امریکہ کے نئے سیکشن 301 ٹیرف پر کینیڈا کا ردعمل، جبری مشقت کے خلاف مشترکہ مقصد پر زور
وزیر ڈومینک لی بلانک کا کہنا ہے کہ امریکہ کا اقدام غیر متوقع نہیں، کینیڈا سپلائی چین سے جبری مشقت سے تیار اشیا کے خاتمے کے لیے پرعزم
اوٹاوا: کینیڈا کے وزیر برائے کینیڈا-امریکہ تجارت، بین الحکومتی امور، داخلی تجارت اور ون کینیڈین اکانومی ڈومینک لی بلانک نے امریکہ کی جانب سے سیکشن 301 کے تحت کینیڈا سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام اگرچہ امریکہ کی یکطرفہ تجارتی پالیسیوں کا حصہ ہے، تاہم کینیڈا کے لیے غیر متوقع نہیں تھا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ پہلے ہی اشارہ دے چکا تھا کہ وہ 1974 کے تجارتی قانون کی سیکشن 122 کے تحت نافذ عالمی بنیادی ٹیرف کی مدت ختم ہونے کے بعد نیا ٹیرف نظام متعارف کرائے گا۔
وزیر لی بلانک نے کہا کہ نئے سیکشن 301 ٹیرف میں امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت ہونے والی تجارت کو استثنا حاصل رہے گا، جبکہ بعض مخصوص مصنوعات بھی پہلے کی طرح اس ٹیرف سے مستثنیٰ ہوں گی۔ انہوں نے بتایا کہ کینیڈا اور چند دیگر ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے، جبکہ باقی ممالک پر 12.5 فیصد ٹیرف نافذ ہوگا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کینیڈا بھی امریکہ کے اس مؤقف سے اتفاق کرتا ہے کہ جبری مشقت سے تیار کی جانے والی مصنوعات کو سپلائی چین کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ ان کے مطابق کینیڈا کے پاس جبری مشقت کی روک تھام کے لیے دنیا کے مضبوط ترین قانونی اور نفاذی نظاموں میں سے ایک موجود ہے، جسے مزید مؤثر بنانے کے لیے حکومت مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔
وزیر نے بتایا کہ گزشتہ ماہ حکومت نے جبری مشقت کے خلاف قوانین کے نفاذ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نئی قانون سازی بھی متعارف کرائی ہے۔
ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ کینیڈا آئندہ ہفتوں میں اس معاملے اور دیگر تجارتی امور پر امریکہ کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا تاکہ دونوں ممالک کے شہریوں کے مشترکہ مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.




