بھارت میں حال ہی میں سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے والی ایک غیر معمولی اور طنزیہ سیاسی تحریک “Cockroach Janta Party” (CJP) نے نوجوانوں، سیاسی مبصرین اور میڈیا کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی ہے۔ اس تنظیم کے بانی ابھیجیت دیپکے ہیں، جنہوں نے چند ہی دنوں میں ایک عام سا آن لائن آئیڈیا کو ایک بڑے ڈیجیٹل سیاسی رجحان میں تبدیل کر دیا ہے۔
یہ تحریک بظاہر ایک مزاحیہ یا طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم کے طور پر شروع ہوئی، لیکن اس نے بہت جلد بھارت کے نوجوانوں کے درمیان بے روزگاری، سیاسی عدم اطمینان اور سوشل میڈیا ایکٹیوزم جیسے حساس موضوعات پر ایک بڑی بحث چھیڑ دی۔
ابھیجیت دیپکے کون ہیں؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دیپکے تقریباً 30 سالہ نوجوان ہیں جو سیاسی کمیونیکیشن اور ڈیجیٹل میڈیا اسٹریٹیجی کے شعبے سے وابستہ رہے ہیں۔ ان کا تعلق بھارت کی ریاست مہاراشٹر سے بتایا جاتا ہے اور انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کے بعد صحافت اور کمیونیکیشن کے میدان میں مہارت حاصل کی۔
بعد ازاں وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ چلے گئے جہاں انہوں نے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز (Public Relations) کے شعبے میں تعلیم حاصل کی۔ ان کا بنیادی کام ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر سیاسی بیانیے اور عوامی رائے کو سمجھنا اور تشکیل دینا بتایا جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دیپکے نے عملی سیاست کے بجائے زیادہ تر “ڈیجیٹل سیاست” اور سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے اپنی شناخت بنائی ہے۔
“Cockroach Janta Party” کا آغاز کیسے ہوا؟
یہ تحریک دراصل ایک سوشل میڈیا پوسٹ سے شروع ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ بھارتی عدلیہ سے منسوب ایک تبصرے کے بعد، جس میں بے روزگار نوجوانوں کے حوالے سے سخت الفاظ استعمال ہوئے تھے، سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ اسی ردعمل کے دوران ابھیجیت دیپکے نے ایک طنزیہ پوسٹ کے ذریعے “Cockroach Janta Party” کا تصور پیش کیا۔
انہوں نے اس تحریک کو “ان نوجوانوں کی آواز” قرار دیا جو نظام سے خود کو نظر انداز محسوس کرتے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے ایک آن لائن فارم اور سوشل میڈیا پیج کے ذریعے لوگوں کو اس “علامتی پارٹی” میں شامل ہونے کی دعوت دی۔
چند ہی دنوں میں یہ تحریک وائرل ہو گئی اور ہزاروں سے لاکھوں افراد اس سے جڑنے لگے۔ بعض رپورٹس کے مطابق اس کے فالوورز کی تعداد بہت تیزی سے بڑھ کر لاکھوں تک پہنچ گئی، اور یہ بھارت کی بڑی سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا فالوورز کے قریب یا بعض اوقات ان سے بھی زیادہ ہو گئی۔
تحریک کا مقصد کیا بتایا جاتا ہے؟
اگرچہ اس کا نام اور انداز طنزیہ ہے، لیکن بانی کے مطابق اس تحریک کا مقصد نوجوانوں کے مسائل کو اجاگر کرنا ہے، خاص طور پر:
- بے روزگاری
- مہنگائی
- نوجوانوں کی سیاسی نمائندگی
- ڈیجیٹل دور میں عوامی آواز کی کمی
- نظام سے بڑھتی ہوئی مایوسی
یہ تحریک خود کو اکثر “Voice of the unemployed youth” یعنی بے روزگار نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کرتی ہے۔
سیاسی اور سماجی بحث
اس تحریک نے بھارت میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا یہ واقعی ایک سیاسی تحریک ہے یا صرف سوشل میڈیا کا ایک رجحان اور طنز۔ کچھ حلقوں کے مطابق یہ نوجوانوں کے غصے اور مایوسی کو ایک مزاحیہ انداز میں پیش کرنے کی کوشش ہے، جبکہ بعض ناقدین اسے ایک منظم سیاسی بیانیے کی شکل قرار دیتے ہیں جو سوشل میڈیا کے ذریعے تیزی سے پھیل رہا ہے۔
کچھ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ابھیجیت دیپکے ماضی میں مختلف سیاسی سوشل میڈیا مہمات سے منسلک رہے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے سیاسی رجحان اور نیٹ ورک پر بھی بحث جاری ہے۔
سوشل میڈیا پر غیر معمولی مقبولیت
“Cockroach Janta Party” کی سب سے بڑی طاقت اس کی سوشل میڈیا موجودگی ہے۔ انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے مواد نے نوجوانوں میں تیزی سے مقبولیت حاصل کی۔ اس کی خاص بات اس کا طنزیہ انداز، میمز کلچر اور سیاسی نظام پر تنقیدی تبصرے ہیں۔
بہت سے نوجوان اسے ایک “ڈیجیٹل احتجاج” کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اسے محض ایک وائرل میم موومنٹ سمجھتے ہیں۔
کیا یہ اصل سیاسی پارٹی ہے؟
ابھی تک یہ واضح نہیں کہ یہ تحریک رسمی طور پر ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت ہے یا نہیں۔ زیادہ تر رپورٹس کے مطابق یہ ایک “ڈیجیٹل اور طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم” ہے جو نوجوانوں کے جذبات اور سیاسی عدم اطمینان کو آن لائن انداز میں پیش کرتا ہے۔
مجموعی طور پر ابھیجیت دیپکے ایک ایسے نوجوان کے طور پر سامنے آئے ہیں جنہوں نے جدید ڈیجیٹل دور کے سیاسی ماحول کو استعمال کرتے ہوئے ایک منفرد اور متنازعہ تحریک شروع کی ہے۔ “Cockroach Janta Party” اگرچہ اپنے نام اور انداز کی وجہ سے مزاحیہ لگتی ہے، لیکن اس کے پیچھے موجود نوجوانوں کا غصہ، بے روزگاری کا مسئلہ اور سیاسی نظام سے عدم اطمینان اسے ایک سنجیدہ سماجی بحث میں بدل دیتا ہے۔
یہ تحریک مستقبل میں ایک مستقل سیاسی پلیٹ فارم بنتی ہے یا محض ایک سوشل میڈیا رجحان رہتی ہے، یہ آنے والا وقت ہی طے کرے گا۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

