البرٹا حکومت نے طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات اور اضافی معاونت فراہم کرنے کے لیے 100 ملین کینیڈین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے
ایڈمنٹن: البرٹا حکومت نے صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں میں طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات اور اضافی معاونت فراہم کرنے کے لیے 100 ملین کینیڈین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کلاس رومز میں بڑھتی ہوئی پیچیدگیوں سے نمٹنا، اساتذہ پر کام کے دباؤ کو کم کرنا اور طلبہ کو انفرادی سطح پر بہتر تعلیمی اور نفسیاتی معاونت فراہم کرنا ہے۔
صوبائی حکومت کے مطابق اس نئی فنڈنگ کے ذریعے مزید اساتذہ، ایجوکیشنل اسسٹنٹس، سوشل ورکرز، رویے کے ماہرین اور دیگر خصوصی ماہرین کو بھرتی کیا جائے گا تاکہ اسکولوں میں طلبہ کی مختلف تعلیمی اور سماجی ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کیا جا سکے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ سرمایہ کاری البرٹا کے تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے اور ہر طالب علم کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے عزم کا حصہ ہے۔
پروگرام کا دائرہ کار ہائی اسکولوں تک وسیع
حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اب تک ابتدائی جماعتوں تک محدود کلاس روم کمپلیکسٹی ٹیمز کے پروگرام کو پہلی مرتبہ جونیئر اور سینئر ہائی اسکولوں تک بھی توسیع دی جا رہی ہے۔
اس منصوبے کے تحت صوبے بھر میں مجموعی طور پر 221 نئی کلاس روم کمپلیکسٹی ٹیمیں قائم کی جائیں گی، جن میں 158 ٹیمیں گریڈ 7 سے 12 کے طلبہ کے لیے جبکہ 63 ٹیمیں کنڈرگارٹن سے گریڈ 6 تک کے طلبہ کی معاونت کے لیے مختص ہوں گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان ٹیموں کا بنیادی مقصد ایسے طلبہ کی بروقت مدد کرنا ہے جنہیں تعلیمی، رویے سے متعلق یا ذہنی و سماجی مسائل کا سامنا ہو، تاکہ وہ اپنی تعلیم بلا رکاوٹ جاری رکھ سکیں۔
دیہی علاقوں کو بھی خصوصی توجہ
البرٹا حکومت کے مطابق اس منصوبے میں صرف شہری علاقوں ہی نہیں بلکہ دیہی اور دور دراز علاقوں کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے، جہاں اکثر ماہرین اور تعلیمی معاون عملے کی کمی محسوس کی جاتی ہے۔
حکومت نے اعلان کیا ہے کہ دور افتادہ علاقوں میں خصوصی تعلیمی خدمات کو مزید وسعت دی جائے گی، جبکہ اساتذہ کو طلبہ کے رویے سے متعلق مسائل کی بروقت نشاندہی اور مؤثر انداز میں ان سے نمٹنے کے لیے خصوصی تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔
تمام اسکول بورڈز کو نئی ٹیمیں فراہم کی جائیں گی
صوبائی حکومت نے واضح کیا ہے کہ البرٹا کے تمام سرکاری، سیپریٹ (Separate) اور فرانکوفون اسکول بورڈز کو کم از کم ایک نئی کلاس روم کمپلیکسٹی ٹیم فراہم کی جائے گی۔
حکومت کے مطابق ٹیموں کی تقسیم ہر اسکول بورڈ کی ضروریات، طلبہ کی تعداد اور مقامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جائے گی تاکہ وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
وزیر تعلیم کا مؤقف
البرٹا کے وزیر تعلیم ڈیمیٹریوس نکولائیڈز نے اس موقع پر کہا کہ ٹیم پر مبنی معاونتی نظام اسکولوں کو زیادہ مؤثر اور مربوط خدمات فراہم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ پہلے اسکول الگ الگ وسائل پر انحصار کرتے تھے، لیکن اب مختلف شعبوں کے ماہرین ایک ٹیم کی صورت میں مل کر کام کریں گے، جس سے اساتذہ کو بھی بہتر معاونت ملے گی اور طلبہ کی ضروریات زیادہ مؤثر انداز میں پوری کی جا سکیں گی۔
ان کے مطابق جونیئر اور سینئر ہائی اسکولوں کی ہر ٹیم میں ایک استاد، ایک ایجوکیشنل اسسٹنٹ اور رویے کے ماہرین، سوشل ورکرز سمیت دیگر ماہرین شامل ہوں گے، جبکہ کنڈرگارٹن سے گریڈ 6 تک کی ٹیموں میں عموماً ایک استاد اور دو ایجوکیشنل اسسٹنٹس خدمات انجام دیں گے۔
100 ملین ڈالر کہاں خرچ ہوں گے؟
حکومت نے بتایا کہ 100 ملین ڈالر کی مجموعی سرمایہ کاری میں سے:
- 75 ملین ڈالر نئی کلاس روم کمپلیکسٹی ٹیموں کے قیام اور اضافی عملے کی بھرتی پر خرچ کیے جائیں گے۔
- 25 ملین ڈالر اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت، صلاحیتوں میں اضافے اور دیہی و دور دراز علاقوں تک خصوصی خدمات کی توسیع پر صرف کیے جائیں گے۔
حکومت کے مطابق یہ منصوبہ رواں سال فروری میں کیے گئے ان اقدامات کا تسلسل ہے، جن کے تحت صوبے بھر میں 1,400 نئے اساتذہ بھرتی کیے گئے تھے اور 476 کلاس روم کمپلیکسٹی ٹیمیں قائم کی گئی تھیں۔
کیلگری کے اسکول بورڈز نے مثبت نتائج بتائے
کیلگری کے دونوں بڑے اسکول بورڈز نے اس پروگرام کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اضافی معاون عملے کی موجودگی سے طلبہ کو بہتر سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملی ہے۔
کیلگری بورڈ آف ایجوکیشن اب تک 118 کلاس روم کمپلیکسٹی ٹیمیں قائم کر چکا ہے، جبکہ کیلگری کیتھولک اسکول ڈسٹرکٹ میں 53 ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔
کیلگری کیتھولک اسکول ڈسٹرکٹ کی چیئر لوری لووینیلی نے کہا کہ ہر نیا استاد، ایجوکیشنل اسسٹنٹ اور خصوصی معاون عملہ کسی نہ کسی طالب علم کو وہ مدد فراہم کرنے کا ایک نیا موقع ہوتا ہے جس کی اسے واقعی ضرورت ہوتی ہے۔
اساتذہ کی تنظیم نے بھی خیر مقدم کیا
البرٹا ٹیچرز ایسوسی ایشن نے بھی حکومت کے اس اعلان کو خوش آئند قرار دیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے صدر جیسن شلنگ نے کہا کہ حکومت نے بالآخر اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے کہ البرٹا کے کلاس روم پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکے ہیں اور ان کے مؤثر انتظام کے لیے اضافی عملے اور وسائل کی اشد ضرورت ہے۔
تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اصل کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت کتنی جلدی نئے اساتذہ اور معاون عملے کو عملی طور پر کلاس رومز تک پہنچانے میں کامیاب ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ منصوبہ مؤثر انداز میں نافذ کیا گیا تو اس سے نہ صرف اساتذہ کا بوجھ کم ہوگا بلکہ طلبہ کو بھی بہتر تعلیمی ماحول اور انفرادی معاونت میسر آئے گی، جو ان کی تعلیمی کارکردگی اور مجموعی ترقی کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگی۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

