کینیڈا

کیوبیک میں گھریلو اور جنسی تشدد کے متاثرین کے لیے خصوصی عدالتوں کا قیام مکمل

📷 Quebec Completes Special Courts for Abuse Victims

یہ منصوبہ تقریباً چار برس قبل ایک پائلٹ پروگرام کے طور پر شروع کیا گیا تھا، انصاف کے نظام میں تاریخی اصلاحات

کیوبیک: کینیڈا کے صوبہ کیوبیک میں گھریلو تشدد اور جنسی زیادتی کے متاثرین کو بہتر، محفوظ اور بااعتماد انصاف فراہم کرنے کے لیے قائم کیے جانے والے خصوصی عدالتوں کے نظام کو باضابطہ طور پر پورے صوبے میں مکمل کر دیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد متاثرین کے لیے عدالتی عمل کو زیادہ مؤثر، حساس اور آسان بنانا ہے تاکہ وہ بلا خوف و ہچکچاہٹ انصاف حاصل کر سکیں۔

یہ منصوبہ تقریباً چار برس قبل ایک پائلٹ پروگرام کے طور پر شروع کیا گیا تھا، تاہم اس کی کامیابی اور مثبت نتائج کے بعد اسے مرحلہ وار پورے صوبے میں توسیع دی گئی۔ پیر کے روز لانگوی (Longueuil) کی عدالت میں ایک خصوصی تقریب کے دوران کیوبیک کے 36ویں عدالتی ضلع میں بھی اس نظام کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا، جس کے ساتھ ہی صوبے کے تمام عدالتی اضلاع میں خصوصی عدالتوں کا قیام مکمل ہو گیا۔

صوبائی قیادت کی تقریب میں شرکت

لانگوی میں منعقد ہونے والی افتتاحی تقریب میں کیوبیک کی پریمیئر کرسٹین فریشیٹ (Christine Fréchette) اور وزیر انصاف سائمن جولین-باریت (Simon Jolin-Barrette) سمیت عدلیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سماجی تنظیموں اور متاثرین کی معاونت کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی قیادت نے اس منصوبے کو کیوبیک کے عدالتی نظام میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ یہ اصلاحات متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کے عمل میں ایک نئے باب کا آغاز ہیں۔

متاثرین کا اعتماد بحال کرنا حکومت کی ترجیح

پریمیئر کرسٹین فریشیٹ نے کہا کہ دنیا میں اپنی نوعیت کے اس منفرد عدالتی نظام کا مقصد گھریلو تشدد اور جنسی زیادتی کے متاثرین کا عدالتی نظام پر اعتماد بحال کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بہت سے متاثرین قانونی کارروائی کے پیچیدہ اور طویل مراحل کی وجہ سے انصاف کے حصول سے گریز کرتے تھے، لیکن خصوصی عدالتوں کے قیام سے انہیں ایک ایسا ماحول فراہم کیا گیا ہے جہاں ان کی عزت، رازداری اور نفسیاتی کیفیت کو مقدم رکھا جاتا ہے۔

انہوں نے وزیر انصاف سائمن جولین-باریت کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں متعارف کرائی گئی اصلاحات نے انصاف کے نظام کو متاثرین کے لیے زیادہ محفوظ، ہمدردانہ اور قابلِ اعتماد بنایا ہے۔

خواتین پر تشدد کسی صورت قابل قبول نہیں

پریمیئر نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ خواتین کے خلاف تشدد، گھریلو زیادتی اور جنسی جرائم کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ایسے جرائم کے خاتمے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے اور خصوصی عدالتوں کا نظام بھی اسی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ ان کے مطابق صوبے بھر میں قائم کی گئی یہ عدالتیں متاثرین کو بہتر معاونت فراہم کرنے، ان کی ضروریات کو مدنظر رکھنے اور عدالتی کارروائی کو زیادہ مؤثر بنانے میں نمایاں کردار ادا کریں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ انصاف صرف سزا دینے کا نام نہیں بلکہ متاثرین کو اعتماد، تحفظ اور عزت فراہم کرنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔

230 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری

وزیر انصاف سائمن جولین-باریت نے منصوبے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے خصوصی عدالتوں کے اس جامع منصوبے پر مجموعی طور پر 230 ملین کینیڈین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس سرمایہ کاری کے نتیجے میں اب تک تقریباً 53 ہزار متاثرین کو عدالتی نظام کے ذریعے خصوصی معاونت فراہم کی جا چکی ہے، جبکہ مستقبل میں بھی ہزاروں افراد اس نظام سے فائدہ اٹھائیں گے۔

وزیر انصاف کے مطابق حکومت کا مقصد صرف نئے عدالتی ڈھانچے قائم کرنا نہیں تھا بلکہ پورے انصاف کے نظام کو متاثرین کی ضروریات کے مطابق جدید بنانا بھی تھا۔

14 ہزار اہلکاروں کو خصوصی تربیت

وزیر انصاف نے کہا کہ منصوبے کے تحت صرف عدالتی انفراسٹرکچر ہی نہیں بلکہ انسانی وسائل پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ عدالتی عملے، ججوں، پراسیکیوٹرز، پولیس اہلکاروں اور انصاف کے نظام سے وابستہ دیگر اداروں سمیت مجموعی طور پر 14 ہزار اہلکاروں کو خصوصی تربیت فراہم کی گئی تاکہ وہ گھریلو تشدد اور جنسی زیادتی کے متاثرین کے ساتھ زیادہ حساس اور پیشہ ورانہ انداز میں پیش آ سکیں۔

اس تربیت میں متاثرین کی نفسیاتی حالت کو سمجھنے، رازداری برقرار رکھنے، مؤثر تفتیش، عدالتی کارروائی اور قانونی معاونت جیسے اہم موضوعات شامل تھے۔

خصوصی معاونین اور پراسیکیوٹرز کی تعیناتی

وزیر انصاف سائمن جولین-باریت نے بتایا کہ حکومت نے متاثرین کی معاونت کے لیے 129 خصوصی سپورٹ ورکرز کی نئی آسامیاں بھی قائم کی ہیں، جو متاثرہ افراد کو عدالتی کارروائی کے ہر مرحلے پر رہنمائی اور نفسیاتی تعاون فراہم کریں گے۔

اسی طرح ڈائریکٹوریٹ آف کریمنل اینڈ پینل پراسیکیوشنز (Directorate of Criminal and Penal Prosecutions) میں 83 خصوصی پراسیکیوٹرز بھی تعینات کیے گئے ہیں، جو گھریلو تشدد اور جنسی جرائم کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے نہ صرف مقدمات کی سماعت کا معیار بہتر ہوگا بلکہ متاثرین کو زیادہ مؤثر قانونی تحفظ بھی فراہم کیا جا سکے گا۔

انصاف کے نظام میں اہم پیش رفت

وزیر انصاف نے کہا کہ حکومت نے عدلیہ، پولیس، سماجی اداروں اور متاثرین کی معاونت کرنے والی تنظیموں کے ساتھ مل کر ایک ایسا نظام تشکیل دیا ہے جو انصاف کی فراہمی کو مزید مؤثر، شفاف اور انسان دوست بناتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج یہ وژن حقیقت کا روپ دھار چکا ہے اور کیوبیک ان چند خطوں میں شامل ہو گیا ہے جہاں متاثرین کی ضروریات کو مرکزِ نگاہ رکھتے ہوئے خصوصی عدالتی نظام قائم کیا گیا ہے۔

ماہرین قانون اور سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ خصوصی عدالتوں کے قیام سے نہ صرف متاثرین کے لیے انصاف حاصل کرنا آسان ہوگا بلکہ گھریلو تشدد اور جنسی جرائم کے مقدمات میں عوام کا اعتماد بھی مضبوط ہوگا، جو مستقبل میں ایسے جرائم کی روک تھام اور متاثرین کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories