کینیڈا

دس سال بعد چینی وزیر خارجہ کا کینیڈا کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات میں نئی پیش رفت متوقع

📷 Chinese Foreign Minister's important visit to Canada after ten years, new progress expected in bilateral relations

اوٹاوا: چین کے وزیر خارجہ وانگ یی اس ہفتے ایک اہم سرکاری دورے پر کینیڈا پہنچ رہے ہیں، جو گزشتہ 10 برسوں میں کسی بھی چینی وزیر خارجہ کا پہلا دورہ ہوگا۔ کینیڈین وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ دورہ 28 سے 30 مئی تک جاری رہے گا اور اسے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ یی اپنے دورے کے دوران کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند سمیت اعلیٰ حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔ دونوں رہنما تجارت، سرمایہ کاری، عالمی سلامتی، اقتصادی تعاون اور سفارتی تعلقات سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔

کینیڈا کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دورے کے دوران “کینیڈا-چین اسٹریٹجک کمیونٹی” کے نئے معاہدے پر بھی بات چیت ہوگی، جس کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی سمت دینا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ دورہ اس لیے بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ گزشتہ کئی برسوں سے چین اور کینیڈا کے تعلقات کشیدگی اور سرد مہری کا شکار رہے ہیں۔ اس سے قبل کسی چینی وزیر خارجہ نے 2016 میں کینیڈا کا دورہ کیا تھا، جبکہ 2017 کے بعد کسی کینیڈین وزیر اعظم کا چین کا حالیہ دورہ پہلی بڑی سفارتی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

جنوری 2026 میں کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے وزیر خارجہ انیتا آنند کے ہمراہ بیجنگ کا دورہ کیا تھا، جہاں دونوں ممالک نے “کینیڈا-چین اسٹریٹجک کمیونٹی” کی نئی شکل متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ وانگ یی کا موجودہ دورہ اسی سفارتی عمل کا تسلسل ہے، جس کے ذریعے دونوں ممالک باہمی اعتماد بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ چین اور کینیڈا کے تعلقات میں شدید تناؤ 2018 میں اس وقت پیدا ہوا تھا جب کینیڈا نے امریکی درخواست پر چینی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے کی چیف فنانشل آفیسر مینگ وانژو کو گرفتار کیا تھا۔ اس واقعے کے بعد چین نے دو کینیڈین شہریوں، مائیکل سپاور اور مائیکل کووریگ، کو حراست میں لے لیا تھا، جس کے باعث دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات انتہائی کشیدہ ہوگئے تھے۔

اس واقعے نے نہ صرف سیاسی سطح پر اختلافات کو بڑھایا بلکہ تجارتی اور سفارتی روابط بھی متاثر ہوئے۔ کئی برسوں تک دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا بحال نہ ہوسکی، تاہم حالیہ مہینوں میں تعلقات میں نرمی اور مذاکرات کے نئے دور کا آغاز دیکھا جا رہا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ چین اور کینیڈا کے تعلقات اب ایک “نئے موڑ” میں داخل ہوچکے ہیں اور دونوں ممالک مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وانگ یی کا دورہ دوطرفہ تعلقات میں بہتری کی رفتار کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نہایت اہم ثابت ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین، کینیڈا کے ساتھ احترام، باہمی مفادات اور برابری کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک عالمی اقتصادی چیلنجز، موسمیاتی تبدیلی، بین الاقوامی سلامتی اور تجارتی استحکام جیسے اہم معاملات پر مشترکہ تعاون کو وسعت دے سکتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں چین اور کینیڈا کے تعلقات کی بحالی دونوں ممالک کے لیے معاشی اور سفارتی طور پر فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے جبکہ کینیڈا قدرتی وسائل، توانائی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اہم مقام رکھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا بحال ہوتی ہے تو تجارت، سرمایہ کاری، تعلیمی تبادلوں اور سفارتی روابط میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ پیش رفت عالمی سطح پر بھی اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ حالیہ برسوں میں مغربی ممالک اور چین کے تعلقات مختلف تنازعات کے باعث پیچیدہ رہے ہیں۔

وانگ یی کے دورۂ کینیڈا کو اسی تناظر میں ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کے آغاز کی امید پیدا ہوگئی ہے۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories