فنڈنگ کی کمی اور عالمی مسابقت میں اضافے نے کینیڈا کے اعلیٰ تعلیمی نظام کے لیے نئے چیلنجز کھڑے کر دیے
اوٹاوا: عالمی سطح پر اعلیٰ تعلیمی اداروں کی تازہ ترین درجہ بندی میں کینیڈا کی تقریباً تمام جامعات کی پوزیشن میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے ملک کے اعلیٰ تعلیمی نظام، تحقیقی سرگرمیوں اور سرکاری فنڈنگ کے حوالے سے کئی اہم سوالات جنم لے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں جامعات کے درمیان بڑھتی ہوئی مسابقت اور دیگر ممالک کی جانب سے تعلیم و تحقیق پر بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کے مقابلے میں کینیڈا کی جامعات مطلوبہ رفتار برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔
یہ درجہ بندی سینٹر فار ورلڈ یونیورسٹی رینکنگز (CWUR) کی جانب سے جاری کی گئی، جس میں دنیا بھر کی دو ہزار سے زائد ممتاز جامعات کی کارکردگی کا مختلف پیمانوں پر جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق کینیڈا کی 38 میں سے 37 جامعات گزشتہ سال کے مقابلے میں عالمی درجہ بندی میں نیچے چلی گئی ہیں، جبکہ صرف ایک جامعہ اپنی سابقہ پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔
یونیورسٹی آف ٹورنٹو بدستور ملک کی سرفہرست جامعہ
رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف ٹورنٹو ایک بار پھر کینیڈا کی بہترین جامعہ قرار پائی اور عالمی سطح پر اپنی 23ویں پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔ اگرچہ اس جامعہ نے اپنی درجہ بندی محفوظ رکھی، تاہم دیگر بڑی جامعات کو نمایاں تنزلی کا سامنا کرنا پڑا۔
مک گل یونیورسٹی گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک درجہ نیچے آ کر عالمی فہرست میں 28ویں نمبر پر پہنچ گئی، جبکہ یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا (UBC) بھی ایک درجہ تنزلی کے بعد 49ویں مقام پر آ گئی۔
اسی طرح یونیورسٹی آف البرٹا عالمی درجہ بندی میں 82ویں نمبر پر رہی، جبکہ یونیورسٹی آف مونٹریال نے 126واں مقام حاصل کیا۔
کینیڈا کی ٹاپ 10 جامعات
سی ڈبلیو یو آر کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق کینیڈا کی بہترین دس جامعات میں درج ذیل ادارے شامل ہیں:
- یونیورسٹی آف ٹورنٹو (23)
- مک گل یونیورسٹی (28)
- یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا (49)
- یونیورسٹی آف البرٹا (82)
- یونیورسٹی آف مونٹریال (126)
- ویسٹرن یونیورسٹی (187)
- مک ماسٹر یونیورسٹی (190)
- یونیورسٹی آف کیلگری (203)
- یونیورسٹی آف واٹرلو (216)
- یونیورسٹی آف اوٹاوا (226)
اگرچہ یہ تمام جامعات دنیا کی نمایاں جامعات میں شمار ہوتی ہیں، لیکن ان میں سے بیشتر کی عالمی درجہ بندی میں گزشتہ برس کے مقابلے میں کمی دیکھی گئی، جس نے ماہرین تعلیم کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
فنڈنگ کی کمی بنیادی وجہ قرار
سینٹر فار ورلڈ یونیورسٹی رینکنگز کے صدر ڈاکٹر ندیم مہاسن نے کہا کہ کینیڈا کی جامعات کی مسلسل تنزلی کئی برسوں سے جاری ناکافی سرکاری فنڈنگ اور تعلیم و سائنسی تحقیق کو مطلوبہ ترجیح نہ دیے جانے کا نتیجہ ہے۔
ان کے مطابق دنیا کے کئی ممالک اپنی جامعات میں تحقیق، جدید لیبارٹریوں، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، اختراعی منصوبوں اور بین الاقوامی اساتذہ و طلبہ کو راغب کرنے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جبکہ کینیڈا کی جامعات محدود وسائل کے ساتھ مقابلہ کرنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مستقبل میں عالمی درجہ بندی میں کینیڈا کی پوزیشن مزید متاثر ہو سکتی ہے۔
تحقیق اور باصلاحیت افراد کو برقرار رکھنے میں مشکلات
ڈاکٹر ندیم مہاسن کا کہنا تھا کہ محدود مالی وسائل کی وجہ سے کینیڈا کی جامعات کو اعلیٰ معیار کی تحقیق جاری رکھنے، جدید تحقیقی منصوبوں پر کام کرنے اور عالمی شہرت یافتہ اساتذہ و سائنس دانوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ باصلاحیت محققین اور نوجوان سائنس دان ان ممالک کا رخ کر رہے ہیں جہاں تحقیق کے لیے بہتر سہولیات، زیادہ فنڈنگ اور طویل المدتی مواقع دستیاب ہیں۔
اسی طرح بین الاقوامی طلبہ بھی اب ان جامعات کو ترجیح دے رہے ہیں جہاں تحقیق، سہولیات اور جدید تعلیمی انفراسٹرکچر زیادہ مضبوط ہو۔
یہ صرف تعلیمی نہیں، قومی مسئلہ بھی ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ جامعات کی عالمی درجہ بندی میں کمی کو صرف تعلیمی مسئلہ نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ اس کے اثرات معیشت، صنعت، سائنسی ترقی اور قومی مسابقت پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر مہاسن کے مطابق مضبوط جامعات ہی مستقبل کے سائنس دان، انجینئر، ڈاکٹر، محققین اور کاروباری رہنما تیار کرتی ہیں۔ اگر اعلیٰ تعلیم کا نظام کمزور ہوگا تو اس کے اثرات ملک کی اختراعی صلاحیت، نئی ٹیکنالوجیز کی تیاری اور اقتصادی ترقی پر بھی پڑیں گے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اعلیٰ تعلیم میں سرمایہ کاری کو اخراجات نہیں بلکہ مستقبل میں سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
حکومت کے لیے پالیسی سازی کا اہم وقت
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ رپورٹ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے لیے ایک واضح اشارہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری کی جائے۔ ان کے مطابق اگر جامعات کو جدید تحقیقی سہولیات، مناسب مالی وسائل اور بین الاقوامی تعاون فراہم کیا جائے تو کینیڈا دوبارہ عالمی تعلیمی میدان میں اپنی مضبوط پوزیشن حاصل کر سکتا ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ مستقبل میں سائنسی ترقی، مصنوعی ذہانت، صحت، ماحولیات اور جدید صنعتوں میں عالمی قیادت برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ کینیڈا اپنی جامعات کو مزید مضبوط، خودمختار اور مالی طور پر مستحکم بنائے تاکہ وہ عالمی معیار کی تعلیم اور تحقیق فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

