سیاست

جنتر منتر میں کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج مسلسل 17ویں روز بھی جاری

📷 File Photo

بارش کے باوجود مظاہرین اپنے مطالبات پر قائم، سونم وانگچک کی صحت بگڑنے کا دعویٰ,تعلیمی وزیر کے استعفے کے مطالبے پر مظاہرین قائم

نئی دہلی: قومی دارالحکومت نئی دہلی کے تاریخی احتجاجی مقام جنتر منتر پر “کاکروچ جنتا پارٹی” (سی جے پی) کے زیر اہتمام جاری احتجاج اتوار کے روز مسلسل سترہویں دن بھی جاری رہا۔ شدید بارش اور خراب موسم کے باوجود مظاہرین اپنے مطالبات کے حق میں دھرنے پر ڈٹے رہے اور حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے رہے۔ احتجاجی شرکاء کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

بارش بھی مظاہرین کے حوصلے پست نہ کر سکی

اتوار کے روز دہلی میں وقفے وقفے سے بارش ہوتی رہی، تاہم اس کے باوجود احتجاج میں شریک افراد نے دھرنا ختم نہیں کیا۔ مظاہرین نے بارش سے بچنے کے لیے عارضی شیڈ اور ترپالوں کا انتظام کیا اور وہیں بیٹھ کر احتجاج جاری رکھا۔

شرکاء کا کہنا تھا کہ خراب موسم ان کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتا، کیونکہ وہ اپنے مطالبات کو عوامی مفاد سے جڑا ہوا سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو عوامی مسائل سنجیدگی سے لینے چاہییں اور احتجاج کرنے والوں کی آواز کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

بھوک ہڑتال بھی مسلسل جاری

احتجاج کے ساتھ ساتھ سماجی کارکن سونم وانگچک اور دیگر کئی افراد کی بھوک ہڑتال بھی جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ مسلسل کئی روز سے جاری بھوک ہڑتال کے باعث سونم وانگچک سمیت دیگر روزہ دار مظاہرین کی صحت مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔

پارٹی کے مطابق بھوک ہڑتال کرنے والے افراد صرف پانی اور محدود طبی نگرانی کے سہارے احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے جسمانی کمزوری میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سونم وانگچک کا وزن چھ کلو کم ہونے کا دعویٰ

احتجاجی تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ڈاکٹروں نے سونم وانگچک کا طبی معائنہ کیا ہے، جس کے مطابق مسلسل بھوک ہڑتال کے نتیجے میں ان کا تقریباً چھ کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے۔

پارٹی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر مسلسل ان کی صحت پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اگر بھوک ہڑتال طویل عرصے تک جاری رہی تو طبی پیچیدگیوں کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

احتجاجی رہنماؤں کے مطابق دیگر کئی انشن کار بھی کمزوری، تھکن اور بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، تاہم وہ اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔

تعلیمی وزیر کے استعفے کے مطالبے پر مظاہرین قائم

مظاہرین نے ایک بار پھر مرکزی وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے اور متعلقہ وزیر اپنے عہدے سے مستعفی نہیں ہوتے، احتجاج جاری رہے گا۔ دھرنے کے شرکاء کا کہنا تھا کہ حکومت عوامی مسائل سے چشم پوشی کر رہی ہے، جس کی وجہ سے انہیں مسلسل احتجاج پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کا مقصد کسی قسم کا تصادم نہیں بلکہ ذمہ داران کو جوابدہ بنانا اور عوامی مسائل کا منصفانہ حل حاصل کرنا ہے۔ مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر مذاکرات کا آغاز کرے اور تعلیمی وزیر کے استعفے سمیت دیگر مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے، بصورت دیگر دھرنا اور بھوک ہڑتال آئندہ بھی اسی طرح جاری رہے گی۔

احتجاجی شرکاء کا مؤقف

دھرنے میں شریک افراد نے کہا کہ ان کا احتجاج مکمل طور پر پرامن ہے اور وہ آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اپنی آواز حکومت تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق کئی دن گزر جانے کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ پیش رفت سامنے نہیں آئی، جس کی وجہ سے احتجاج کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

شرکاء نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے حکومت اور متعلقہ اداروں کو سنجیدہ مذاکرات شروع کرنے چاہییں تاکہ صورتحال مزید طول نہ پکڑے۔

انتظامیہ کی نگرانی جاری

جنتر منتر پر جاری احتجاج کے پیش نظر پولیس اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی کے مناسب انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولیس اہلکار احتجاجی مقام پر مسلسل موجود ہیں تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

مذاکرات کی ضرورت پر زور

سی جے پی کے رہنماؤں نے کہا کہ احتجاج کا مقصد تصادم نہیں بلکہ مسائل کا حل ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ وہ احتجاجی نمائندوں سے بات چیت کرے اور ان کے مطالبات پر غور کرے تاکہ معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سنجیدہ مذاکرات شروع کرتی ہے تو احتجاج کے مستقبل کے بارے میں مثبت فیصلہ لیا جا سکتا ہے، تاہم فی الحال احتجاج اور بھوک ہڑتال دونوں بدستور جاری رہیں گے۔

احتجاج کا سلسلہ برقرار

اتوار کو مسلسل سترہویں روز جاری رہنے والے اس احتجاج نے ایک بار پھر جنتر منتر کو سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز بنا دیا۔ بارش، خراب موسم اور صحت سے متعلق خدشات کے باوجود مظاہرین کے حوصلے بلند دکھائی دیے۔

احتجاجی تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ پرامن طریقے سے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور جب تک ان کے مطالبات پر مثبت پیش رفت نہیں ہوتی، دھرنا، بھوک ہڑتال اور تعلیمی وزیر کے استعفے کا مطالبہ اسی طرح برقرار رہے گا۔ دوسری جانب حکومتی سطح پر اس حوالے سے کسی نئے باضابطہ فیصلے یا مذاکراتی پیش رفت کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories