کینیڈا: غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والی فلوٹیلا میں شامل کئی کینیڈین شہری، جنہیں اسرائیلی فورسز نے گزشتہ ہفتے حراست میں لیا تھا، اب وطن واپس پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ فلوٹیلا کے منتظمین کے مطابق 12 کینیڈین کارکنوں میں سے 9 اس ہفتے کے اختتام تک مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور کے ہوائی اڈوں پر پہنچ جائیں گے۔
غزہ کے محاصرے کو توڑنے اور فلسطینیوں تک علامتی امداد پہنچانے کی کوشش کرنے والی اس فلوٹیلا کو اسرائیلی بحریہ نے روک لیا تھا۔ بعد ازاں کشتیوں میں سوار کارکنوں کو حراست میں لے کر مختلف مقامات پر منتقل کیا گیا۔ منتظم تنظیم “گلوبل سومود فلوٹیلا” کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حراست کے دوران کئی کارکنوں کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور بعد میں انہیں ترکیہ بھیج دیا گیا۔
تنظیم کے مطابق باقی تین کینیڈین شہریوں میں سے ایک ابھی ترکیہ میں موجود ہے جبکہ دو دیگر مختلف ممالک کے لیے روانہ ہوچکے ہیں۔ فلوٹیلا میں شامل بعض کارکنوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حراست کے دوران انہیں جسمانی تشدد، ذہنی دباؤ اور نامناسب سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک کینیڈین کارکن نے الزام عائد کیا کہ اسے کئی روز تک مارا پیٹا گیا۔
کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے جمعہ کے روز کہا کہ ترک حکام سے ملنے والی معلومات کے مطابق حراست میں موجود کینیڈین شہریوں کے ساتھ “انتہائی افسوسناک اور غیر انسانی سلوک” کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ افراد کو ترکیہ میں فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے تاکہ وہ بحفاظت اپنے گھروں کو واپس جاسکیں۔
دوسری جانب اسرائیلی جیل حکام نے قیدیوں پر تشدد یا بدسلوکی کے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام افراد کے ساتھ قانون کے مطابق برتاؤ کیا گیا۔
یہ کینیڈین کارکن ان 420 افراد میں شامل تھے جو 41 کشتیوں پر سوار ہوکر غزہ کی جانب روانہ ہوئے تھے۔ ان کشتیوں کا مقصد غزہ تک محدود پیمانے پر امدادی سامان پہنچانا اور اسرائیل کی جانب سے عائد بحری پابندیوں کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔
امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی سخت پابندیوں کے باعث غزہ میں انسانی بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ میں فوجی کارروائیاں شروع کیں، جس کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینی خوراک، ادویات اور بنیادی سہولیات سے محروم ہوچکے ہیں۔
اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے اس واقعے کے بعد ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں وہ حراست میں لیے گئے کارکنوں کا مذاق اڑاتے دکھائی دیے۔ ویڈیو میں کارکن گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوئے تھے، ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور چہرے زمین کی طرف تھے۔ اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔
کینیڈا کی وزارتِ خارجہ نے اسرائیلی سفیر ایڈو موئید کو طلب کرتے ہوئے شہریوں کے ساتھ ہونے والی مبینہ بدسلوکی کی مذمت کی ہے۔ وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ شہریوں کے ساتھ روا رکھا گیا سلوک ناقابل قبول ہے اور اس معاملے میں ذمہ دار افراد کا احتساب ہونا چاہیے۔
کینیڈین حکام کے مطابق قونصلر افسران ترکیہ میں موجود رہے تاکہ متاثرہ شہریوں کو ضروری طبی امداد، سفری سہولیات اور دیگر مدد فراہم کی جاسکے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وطن واپس آنے والے تمام شہریوں کی صحت اور حفاظت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
فلسطین کے حق میں کام کرنے والی مختلف تنظیموں نے اس واقعے کو عالمی انسانی حقوق کے اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک امداد کی رسائی فوری طور پر ممکن بنائی جائے اور امدادی کارکنوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

