کارڈ سے منسلک خودکار ادائیگیوں کا بھی جائزہ لیں، خصوصاً مختلف اسٹریمنگ سروسز کی رکنیت، جنہیں استعمال نہ کرنے کے باوجود لوگ ہر ماہ ادا کرتے رہتے ہیں۔
ان کے مطابق کئی کمپنیاں اس امید پر صارفین سے رقم وصول کرتی رہتی ہیں کہ لوگ رکنیت ختم کرنے کی زحمت نہیں کریں گے۔
قرضوں کی صورتحال میں معمولی بہتری
ایم این پی کنزیومر ڈیٹ انڈیکس کے مطابق اگرچہ مالی دباؤ برقرار ہے، تاہم گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں قرضوں کی مجموعی صورتحال میں معمولی بہتری دیکھی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کنزیومر ڈیٹ انڈیکس 87 پوائنٹس سے بڑھ کر 91 پوائنٹس تک پہنچ گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ شہری اپنی مالی صورتحال کے حوالے سے پہلے سے قدرے بہتر محسوس کر رہے ہیں۔
گرانٹ بازیان کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالات مکمل طور پر بہتر نہیں ہوئے، تاہم شہری اپنی مالی حقیقت کو سمجھتے ہوئے دانشمندانہ فیصلے کر رہے ہیں۔
“اب خریدیں، بعد میں ادائیگی کریں” سروسز میں اضافہ
دوسری جانب کینیڈین فِن ٹیک کمپنی KOHO کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران “بائے ناؤ، پے لیٹر” سروسز کے استعمال میں 109 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق زیادہ تر شہری ان سروسز کو روزمرہ اشیائے خور و نوش خصوصاً گروسری کے اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
کمپنی کی کنزیومر ٹرسٹ سربراہ فے لوکاس نے کہا کہ خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں شہریوں کی آمدنی سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جس کے باعث لوگ نہ صرف خریداری کے طریقے بلکہ ادائیگی کے ذرائع بھی تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
ماہرین کا مثبت پہلو بھی سامنے آیا
گرانٹ بازیان کے مطابق اگرچہ لوگ اپنی زندگی کے کئی شعبوں میں اخراجات کم کر رہے ہیں، لیکن اس کا ایک مثبت پہلو بھی موجود ہے۔
ان کے مطابق کینیڈین شہری اب غیر ضروری خرچ کم کر کے اپنی بنیادی ضروریات کو ترجیح دے رہے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ اپنی مالی صورتحال کو سمجھتے ہوئے ذمہ دارانہ فیصلے کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں یہی حکمتِ عملی شہریوں کو مالی استحکام کی جانب لے جا سکتی ہے، کیونکہ لوگ قرضوں میں مزید اضافہ کرنے کے بجائے اپنے اخراجات کو حقیقت پسندانہ انداز میں محدود کر رہے ہیں۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

