کمیونٹی

میری ٹائمز کے بعض علاقوں میں ہیٹ وارننگ ختم، کئی علاقوں میں شدید گرمی بدستور برقرار

📷 Heat Warnings End for Some Maritime Communities, Extreme Heat Persists in Several Areas

,جنوب مغربی نیو برنزوک اور نووا اسکاٹیا میں ہیٹ وارننگ برقرارنیو برنزوک اور نووا اسکاٹیا کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت اب بھی خطرناک حد تک بلند، شہریوں کو احتیاط کی ہدایت

اوٹاوا: کینیڈا کے میری ٹائمز (Maritimes) کے بعض علاقوں میں کئی روز سے جاری شدید گرمی کے بعد ہیٹ وارننگ ختم کر دی گئی ہے، تاہم خطے کے متعدد علاقوں میں گرمی کی شدت اب بھی برقرار ہے۔ محکمہ ماحولیات کینیڈا (Environment Canada) نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ کچھ مقامات پر موسم میں بہتری آنا شروع ہو گئی ہے، لیکن جنوب مغربی نیو برنزوک اور نووا اسکاٹیا کے بیشتر حصے تاحال شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں، جہاں شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت دی گئی ہے۔

جنوب مغربی نیو برنزوک اور نووا اسکاٹیا میں ہیٹ وارننگ برقرار

ماحولیاتی ادارے کے مطابق ہفتہ کی صبح تک جنوب مغربی نیو برنزوک کے کئی علاقوں میں ہیٹ وارننگ نافذ رہی، تاہم فنڈی ساحلی علاقے (Fundy Coast) کو اس انتباہ سے مستثنیٰ قرار دیا گیا۔ دوسری جانب نووا اسکاٹیا کے تقریباً تمام زمینی علاقوں میں شدید گرمی کے باعث ہیٹ وارننگ برقرار رکھی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق گزشتہ کئی دنوں سے پورا خطہ شدید گرمی اور نمی کی لپیٹ میں ہے، جس کے باعث شہریوں کو غیر معمولی موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

درجہ حرارت 31 ڈگری جبکہ محسوس 35 ڈگری تک ہونے کا امکان

محکمہ ماحولیات نے پیش گوئی کی ہے کہ ہیٹ وارننگ والے علاقوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 29 سے 31 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ ہوا میں نمی کے باعث ہیومیڈیکس (Humidex) کی سطح بڑھنے سے گرمی کا احساس تقریباً 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہو سکتا ہے۔

محکمہ کے مطابق نمی اور بلند درجہ حرارت کا امتزاج انسانی صحت پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتا ہے، خاص طور پر بزرگ افراد، بچے، حاملہ خواتین اور پہلے سے بیمار افراد زیادہ خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

سرد محاذ کی آمد سے موسم میں بتدریج بہتری متوقع

ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ ہفتے کے دوران ایک سرد محاذ (Cold Front) خطے میں داخل ہوگا، جس کے باعث موسم میں آہستہ آہستہ بہتری آنے کی توقع ہے۔

محکمہ ماحولیات نے اپنے بیان میں کہا کہ سرد ہواؤں کے داخل ہونے کے بعد درجہ حرارت میں بتدریج کمی آئے گی اور اتوار تک موسم معمول کے مطابق ہونے کا امکان ہے۔

اگرچہ کئی علاقوں میں گرمی کی شدت کم ہونا شروع ہو گئی ہے، تاہم ادارے نے واضح کیا ہے کہ اس دوران شہریوں کو احتیاط ترک نہیں کرنی چاہیے کیونکہ درجہ حرارت اب بھی خطرناک حد تک بلند رہ سکتا ہے۔

ہیٹ اسٹروک اور ہیٹ ایکزاسشن کا خطرہ برقرار

محکمہ ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ موسمی حالات میں ہیٹ اسٹروک (Heat Stroke) اور ہیٹ ایکزاسشن (Heat Exhaustion) جیسے طبی مسائل کا خطرہ برقرار ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق مسلسل دھوپ میں رہنے، جسم میں پانی کی کمی اور شدید گرمی کے باعث چکر آنا، کمزوری، سر درد، متلی، سانس لینے میں دشواری اور بے ہوشی جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں، جنہیں ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

ایسی علامات سامنے آنے پر فوری طور پر متاثرہ شخص کو ٹھنڈی جگہ منتقل کرنا، پانی پلانا اور ضرورت پڑنے پر فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔

شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت

ماحولیات کینیڈا نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں اور اگر باہر جانا ناگزیر ہو تو دن کے نسبتاً ٹھنڈے اوقات کا انتخاب کریں۔

ادارے نے ہدایت دی ہے کہ شہری ہلکے رنگ کے ڈھیلے اور سوتی کپڑے پہنیں، چوڑی کنارے والی ٹوپی استعمال کریں، سن اسکرین لگائیں اور جسم میں پانی کی کمی سے بچنے کے لیے وقفے وقفے سے پانی اور دیگر مشروبات استعمال کرتے رہیں۔

ماہرین نے خاص طور پر والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بچوں کو بند گاڑیوں میں ہرگز تنہا نہ چھوڑیں کیونکہ چند ہی منٹوں میں گاڑی کا اندرونی درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ سکتا ہے۔

بزرگوں اور بیمار افراد کا خصوصی خیال رکھنے کی اپیل

محکمہ ماحولیات اور صحت کے حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بزرگ رشتہ داروں، بیمار افراد اور تنہا رہنے والے پڑوسیوں کا خصوصی خیال رکھیں اور ان کی خیریت معلوم کرتے رہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید گرمی کے دوران یہ طبقہ زیادہ متاثر ہوتا ہے، اس لیے ان کے لیے ٹھنڈے ماحول، مناسب پانی اور ضروری طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جانی چاہیے۔

اتوار سے موسم معمول پر آنے کی امید

محکمہ ماحولیات کے مطابق سرد محاذ کے گزرنے کے بعد اتوار سے درجہ حرارت معمول کی موسمی سطح پر واپس آنے کا امکان ہے، جس سے شہریوں کو شدید گرمی سے کچھ حد تک ریلیف ملے گا۔

اگرچہ گرمی کی شدت کم ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے، تاہم حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ موسم کی تازہ ترین پیش گوئی پر مسلسل نظر رکھیں اور سرکاری ہدایات پر عمل کرتے رہیں تاکہ شدید گرمی کے منفی اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories