فیفا نے ورلڈ کپ میچز میں پانی کی بوتلوں سے متعلق پابندی واپس لے لی، نئی شرائط نافذ
اوٹاوا/زیورخ: عالمی فٹبال تنظیم فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کے دوران اسٹیڈیمز میں پانی کی بوتلیں لے جانے سے متعلق اپنے سابقہ فیصلے میں تبدیلی کرتے ہوئے شائقین کے لیے محدود نرمی کا اعلان کیا ہے۔ تاہم نئی پالیسی کے تحت صرف مخصوص قسم کی پانی کی بوتلیں ہی اسٹیڈیم کے اندر لے جانے کی اجازت ہوگی جبکہ دوبارہ استعمال ہونے والی سخت بوتلوں پر پابندی برقرار رہے گی۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے چیف آپریٹنگ آفیسر ہائمو شیرگی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ شائقین اب میچز کے دوران اسٹیڈیم میں ایک نرم پلاسٹک کی فیکٹری سے سیل بند پانی کی بوتل ساتھ لا سکیں گے۔ اس بوتل کی گنجائش 20 اونس یا تقریباً 590 ملی لیٹر تک محدود ہوگی۔
فیفا کے مطابق یہ رعایت امریکہ اور کینیڈا میں منعقد ہونے والے ورلڈ کپ میچز کے لیے نافذ العمل ہوگی۔ تاہم ہائمو شیرگی نے اپنے بیان میں میکسیکو کا ذکر نہیں کیا، جس کے باعث یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا یہی پالیسی میکسیکو میں ہونے والے میچز پر بھی لاگو ہوگی یا نہیں۔
دوسری جانب فیفا نے واضح کیا ہے کہ سخت مواد سے بنی دوبارہ استعمال ہونے والی پانی کی بوتلیں اسٹیڈیم کے اندر لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تنظیم کے مطابق یہ پابندی سیکیورٹی اور عوامی تحفظ کے پیشِ نظر برقرار رکھی گئی ہے۔
یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ صرف تین ہفتے قبل فیفا نے شمالی امریکہ کے ورلڈ کپ میزبان اسٹیڈیمز کے لیے اپنے ضابطۂ اخلاق میں تبدیلی کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ شفاف اور خالی پلاسٹک کی دوبارہ استعمال ہونے والی بوتلیں، جن کی گنجائش ایک لیٹر تک ہو، اسٹیڈیم میں لانے کی اجازت ہوگی۔
تاہم تازہ ترین فیصلے کے تحت فیفا نے اس پالیسی سے پسپائی اختیار کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ اب ایسی ری یوزایبل بوتلیں اسٹیڈیم کے اندر نہیں لائی جا سکیں گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شائقین کو پانی کے لیے اسٹیڈیم کے اندر دستیاب بوتل بند پانی خریدنا پڑ سکتا ہے یا صرف فیکٹری سیل بند نرم پلاسٹک کی محدود سائز کی بوتل ساتھ لانے کی اجازت ہوگی۔
فیفا کے اس فیصلے پر شائقین اور ماحولیاتی حلقوں کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔ ماحولیاتی ماہرین طویل عرصے سے دوبارہ استعمال ہونے والی بوتلوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتے رہے ہیں تاکہ پلاسٹک کے فضلے میں کمی لائی جا سکے۔ دوسری جانب سیکیورٹی ماہرین کا مؤقف ہے کہ بڑے بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں میں حفاظتی تقاضوں کو ترجیح دینا ضروری ہوتا ہے۔
ورلڈ کپ 2026 تاریخ کا سب سے بڑا فٹبال ورلڈ کپ قرار دیا جا رہا ہے۔ پہلی بار اس ٹورنامنٹ میں 32 کے بجائے 48 قومی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، جس کے باعث مقابلوں کی تعداد اور شائقین کی دلچسپی میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ فیفا کے مطابق اس توسیعی فارمیٹ کا مقصد دنیا کے مختلف خطوں کو زیادہ نمائندگی فراہم کرنا اور فٹبال کو مزید عالمی بنانا ہے۔
اس مرتبہ ورلڈ کپ کی میزبانی تین ممالک، امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو مشترکہ طور پر کر رہے ہیں، جو فیفا کی تاریخ میں ایک منفرد مثال ہے۔ ٹورنامنٹ کے میچز شمالی امریکہ کے 16 مختلف شہروں میں کھیلے جائیں گے، جن میں ٹورنٹو، وینکوور، نیویارک، لاس اینجلس، میامی، ڈلاس، میکسیکو سٹی اور گواڈالاہارا سمیت کئی بڑے شہر شامل ہیں۔
کینیڈا میں پہلی بار مردوں کے فیفا ورلڈ کپ کے اتنے بڑے مقابلے منعقد ہو رہے ہیں، جس کے لیے ٹورنٹو اور وینکوور میں وسیع پیمانے پر تیاریاں کی گئی ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق لاکھوں سیاحوں اور فٹبال شائقین کی آمد سے سیاحت، ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ اور کاروباری شعبوں کو اربوں ڈالر کا معاشی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
فیفا کا اندازہ ہے کہ ورلڈ کپ 2026 دنیا بھر میں اربوں افراد دیکھیں گے، جبکہ اسٹیڈیمز میں لاکھوں شائقین براہِ راست میچز سے لطف اندوز ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ سیکیورٹی، عوامی سہولیات، ٹکٹنگ، ٹرانسپورٹ اور اسٹیڈیم پالیسیوں کو مسلسل اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے تاکہ شائقین کو محفوظ اور بہتر تجربہ فراہم کیا جا سکے۔
فیفا حکام کا کہنا ہے کہ شائقین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ میچ کے روز اسٹیڈیم پہنچنے سے قبل متعلقہ مقام کے تازہ ترین قواعد و ضوابط کا جائزہ ضرور لیں تاکہ داخلے کے وقت کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ تنظیم کے مطابق عوامی تحفظ، سیکیورٹی اور شائقین کے بہتر تجربے کو یقینی بنانا اس کی اولین ترجیح ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

