کاروبار

میٹا کا کینیڈا میں پہلا ڈیٹا سینٹر بنانے کا اعلان، البرٹا میں 13 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری

📷 Meta Announces Its First Data Centre in Canada

اسٹرجن کاؤنٹی میں ایک گیگا واٹ صلاحیت کا جدید ڈیٹا سینٹر قائم کیا جائے گا

کینیڈا کے صوبہ البرٹا میں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں عالمی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا (Meta) نے اپنا پہلا کینیڈین ڈیٹا سینٹر تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی اس منصوبے پر 13 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کرے گی۔

میٹا، جو فیس بک، انسٹاگرام اور دیگر مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی مالک ہے، نے بدھ کے روز جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہ ایک گیگا واٹ صلاحیت کا جدید ڈیٹا سینٹر صوبے کے اسٹرجن کاؤنٹی کے علاقے میں تعمیر کیا جائے گا، جو ایڈمنٹن کے شمال مشرق میں واقع ہے۔

مقامی بنیادی ڈھانچے کے لیے بھی 6 کروڑ ڈالر مختص

کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ ڈیٹا سینٹر کی تعمیر کے ساتھ ساتھ مقامی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے بھی 6 کروڑ ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ اس رقم کو سڑکوں، عوامی سہولتوں اور دیگر ضروری بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر خرچ کیا جائے گا۔

میٹا کے مطابق یہ ڈیٹا سینٹر جدید “کلوزڈ لوپ لیکویڈ کولنگ” اور “ڈرائی کولنگ” نظام پر کام کرے گا، جس کی بدولت اس کے روزمرہ آپریشن کے دوران پانی استعمال نہیں کیا جائے گا۔

بجلی کی فراہمی گرڈ اور قدرتی گیس دونوں سے ہوگی

کمپنی کے مطابق ڈیٹا سینٹر کے لیے بجلی قومی گرڈ سے حاصل کی جائے گی جبکہ کچھ بجلی قدرتی گیس سے چلنے والے مقامی پاور جنریشن سسٹم کے ذریعے بھی پیدا کی جائے گی۔

اس منصوبے کے اعلان کے موقع پر البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ، میٹا کے حکام اور اسٹرجن کاؤنٹی کی میئر الینا ہناتیو نے کیلگری میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

منصوبے سے البرٹا کو سالانہ 25 کروڑ ڈالر کا فائدہ متوقع

پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے کہا کہ میٹا کا یہ منصوبہ البرٹا کی معیشت کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا اور اس سے صوبے کو ہر سال کم از کم 25 کروڑ ڈالر کا معاشی فائدہ حاصل ہونے کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ البرٹا کا نسبتاً ٹھنڈا موسم، ہنرمند افرادی قوت اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑھتی ہوئی مہارت عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا، “ہمیں یقین ہے کہ ہمارا صوبہ دنیا کے کسی بھی خطے کے ساتھ مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔”

ان کے مطابق البرٹا تیزی سے مصنوعی ذہانت کے عالمی انقلاب کا ایک اہم مرکز بنتا جا رہا ہے۔

تین ہزار تعمیراتی اور تین سو مستقل ملازمتیں پیدا ہوں گی

میٹا کے مطابق اس منصوبے سے تعمیراتی مرحلے کے دوران تقریباً تین ہزار ملازمتیں پیدا ہوں گی، جبکہ ڈیٹا سینٹر مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد تقریباً تین سو مستقل ملازمتیں دستیاب ہوں گی۔

میٹا کے نائب صدر برائے ڈیٹا سینٹر اسٹریٹیجی اینڈ ڈیولپمنٹ گیری ڈیماسی نے کہا کہ اسٹرجن کاؤنٹی کا منصوبہ کمپنی کا دنیا بھر میں 33 واں ڈیٹا سینٹر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں پانی کے استعمال کو انتہائی کم سطح پر رکھا گیا ہے اور سالانہ پانی کا استعمال البرٹا کے ایک عام گالف کورس سے بھی کم ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میٹا نے 2030 تک “واٹر پازیٹو” بننے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ کمپنی اپنے استعمال سے زیادہ پانی مقامی آبی ذخائر میں واپس پہنچانے کی کوشش کرے گی۔

البرٹا انڈسٹریل ہارٹ لینڈ میں تعمیر ہوگا ڈیٹا سینٹر

یہ منصوبہ ایڈمنٹن کے شمال مشرق میں واقع البرٹا انڈسٹریل ہارٹ لینڈ میں تعمیر کیا جائے گا۔ اسی علاقے میں “پروجیکٹ گرین لائٹ” کے نام سے قدرتی گیس سے چلنے والا بجلی پیدا کرنے کا ایک اور منصوبہ بھی زیر غور ہے۔

میٹا نے اگرچہ ڈیٹا سینٹر کے مکمل طور پر فعال ہونے کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا، تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ آئندہ چند برسوں کے دوران اس منصوبے کو مکمل کر لیا جائے گا۔

ماہرین نے منصوبے کو البرٹا کے لیے بڑی کامیابی قرار دیا

ویسٹرن یونیورسٹی، اونٹاریو کے چیف اے آئی آفیسر مارک ڈیلی نے اس منصوبے کو اکیسویں صدی کی معیشت کے بڑے محرکات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کے پاس توانائی کے وافر وسائل موجود ہیں، اس لیے یہاں ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر ایک منطقی پیش رفت ہے۔

ان کے مطابق کسی بھی صوبے کے لیے میٹا جیسی عالمی کمپنی کا ڈیٹا سینٹر حاصل کرنا ایک بڑی کامیابی اور اعتماد کا اظہار ہے، جس سے دیگر عالمی سرمایہ کاروں کے لیے بھی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

قدرتی گیس پر انحصار پر تحفظات بھی سامنے آ گئے

تاہم بعض ماہرین نے البرٹا کی توانائی حکمت عملی پر تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔

پیمبینا انسٹی ٹیوٹ کے الیکٹرسٹی پروگرام کے ڈائریکٹر ڈیوڈ پک اپ نے کہا کہ صوبائی پالیسی بظاہر قدرتی گیس کی طلب بڑھانے پر مرکوز ہے جبکہ کم لاگت اور کم کاربن والے متبادل ذرائع کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات اور مائع قدرتی گیس کی برآمدات میں اضافے سے صارفین کے لیے توانائی کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔

دوسری جانب البرٹا کے وزیر برائے ٹیکنالوجی و اختراعات نیٹ گلوبش نے کہا کہ حکومت نے مکمل تیاری اور مناسب ضابطہ جاتی فریم ورک کے بعد اس منصوبے کی منظوری دی ہے اور تمام کمپنیوں کو یکساں قوانین کے تحت کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی کمپنی کی جانب سے قواعد کی خلاف ورزی کی صورت میں اسے جواب دہ ٹھہرایا جائے گا۔

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories