صاف توانائی کے فروغ اور جدید بجلی کے نظام کے لیے وفاقی سرمایہ کاری
اوٹاوا: کینیڈا کی وفاقی حکومت نے البرٹا اور سسکیچیوان میں صاف توانائی کے شعبے کو فروغ دینے اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے کے لیے 17 مختلف منصوبوں کی مالی معاونت کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کے مطابق ان منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 2 کروڑ 60 لاکھ کینیڈین ڈالر فراہم کیے جائیں گے تاکہ ملک کے توانائی کے نظام کو زیادہ مضبوط، پائیدار اور ماحول دوست بنایا جا سکے۔
وفاقی وزیر توانائی نے ہفتے کے روز جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ سرمایہ کاری کینیڈا کے توانائی کے شعبے کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ ان کے مطابق صاف توانائی کی پیداوار میں اضافہ، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور بجلی کے بہتر ترسیلی نظام کی تشکیل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں، تاکہ آنے والے برسوں میں بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت ایسے منصوبوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے جو نہ صرف ماحول پر مثبت اثرات مرتب کریں بلکہ مقامی معیشت کو بھی مضبوط بنائیں، روزگار کے نئے مواقع پیدا کریں اور توانائی کی پیداوار کو زیادہ محفوظ اور قابل اعتماد بنائیں۔
شمسی، ہوا، توانائی ذخیرہ کرنے اور مقامی منصوبوں پر خصوصی توجہ
وفاقی حکومت کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق اس فنڈنگ کے ذریعے تقریباً 10 بڑے منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ ان منصوبوں میں بجلی ذخیرہ کرنے کی جدید سہولیات، شمسی توانائی کے منصوبے، ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبے، صوبوں کے درمیان بجلی کی ترسیل کے نظام کی منصوبہ بندی، مقامی اور دیسی آبادیوں کی قیادت میں صاف توانائی کے منصوبے، اور توانائی کے شعبے سے وابستہ افرادی قوت کی تربیت شامل ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کا مقصد صرف نئی بجلی پیدا کرنا نہیں بلکہ ایسے جدید نظام تشکیل دینا بھی ہے جو مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی توانائی کو مؤثر انداز میں ذخیرہ اور تقسیم کر سکیں۔ اس سے بجلی کی فراہمی میں استحکام پیدا ہوگا اور مستقبل میں توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنا آسان ہوگا۔
2050 تک بجلی کی استعداد دوگنا کرنے کا ہدف
وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ حکومت کی طویل مدتی حکمت عملی کے تحت کینیڈا کے قومی بجلی کے نظام کو مزید مربوط اور مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کا ایک اہم مقصد 2050 تک ملک کی بجلی پیدا کرنے اور تقسیم کرنے کی مجموعی استعداد کو دوگنا کرنا ہے۔
ان کے مطابق جیسے جیسے آبادی میں اضافہ ہوگا، برقی گاڑیوں کا استعمال بڑھے گا اور صنعتوں میں بجلی پر انحصار زیادہ ہوگا، ویسے ویسے توانائی کی طلب بھی نمایاں طور پر بڑھے گی۔ اس لیے ضروری ہے کہ آج ہی ایسے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی جائے جو مستقبل میں سستی، قابل اعتماد اور ماحول دوست بجلی کی فراہمی کو یقینی بنا سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جدید توانائی کے نظام سے صارفین کو بہتر خدمات میسر آئیں گی، بجلی کی بندش کے امکانات کم ہوں گے اور ملک کی مجموعی توانائی کی سلامتی میں اضافہ ہوگا۔
کاربن کے اخراج میں کمی اور ماحول کا تحفظ
وفاقی حکومت کے مطابق ان منصوبوں کا ایک اہم مقصد گرین ہاؤس گیسوں اور کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی لانا بھی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ صاف توانائی کے ذرائع کو فروغ دے کر روایتی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے گا، جس سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی اور کینیڈا اپنے موسمیاتی اہداف کے حصول کے قریب پہنچے گا۔
وزیر توانائی نے کہا کہ کینیڈا کے پاس قدرتی وسائل، جدید ٹیکنالوجی اور باصلاحیت افرادی قوت موجود ہے، جس کی بدولت ملک صاف توانائی کے شعبے میں عالمی قیادت حاصل کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ معاشی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ دونوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھا جائے۔
توانائی کو قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا گیا
وفاقی وزیر نے اپنے بیان میں کہا کہ توانائی کینیڈا کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے اس وعدے پر عمل کر رہی ہے کہ کینیڈا کو توانائی کے شعبے میں عالمی سطح پر ایک مضبوط اور قابل اعتماد ملک بنایا جائے۔
ان کے مطابق صاف توانائی میں سرمایہ کاری نہ صرف ماحول کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ اس سے نئی صنعتیں فروغ پائیں گی، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور ہزاروں نئی ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسے منصوبوں کی سرپرستی جاری رکھے گی جو طویل مدت میں ملکی معیشت کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں۔
پائپ لائن منصوبے کے اعلان کے بعد نئی پیش رفت
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل البرٹا حکومت نے مغربی ساحلی پائپ لائن کے ایک بڑے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔
البرٹا کی وزیر اعلیٰ نے جمعہ کو بتایا تھا کہ صوبائی حکومت وفاقی ملکیتی پائپ لائن کمپنی اور کیلگری میں قائم ایک نجی کمپنی کے اشتراک سے نئی مغربی ساحلی پائپ لائن کی تعمیر اور آپریشن کا منصوبہ شروع کر رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی پائپ لائن موجودہ راستے کے ساتھ تعمیر کی جائے گی۔ منصوبے کے تحت یہ پائپ لائن البرٹا کے علاقے بروڈرہائم، جو ایڈمنٹن کے شمال مشرق میں واقع ہے، سے شروع ہو کر برٹش کولمبیا کے شہر ڈیلٹا تک جائے گی، جہاں سے خام تیل بحری جہازوں کے ذریعے ایشیائی منڈیوں تک پہنچایا جائے گا۔
اس منصوبے کے ذریعے روزانہ 10 لاکھ بیرل سے زائد خام تیل کی ترسیل متوقع ہے، جس سے کینیڈا کی برآمدات اور توانائی کے شعبے کو مزید تقویت ملنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
ماہرین کی رائے
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے صاف توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری اور دوسری جانب توانائی کی ترسیل کے بڑے منصوبوں پر کام، دونوں اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کینیڈا مستقبل میں توانائی کے مختلف ذرائع کو متوازن انداز میں فروغ دینا چاہتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبے مقررہ وقت پر مکمل ہو جاتے ہیں تو نہ صرف ملک میں صاف توانائی کی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ صنعتی ترقی، روزگار کے مواقع اور عالمی منڈی میں کینیڈا کی مسابقتی صلاحیت بھی مزید بہتر ہو سکے گی۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

