کینیڈا

کینیڈین وزیرِ اعظم مارک کارنی کا سعودی عرب کا دورہ، توانائی اور معدنیات میں شراکت داری بڑھانے پر اتفاق

📷 Canadian Prime Minister Mark Carney's Visit to Saudi Arabia(Image credit to SocialMedia)

پچیس برس سے زائد عرصے بعد کینیڈین وزیرِ اعظم کا سعودی عرب کا سرکاری دورہ

ریاض: کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے سعودی عرب کا تاریخی دورہ کیا ہے، جو پچیس برس سے زائد عرصے میں کسی کینیڈین وزیرِ اعظم کا پہلا سرکاری دورہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان توانائی، معدنیات، مصنوعی ذہانت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔

مارک کارنی کا یہ دورہ ترکی میں نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کے فوراً بعد سامنے آیا ہے۔ وہ ایسے وقت میں سعودی عرب پہنچے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کردہ ٹیرف کے باعث کینیڈین معیشت دباؤ کا شکار ہے اور اوٹاوا اپنی تجارتی شراکت داری کو مزید متنوع بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

کان کنی، توانائی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تعاون

کینیڈین وزیرِ اعظم کے دفتر کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کان کنی، توانائی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تعاون کے حوالے سے متعدد معاہدوں پر اتفاق ہوا ہے، جنہیں آئندہ سال حتمی شکل دی جائے گی۔

کینیڈا اور سعودی عرب نے مجموعی طور پر 13 نئے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کیے، جن میں صحت، دفاع، توانائی اور اقتصادی تعاون سمیت مختلف شعبے شامل ہیں۔ ان معاہدوں کی مجموعی مالیت تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر بتائی جا رہی ہے۔

سعودی عرب میں کینیڈین سرمایہ کاری کے نئے مواقع

معاہدوں کے تحت کینیڈین کمپنیوں کو سعودی عرب میں معدنیات اور صاف توانائی کے منصوبوں کی ترقی میں حصہ لینے کے مواقع حاصل ہوں گے۔ دونوں ممالک نے قابلِ تجدید توانائی اور پائیدار اقتصادی ترقی کے شعبوں میں بھی مشترکہ تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔

دورے کے دوران وزیرِ اعظم مارک کارنی نے سعودی آرامکو کے سربراہ امین ناصر سے بھی ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے توانائی کے مختلف منصوبوں پر تبادلۂ خیال کیا۔

کینیڈین وزیرِ اعظم کے دفتر کے مطابق دونوں ممالک مائع قدرتی گیس (ایل این جی)، ہائیڈروجن اور کاربن کیپچر و اسٹوریج سے متعلق معاہدوں پر بھی کام کر رہے ہیں۔

کینیڈین پنشن فنڈز کی سعودی سرمایہ کاری میں دلچسپی

مارک کارنی نے اس موقع پر کہا کہ وہ کینیڈا کے بڑے پنشن فنڈز کے ایک وفد کی قیادت بھی کریں گے تاکہ سعودی عرب کے توانائی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔

کینیڈین حکومت کا ماننا ہے کہ سعودی عرب کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت اور وژن 2030 کے تحت جاری اصلاحات کینیڈین سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع فراہم کر سکتی ہیں۔

ولی عہد محمد بن سلمان سے اہم ملاقات

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کے دوران مارک کارنی نے دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم شراکت داریوں کو وسعت دینے کے لیے معاہدوں پر دستخط کیے۔

یہ پیش رفت کئی برس تک کشیدہ رہنے والے تعلقات میں نمایاں بہتری کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔

انسانی حقوق کے معاملات پر تعلقات میں کشیدگی

سابق کینیڈین وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو کے دور میں دونوں ممالک کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہو گئے تھے۔ ٹروڈو حکومت نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے ساتھ سلوک پر تنقید کی تھی، جن میں سعودی مصنف رائف بدوی اور ان کی بہن سمر بدوی بھی شامل تھے۔

اس تنقید کے جواب میں سعودی عرب نے 2018 میں کینیڈین سفیر کو ملک سے نکال دیا تھا اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے تعلقات بھی محدود ہو گئے تھے۔

تاہم 2023 میں اوٹاوا اور ریاض نے سفارتی تعلقات کی بحالی کا عمل شروع کیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ رابطے بحال ہونے لگے۔

مارک کارنی کا مؤقف

سعودی عرب کے ساتھ دوبارہ روابط کے حوالے سے صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے مارک کارنی نے کہا:

“کسی ملک کے ساتھ روابط کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اس کی ہر پالیسی یا ہر اقدام سے اتفاق کرتے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا:

“ہم دنیا بھر میں اپنے اہم شراکت داروں کے ساتھ فعال انداز میں روابط استوار کر رہے ہیں۔”

کارنی کے مطابق:

“دور بیٹھ کر ممالک کو لیکچر دینا ایک غیر مؤثر حکمتِ عملی ہے۔ یہ وقتی طور پر اطمینان بخش محسوس ہو سکتی ہے، لیکن حقیقت میں مؤثر نہیں ہوتی۔”

امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات پر بھی گفتگو

دورے کے دوران مارک کارنی سے امریکا کے ساتھ جاری تجارتی مذاکرات کے بارے میں بھی سوال کیا گیا۔ صحافیوں نے شمالی امریکا کے آزاد تجارتی معاہدے اور حالیہ تجارتی کشیدگی کے تناظر میں پیش رفت کے بارے میں استفسار کیا۔

اس پر کینیڈین وزیرِ اعظم نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا:

“میں آپ کو آگاہ کرتا رہوں گا۔”

تجزیہ کاروں کے مطابق مارک کارنی کا سعودی عرب کا یہ دورہ نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ہے بلکہ کینیڈا کی اس حکمتِ عملی کی بھی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت وہ اپنی معیشت کو مزید مستحکم بنانے کے لیے نئی عالمی شراکت داریوں اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کر رہا ہے۔

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories