برٹش کولمبیا کی صوبائی حکومت اور سٹی آف ڈیلیٹا نے فریزر دریا کے کنارے راکھ بکھیرنے کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص جگہ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ڈیلیٹا (برٹش کولمبیا):برٹش کولمبیا کی صوبائی حکومت اور سٹی آف ڈیلیٹا نے فریزر دریا کے کنارے راکھ بکھیرنے کے لیے ایک باقاعدہ اور مخصوص جگہ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے جس کا مقصد مختلف ثقافتی اور مذہبی روایات کے مطابق آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے ایک باوقار اور مناسب مقام فراہم کرنا ہے۔
کمیونٹی کی دیرینہ ضرورت پوری
حکام کے مطابق، خاص طور پر جنوبی ایشیائی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کو گزشتہ کئی برسوں سے اپنے عزیزوں کی راکھ بکھیرنے کے لیے بیرونِ ملک سفر کرنا پڑتا تھا یا راکھ کو دوسرے ممالک منتقل کرنا پڑتا تھا۔ اس نئی سہولت کے قیام سے اب لوگوں کو یہ موقع میسر ہوگا کہ وہ اپنے پیاروں کی آخری رسومات مقامی سطح پر ہی اپنے مذہبی اور ثقافتی طریقوں کے مطابق ادا کر سکیں۔اٹارنی جنرل نکی شرما نے کہا کہ یہ اقدام ایک اہم ضرورت کو پورا کرے گا اور خاندانوں کو ایک ایسا مقام فراہم کرے گا جہاں وہ سکون اور احترام کے ساتھ اپنے عزیزوں کو یاد کر سکیں
۔منصوبے کی تفصیلات
ہ نیا مقام فریزر ویو پوائنٹ پر قائم کیا جا رہا ہے جو ٹلبری لینڈ میں واقع ہے۔ اس منصوبے کے تحت موجودہ پارک کو مزید بہتر بنایا جائے گا اور وہاں ایک مخصوص جگہ مختص کی جائے گی جہاں راکھ کو باعزت طریقے سے دریا میں بکھیرنے کی اجازت ہوگی۔پارک میں پہلے سے موجود باغیچہ اور بیٹھنے کی سہولت کو بھی مزید بہتر بنایا جائے گا، جبکہ دریا تک محفوظ رسائی کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ہر عمر کے افراد آسانی سے اس جگہ تک پہنچ سکیں۔شہری حکومت کی سرمایہ کاریسٹی آف ڈیلیٹا اس منصوبے کے لیے تقریباً 2 لاکھ 25 ہزار ڈالر تک کی رقم خرچ کرے گا۔ اس سرمایہ کاری کا مقصد پارک کی سہولیات کو بہتر بنانا، رسائی کو آسان بنانا اور اس جگہ کو ایک باوقار عوامی مقام میں تبدیل کرنا ہے۔ڈیلیٹا کے میئر جارج ہاروی نے کہا کہ یہ منصوبہ شہر کی متنوع آبادی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جگہ نہ صرف ایک سہولت فراہم کرے گی بلکہ مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کو بھی فروغ دے گی۔
کمیونٹی کی جانب سے مثبت ردعمل
کمیونٹی رہنماؤں نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔ خالصہ دیوان سوسائٹی وینکوور کے صدر رنجیت ہائر نے کہا کہ یہ منصوبہ نہایت اہمیت کا حامل ہے اور اس سے مختلف مذاہب کے لوگوں کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اب لوگوں کے پاس ایک باقاعدہ جگہ ہوگی جہاں وہ اپنے عزیزوں کی آخری رسومات احترام کے ساتھ ادا کر سکیں گے۔
رہنما اصول اور مستقبل کی منصوبہ بندی
صوبائی حکومت نے دیگر بلدیاتی اداروں کے لیے بھی رہنما اصول جاری کیے ہیں تاکہ وہ اپنی اپنی کمیونٹیز میں اسی نوعیت کے مقامات قائم کر سکیں۔ ان ہدایات میں ماحولیاتی تحفظ، ثقافتی حساسیت اور عوامی سہولیات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ڈیلیٹا نارتھ کے رکن اسمبلی روی کہلون نے کہا کہ یہ منصوبہ اس بات کی بہترین مثال ہے کہ کس طرح عوامی مقامات کو مختلف ثقافتی ضروریات کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب لوگوں کو اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے کے لیے بیرونِ ملک جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
ایک باوقار اور جامع قدم
یہ منصوبہ نہ صرف ایک عملی سہولت فراہم کرے گا بلکہ ایک ایسا ماحول بھی تشکیل دے گا جہاں لوگ سکون، احترام اور وقار کے ساتھ اپنے پیاروں کو یاد کر سکیں۔ حکام کے مطابق، مستقبل میں ایسے مزید مقامات کے قیام کے لیے دیگر شہروں کے ساتھ بھی تعاون کیا جائے گا تاکہ ہر کمیونٹی کو اپنی روایات کے مطابق آخری رسومات ادا کرنے کا موقع مل سکے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

