کینیڈا

آبنائے ہرمز میں ایرانی حملے ناقابلِ قبول، کینیڈا کا سخت ردِعمل

📷 Canada Condemns Iranian Attacks in the Strait of Hormuz as Unacceptable(Instant Image)

کینیڈا خلیجی ممالک کے ساتھ کھڑا ہے اور شہری جہازوں کو نشانہ بنانے کے اقدامات کی سخت مذمت کرتا ہے۔

جدہ: کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ایران کے حالیہ حملوں کو “ناقابلِ قبول” اور “بلا جواز” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کینیڈا خلیجی ممالک کے ساتھ کھڑا ہے اور شہری جہازوں کو نشانہ بنانے کے اقدامات کی سخت مذمت کرتا ہے۔

تجارتی جہازوں پر حملوں کی مذمت

سعودی عرب کے شہر جدہ میں سعودی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انیتا آنند نے کہا کہ اگرچہ جنگ بندی کے معاہدے ہمیشہ نازک ہوتے ہیں، لیکن ایران کے لیے شہری اہداف کو نشانہ بنانے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

انہوں نے کہا کہ جون میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے 60 روزہ جنگ بندی معاہدے کے باوجود تجارتی جہازوں پر حملے نہ صرف ناقابلِ قبول ہیں بلکہ عالمی قوانین اور طے شدہ مفاہمت کی بھی خلاف ورزی ہیں۔

انیتا آنند نے کہا کہ ایران کے حملے مکمل طور پر غیر منصفانہ اور بلا جواز ہیں اور عالمی برادری کو ان پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔

امریکی حکام کا دعویٰ

امریکی حکام کے مطابق ایران نے پیر اور منگل کے روز آبنائے ہرمز میں گزرنے والے تین بحری جہازوں پر میزائل داغے، جن میں قطر کا مائع قدرتی گیس لے جانے والا جہاز اور سعودی عرب کا ایک تیل بردار ٹینکر بھی شامل تھا۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔

امریکا اور ایران میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی

جہازوں پر حملوں کے بعد امریکا نے ایران کے خلاف نئے فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں تہران نے کویت اور قطر میں امریکی اہداف پر حملے کیے۔

اس نئی کشیدگی نے جون میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ یہ معاہدہ اس جنگ کو روکنے کے لیے کیا گیا تھا، جو امریکا نے فروری میں ایران کے خلاف شروع کی تھی۔

مارک کارنی کا ردِعمل

کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے بدھ کے روز ترکی میں ہونے والے نیٹو اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے رویے کو “غیر ذمہ دارانہ” قرار دیا۔

انہوں نے امریکی ردِعمل کو “مناسب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈا اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

جمعرات کو جدہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران مارک کارنی سے سوال کیا گیا کہ یہ جنگ عالمی معیشت کو مزید کتنا نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ کینیڈا اس وقت اپنی داخلی معیشت کو مضبوط بنانے اور تجارتی مواقع میں توسیع پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ممالک بہتر کارکردگی دکھائیں گے جو ان معاملات پر توجہ دیں گے جن پر ان کا کنٹرول ہے، چاہے دنیا کے دوسرے حصوں میں حالات کتنے ہی پیچیدہ کیوں نہ ہوں۔

جنگ بندی کے مستقبل پر خدشات

مارک کارنی نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مفاہمتی معاہدے میں اب بھی کئی ابہامات موجود ہیں، تاہم طویل المدتی جنگ بندی کا امکان مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک بالآخر کشیدگی میں کمی اور امن کے راستے کی طرف واپس آ سکتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا سخت مؤقف

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایرانی حملوں کے بعد جنگ بندی عملاً ختم ہو چکی ہے۔

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ ایران کے ساتھ مزید بات چیت نہیں کرنا چاہتے۔

ٹرمپ نے کہا، “میں ان سے کوئی معاملہ نہیں کرنا چاہتا۔ ہم نے کہا تھا کہ اپنے سوگ اور آخری رسومات مکمل کرو، لیکن اس کے بجائے انہوں نے جہازوں پر راکٹ برسانا شروع کر دیے۔”

ایران میں احتجاج اور مزید حملوں کی اطلاعات

اس ہفتے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے موقع پر لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ سرکاری سرپرستی میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں ایسے بینرز بھی دیکھے گئے جن پر انگریزی زبان میں “ہم ٹرمپ کو قتل کریں گے” جیسے نعرے درج تھے۔

ادھر نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے ایران کے خلاف امریکی کارروائی کو “ضروری” اور “انتہائی مضبوط ردِعمل” قرار دیا۔

دوسری جانب ایک ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا نے جمعرات کے روز ایران کے واحد جوہری بجلی گھر کے اطراف کے علاقے پر فضائی حملہ کیا، جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں دھماکوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

عالمی معیشت پر اثرات

آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے باعث رواں سال تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ان حملوں نے نہ صرف توانائی کی منڈیوں کو متاثر کیا بلکہ کھاد سمیت کئی اہم اشیائے ضروریہ کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔

کینیڈا کی ممکنہ مدد

وزیر خارجہ انیتا آنند نے کہا کہ مستقل جنگ بندی کے قیام کے بعد کینیڈا آبنائے ہرمز کی سلامتی کے لیے تعاون فراہم کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈا بارودی سرنگوں کی صفائی اور دیگر تکنیکی مہارتوں کے ذریعے خطے کی مدد کر سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب میں موجودگی اور مقامی قیادت سے ملاقاتوں کے دوران انہیں یہ احساس ہوا کہ خلیجی ممالک مشکل وقت میں کینیڈا کو ایک قابلِ اعتماد اور معاون شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں۔

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories