کینیڈا کی سرکاری ڈاک سروس “کینیڈا پوسٹ” نے مالی سال 2025 کے دوران اپنے ایگزیکٹوز، منیجرز اور دیگر انتظامی ملازمین کو مجموعی طور پر 3 کروڑ 8 لاکھ کینیڈین ڈالر مالیت کے کارکردگی پر مبنی بونس ادا کیے
اوٹاوا: کینیڈا کی سرکاری ڈاک سروس “کینیڈا پوسٹ” نے مالی سال 2025 کے دوران اپنے ایگزیکٹوز، منیجرز اور دیگر انتظامی ملازمین کو مجموعی طور پر 3 کروڑ 8 لاکھ کینیڈین ڈالر مالیت کے کارکردگی پر مبنی بونس ادا کیے، حالانکہ اسی سال ادارے کو اپنی تاریخ کے سب سے بڑے مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس فیصلے کے بعد حکومت، عوامی نمائندوں اور ٹیکس دہندگان کی جانب سے شدید تنقید سامنے آ رہی ہے۔
کینیڈا پوسٹ نے رواں سال اپریل میں جاری کردہ اپنی مالیاتی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ادارے کو 2025 کے دوران ٹیکس سے قبل ایک ارب 57 کروڑ کینیڈین ڈالر کا ریکارڈ خسارہ ہوا۔ ادارے نے اس خسارے کی ایک بڑی وجہ مزدور یونینوں کے ساتھ جاری تنازعات، ہڑتالوں اور آپریشنل غیر یقینی صورتحال کو قرار دیا تھا۔
اس مالی بحران کے پیش نظر وفاقی حکومت نے مئی 2026 میں کینیڈا پوسٹ کو 67 کروڑ 30 لاکھ کینیڈین ڈالر تک کی مالی معاونت فراہم کی تاکہ ادارہ آئندہ سال مارچ تک اپنے روزمرہ اخراجات اور آپریشنز جاری رکھ سکے۔
اس کے باوجود رواں سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں بھی کینیڈا پوسٹ نے ٹیکس سے قبل مزید 20 کروڑ 50 لاکھ کینیڈین ڈالر خسارے کی اطلاع دی۔
تقریباً سات ہزار ملازمین کو بونس دیا گیا
گلوبل نیوز کو بھیجے گئے اپنے تحریری بیان میں کینیڈا پوسٹ کے ترجمان نے بتایا کہ ادارے میں انتظامی سطح پر مجموعی طور پر 2,377 ملازمین کام کرتے ہیں، جن میں 417 ایگزیکٹو سطح کے افسران شامل ہیں۔
ادارے کے مطابق یہ انتظامی عملہ مجموعی لیبر اخراجات کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ بنتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ کارکردگی پر مبنی بونس پروگرام کے تحت تقریباً سات ہزار ملازمین کو ادائیگیاں کی گئیں۔
کینیڈا پوسٹ کے مطابق ان میں صرف اعلیٰ افسران ہی شامل نہیں بلکہ پوسٹل کلرکس، فرنٹ لائن سپروائزرز، رہائشی سہولتوں کے ماہرین اور دیگر انتظامی عملہ بھی شامل ہے، جو ادارے کی تبدیلی کے عمل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
ادارے نے مزید بتایا کہ ان ملازمین میں سے تقریباً دو تہائی افراد کے لیے یہ بونس پروگرام کئی برسوں سے اجتماعی معاہدوں (Collective Agreements) کا حصہ ہے، اس لیے اس کی ادائیگی پہلے سے طے شدہ نظام کے تحت کی گئی۔
“ہم عوامی ردعمل کو سمجھتے ہیں”
کینیڈا پوسٹ نے تسلیم کیا کہ شدید مالی خسارے کے باوجود بونس کی ادائیگی پر عوامی ردعمل فطری ہے۔
بیان میں کہا گیا:
“ہم اپنی مالی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اس فیصلے کے تاثر اور عوامی خدشات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔”
ادارے نے وضاحت کی کہ یہ ادائیگیاں پہلے سے موجود معاوضہ جاتی نظام کے تحت کی گئی ہیں اور ان کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے دی گئی عبوری مالی امداد استعمال نہیں کی گئی۔
بیان کے مطابق بونس کی رقم کینیڈا پوسٹ کی اپنی آمدنی سے ادا کی گئی جبکہ حکومتی قرض صرف ادارے کے بنیادی آپریشنز جاری رکھنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ادارے کی تبدیلی کے لیے تجربہ کار عملہ ضروری قرار
کینیڈا پوسٹ نے اپنے مؤقف میں کہا کہ ادارہ اس وقت اپنی تاریخ کے سب سے بڑے تنظیمی اور آپریشنل اصلاحاتی عمل سے گزر رہا ہے، جس کے لیے تجربہ کار اور باصلاحیت انتظامی عملے کو برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔
ترجمان نے کہا کہ یہ ایک طویل المدتی منصوبہ ہے جس کا مقصد ڈاک کی خدمات کو جدید خطوط پر استوار کرنا، صارفین کو بہتر سہولت فراہم کرنا اور ادارے کو دوبارہ مالی طور پر مستحکم بنانا ہے۔
ادارے نے دعویٰ کیا کہ یہی اصلاحات مستقبل میں اسے حکومتی قرض واپس کرنے کے قابل بنائیں گی۔
ٹیکس دہندگان کی تنظیم نے اعتراض اٹھا دیا
دوسری جانب کینیڈین ٹیکس پیئرز فیڈریشن (Canadian Taxpayers Federation) نے اس معاملے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ خسارے کے باوجود کروڑوں ڈالر کے بونس دینا عوام کے اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے۔
تنظیم نے اس حوالے سے وہ دستاویزات منظرعام پر لائیں جو کینیڈا پوسٹ نے 9 جولائی کو ہاؤس آف کامنز کی قائمہ کمیٹی برائے گورنمنٹ آپریشنز اینڈ ایسٹی میٹس کے سامنے جمع کرائی تھیں۔
فیڈریشن کا کہنا ہے کہ جب ایک سرکاری ادارہ مسلسل مالی خسارے میں ہو اور اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے حکومت سے اربوں ڈالر کی امداد حاصل کر رہا ہو تو اس کے اعلیٰ افسران کو کارکردگی بونس دینا عوامی مفاد کے خلاف ہے۔
سیاسی اور عوامی بحث میں شدت
اس معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد سیاسی حلقوں میں بھی بحث شروع ہو گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ادارہ مسلسل خسارے میں جا رہا ہے تو پھر کارکردگی کی بنیاد پر بونس دینے کا جواز سمجھ سے بالاتر ہے۔
دوسری جانب کینیڈا پوسٹ کا مؤقف ہے کہ ادارے کی اصلاحات اور مستقبل کی بحالی کے لیے انتظامی ٹیم کو برقرار رکھنا ضروری ہے اور بونس پروگرام اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
اب یہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں بھی زیر غور ہے، جہاں ارکان اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا سرکاری مالی امداد حاصل کرنے والے اداروں میں اس نوعیت کے بونس پروگراموں پر مزید نگرانی اور شفافیت کی ضرورت ہے یا نہیں۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

