کینیڈا

وزیراعظم مارک کارنی نے کینیڈا کی نئی قومی مصنوعی ذہانت حکمتِ عملی ’’اے آئی فار آل’’ کا آغاز کر دیا

📷 Prime Minister Mark Carney launches Canada's new national artificial intelligence strategy, "AI for All"

وزیراعظم مارک کارنی نے کینیڈا کی نئی قومی مصنوعی ذہانت حکمتِ عملی ’’اے آئی فار آل’’ کا آغاز کر دیا

اوٹاواکینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے ملک کی نئی قومی مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) حکمتِ عملی “AI for All” کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کینیڈا کی عالمی مسابقت کو بڑھانا، معیشت کو مضبوط بنانا، نئی ملازمتیں پیدا کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے فوائد تمام کینیڈین شہریوں تک پہنچیں۔

حکومت کے مطابق دنیا اس وقت تیز رفتار تکنیکی تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے، جہاں مصنوعی ذہانت معیشت، روزگار، کاروبار اور قومی خودمختاری کے مستقبل کا تعین کر رہی ہے۔ اگرچہ کینیڈا کے پاس عالمی معیار کے محققین، ماہرین اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا ڈیجیٹل شعبہ موجود ہے، تاہم مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال کے حوالے سے ملک جی-7 کے کئی ممالک سے پیچھے ہے۔

حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس خلا کو دور نہ کیا گیا تو کینیڈین ٹیلنٹ اور اسٹارٹ اپس بیرون ملک منتقل ہو سکتے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت کے اہم شعبوں پر غیر ملکی اداروں کا اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے۔ اسی تناظر میں “AI for All” حکمتِ عملی متعارف کرائی گئی ہے، جس کے تحت آئندہ پانچ برسوں میں نئی قانون سازی، سرمایہ کاری اور تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں گے۔

وزیراعظم مارک کارنی نے کہا کہ اس حکمتِ عملی کا مقصد مصنوعی ذہانت کو ذمہ دارانہ انداز میں فروغ دینا ہے تاکہ عوام کا اعتماد برقرار رہے، معاشی مواقع میں اضافہ ہو اور کینیڈا اپنی تکنیکی خودمختاری کو مزید مضبوط بنا سکے۔

حکومت کے مطابق اس منصوبے کا ہدف اگلے پانچ برسوں میں 200 ارب ڈالر کی اضافی معاشی ترقی حاصل کرنا اور 2 لاکھ 50 ہزار نئی AI سے متعلق ملازمتیں پیدا کرنا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی شرح، جو اس وقت تقریباً 12 فیصد ہے، اسے 2034 تک 60 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

منصوبے کے تحت نوجوان کینیڈینز کے لیے 90 ہزار تک AI سے متعلق ملازمتوں اور عملی تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

حکومت نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عوامی اعتماد پیدا کرنا اس حکمتِ عملی کا بنیادی ستون ہے۔ اسی مقصد کے لیے ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق قوانین کو جدید بنایا جائے گا تاکہ شہریوں کی ذاتی معلومات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ اس ضمن میں ڈیپ فیک ٹیکنالوجی، نگرانی پر مبنی قیمتوں کے تعین اور دیگر ممکنہ خطرات کے خلاف سخت اقدامات متعارف کرائے جائیں گے۔

اس کے علاوہ سوشل میڈیا اور چیٹ بوٹ استعمال کرنے والوں کے تحفظ کے لیے ایک نیا آن لائن سیفٹی نظام بھی متعارف کرایا جائے گا، جبکہ کینیڈین AI سیفٹی انسٹی ٹیوٹ کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کا شفاف اور مؤثر جائزہ لیا جا سکے۔

حکمتِ عملی کے تحت کینیڈا اپنے قابلِ اعتماد بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تحقیق، کمپیوٹنگ، ٹیلنٹ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دے گا۔ اس مقصد کے لیے نئی Sovereign Technology Alliance تشکیل دی جائے گی، جو غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے، کینیڈین مہارتوں کو عالمی سطح پر متعارف کرانے اور مقامی کمپنیوں کے لیے نئی منڈیاں کھولنے میں مدد دے گی۔

تعلیم اور مہارتوں کے شعبے میں حکومت National AI Literacy Initiative کا آغاز کرے گی، جس کے تحت تمام کینیڈین شہریوں کو مصنوعی ذہانت کی بنیادی تربیت فراہم کی جائے گی۔ منصوبے کے مطابق تقریباً 10 لاکھ پوسٹ سیکنڈری طلبہ کو AI سے متعلق بنیادی تعلیم دی جائے گی جبکہ 3 ہزار سے زائد اساتذہ کو خصوصی تربیتی مواد اور تدریسی معاونت فراہم کی جائے گی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ آرٹس، کامرس، سائنس، انجینئرنگ، ٹیکنالوجی اور میڈیکل کے تمام شعبوں کے طلبہ کو قابلِ اعتماد AI معاونین تک رسائی دی جائے گی تاکہ وہ اپنی تعلیم اور تحقیق میں جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکیں۔

کاروباری شعبے کے لیے بھی متعدد اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکومت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو مصنوعی ذہانت اپنانے میں مدد فراہم کرے گی تاکہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو اور صحت، توانائی، ٹرانسپورٹ، زراعت، مینوفیکچرنگ، روبوٹکس اور سرکاری خدمات جیسے اہم شعبوں میں جدت کو فروغ ملے۔

اسی سلسلے میں کینیڈا کا پہلا AI Missions Program بھی شروع کیا جائے گا، جس کا پہلا مرحلہ صحت کے شعبے پر مرکوز ہوگا۔ اس پروگرام کے ذریعے تشخیص، مریضوں کی دیکھ بھال اور طبی نظام کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھایا جائے گا۔

قومی خودمختاری کے پہلو کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت ایک عالمی معیار کا پبلک AI سپر کمپیوٹر قائم کرے گی اور ملکی سطح پر کمپیوٹنگ اور کلاؤڈ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرے گی۔ حکام کے مطابق اس منصوبے میں صاف توانائی، ماحولیاتی معیار اور مقامی کمیونٹیز کے مفادات کو خصوصی اہمیت دی جائے گی۔

حکومت کینیڈا کی AI کمپنیوں کو ترقیاتی سرمایہ، سرکاری خریداری کے مواقع، کمپیوٹنگ وسائل اور دانشورانہ املاک کے تحفظ تک بہتر رسائی بھی فراہم کرے گی تاکہ وہ عالمی سطح پر مقابلہ کر سکیں۔

وزیراعظم مارک کارنی نے اپنے بیان میں کہا کہ مصنوعی ذہانت اب مستقبل کی نہیں بلکہ موجودہ حقیقت ہے۔ ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ آیا اس ٹیکنالوجی سے تمام کینیڈین شہری فائدہ اٹھائیں گے یا صرف چند افراد۔ انہوں نے کہا کہ AI ایمرجنسی رومز میں انتظار کے اوقات کم کر سکتی ہے، چھوٹے کاروباروں کو زیادہ مسابقتی بنا سکتی ہے اور عوامی خدمات کو بہتر بنا سکتی ہے، بشرطیکہ اسے کینیڈین اقدار کے مطابق استعمال کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ “AI for All” کا مقصد ایک ایسا مستقبل تعمیر کرنا ہے جہاں ٹیکنالوجی عوامی مفاد، معاشی ترقی اور قومی خودمختاری کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال ہو، اور جہاں مصنوعی ذہانت واقعی تمام کینیڈین شہریوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories