امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران اور اسرائیل سے فوری حملے روکنے کا مطالبہ، خطے میں کشیدگی پر تشویش
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک سے فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کرنے اور جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔امریکی صدر نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ ایران اور اسرائیل کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر ایک دوسرے پر حملے روک دیں، کیونکہ موجودہ صورتحال نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے ٹیلیفون پر رابطہ بھی کیا، جس میں انہوں نے اسرائیلی قیادت کو کشیدگی میں اضافہ نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ تاہم اس کے باوجود اسرائیل کی جانب سے ایران پر میزائل حملے کیے گئے، جس کے جواب میں ایران نے بھی جوابی کارروائیاں شروع کر دیں۔دوسری جانب چین نے بھی خطے کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور تنازع کو مزید بڑھنے سے روکیں۔عالمی مبصرین کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کسی بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔ اس صورتحال کے پیش نظر امریکا، چین اور دیگر عالمی طاقتیں جنگ بندی کے قیام اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک نے فوری طور پر تحمل، بردباری اور سفارتی ذرائع اختیار نہ کیے تو مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ کشیدگی نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ پورے خطے کی سلامتی، سیاسی استحکام اور اقتصادی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی یا جوابی حملے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تنازع وسیع ہونے اور دیگر علاقائی طاقتوں کے بھی اس میں شامل ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ دنیا کے اہم ترین توانائی پیدا کرنے والے خطوں میں شمار ہوتا ہے، اس لیے یہاں کسی بھی بڑے تنازع کے اثرات عالمی معیشت تک پہنچ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو خام تیل اور قدرتی گیس کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی تجارتی راستوں، بحری نقل و حمل اور سرمایہ کاری پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے، جس سے مختلف ممالک کی اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔
بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ اور مختلف عالمی طاقتوں کی جانب سے مسلسل اپیل کی جا رہی ہے کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور اختلافات کو مذاکرات، سفارت کاری اور پرامن ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ یا طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی مذاکرات ہی دیرپا امن اور استحکام کا واحد مؤثر راستہ ہیں۔ ان کے مطابق کشیدگی کم کرنے کے لیے اعتماد سازی، براہِ راست رابطوں اور سفارتی کوششوں کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال نہایت حساس ہے اور آنے والے دنوں میں ہونے والی سفارتی پیش رفت خطے کے مستقبل کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فریقین نے ذمہ داری اور بردباری کا مظاہرہ کیا تو بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے، تاہم اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی امن، معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی دور رس اور منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی نظریں آئندہ سفارتی کوششوں اور مذاکرات کے نتائج پر مرکوز ہیں۔۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

