ویسٹ جیٹ نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ مذاکرات کے باوجود اب تک کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچا جا سکا، جس کے باعث کمپنی کو اپنے بوئنگ 737 طیاروں کو پارک کرنے کا مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔
اوٹاوا: کینیڈا کی نجی فضائی کمپنی ویسٹ جیٹ (WestJet) نے فلائٹ اٹینڈنٹس کی ممکنہ ہڑتال کے پیش نظر اپنے بوئنگ 737 طیاروں کو مرحلہ وار پارک کرنا شروع کر دیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر ہفتے کی شب تک یونین کے ساتھ نیا معاہدہ طے نہ پایا تو فضائی آپریشن متاثر ہو سکتے ہیں۔
ویسٹ جیٹ کے تقریباً 4,400 فلائٹ اٹینڈنٹس کی نمائندگی کرنے والی کینیڈین یونین آف پبلک ایمپلائز (CUPE) نے جمعرات کو ایئرلائن کو 72 گھنٹے کا ہڑتال نوٹس جاری کیا تھا، جس کے جواب میں کمپنی نے ملازمین کو لاک آؤٹ کا نوٹس بھی دے دیا۔
بوئنگ 737 طیارے آپریشن سے ہٹانے کا آغاز
ویسٹ جیٹ نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ مذاکرات کے باوجود اب تک کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچا جا سکا، جس کے باعث کمپنی کو اپنے بوئنگ 737 طیاروں کو پارک کرنے کا مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔
ایئرلائن کے مطابق یہ اقدام اس لیے ضروری ہے تاکہ ممکنہ ہڑتال کی صورت میں آپریشنل نظام کو منظم رکھا جا سکے اور کمپنی کے وسیع نیٹ ورک کی کارکردگی کو محفوظ بنایا جا سکے۔
کمپنی نے واضح کیا کہ وہ اب بھی یونین کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے اور جلد از جلد ایسا معاہدہ چاہتی ہے جو دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
ہڑتال ابھی یقینی نہیں، مذاکرات جاری
دوسری جانب سی یو پی ای کے ترجمان نے بتایا کہ یونین کی مذاکراتی ٹیم اب بھی معاہدہ طے کرنے اور ہڑتال سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اگر 2 اگست کی رات بارہ بجے (ماؤنٹین ٹائم) تک نیا اجتماعی معاہدہ طے نہ پایا تو فلائٹ اٹینڈنٹس ہڑتال پر جا سکتے ہیں۔
یونین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہڑتال کا نوٹس جاری کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ملازمین لازمی طور پر ہڑتال کرنا چاہتے ہیں، بلکہ یہ مذاکراتی عمل کا حصہ ہے۔
فی الحال پروازیں معمول کے مطابق
ویسٹ جیٹ کا کہنا ہے کہ اس وقت تمام پروازیں معمول کے مطابق چل رہی ہیں اور فوری طور پر فضائی سفر پر کوئی اثر نہیں پڑا۔
تاہم کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ اگر مقررہ مدت تک معاہدہ نہ ہو سکا تو پروازوں میں تاخیر یا منسوخی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔
مسافروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ویسٹ جیٹ نے اعلان کیا ہے کہ 30 جولائی سے 4 اگست کے درمیان سفر کرنے والے افراد بغیر اضافی فیس کے ایک مرتبہ اپنی بکنگ تبدیل یا منسوخ کر سکتے ہیں۔
کمپنی نے کہا کہ اگر ہڑتال کے باعث کسی مسافر کی پرواز متاثر ہوتی ہے تو اسے متعلقہ پالیسی کے تحت ریفنڈ یا متبادل پرواز فراہم کی جائے گی۔
مسافروں کو ہدایات
ویسٹ جیٹ نے بتایا کہ جن مسافروں نے براہ راست کمپنی کی ویب سائٹ سے ٹکٹ خریدے ہیں انہیں ای میل کے ذریعے آگاہ کیا جائے گا، جبکہ ٹریول ایجنٹس یا دیگر پلیٹ فارمز سے بکنگ کرانے والے افراد کو متعلقہ ادارے سے رابطہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
وفاقی حکومت کی اپیل
کینیڈا کی وزیرِ روزگار پیٹی ہائیڈو نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں فریق مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کر لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈین عوام چاہتے ہیں کہ یونین اور کمپنی مذاکرات جاری رکھیں، کیونکہ بہترین معاہدہ وہی ہوتا ہے جو باہمی رضامندی سے طے پائے۔
ادھر کنزرویٹو پارٹی کے رہنما پیئر پالی ایو نے فلائٹ اٹینڈنٹس کے مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر کارکن کو اس کے کام کے ہر منٹ کی اجرت ملنی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ فلائٹ اٹینڈنٹس کو جہاز کے زمین پر موجود ہونے کے دوران بھی ذمہ داریاں ادا کرنا پڑتی ہیں، لیکن انہیں اس وقت کی مکمل ادائیگی نہیں کی جاتی۔
اصل تنازع کیا ہے؟
یونین کے مطابق مذاکرات میں کئی معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے، تاہم چند بنیادی نکات پر اب بھی اختلاف برقرار ہے۔
سب سے اہم مسئلہ فلائٹ اٹینڈنٹس کے مطابق بغیر معاوضہ کام ہے۔
سی یو پی ای کا کہنا ہے کہ فلائٹ اٹینڈنٹس جہاز میں مسافروں کی بورڈنگ سے پہلے، پرواز میں تاخیر کے دوران، ہنگامی انخلا اور لینڈنگ کے بعد بھی اہم حفاظتی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں، لیکن ان تمام اوقات کی مکمل اجرت ادا نہیں کی جاتی۔
یونین کے مطابق موجودہ “فلائٹ کریڈٹ سسٹم” کے تحت کئی فلائٹ اٹینڈنٹس ہر ماہ تقریباً 35 گھنٹے بلا معاوضہ کام کرتے ہیں، جس کی وجہ سے بعض ملازمین کی عملی آمدنی کم از کم اجرت سے بھی نیچے چلی جاتی ہے۔
کمپنی کا مؤقف
ویسٹ جیٹ کا کہنا ہے کہ کریڈٹ آور سسٹم شمالی امریکہ کی فضائی صنعت میں رائج معیار ہے۔
کمپنی کے مطابق فلائٹ کریڈٹ کا حساب اس وقت سے شروع ہوتا ہے جب طیارہ گیٹ چھوڑتا ہے اور اس وقت ختم ہوتا ہے جب واپس گیٹ پر پہنچتا ہے، اور ایک کریڈٹ آور ایک فلائٹ آور کے برابر شمار کیا جاتا ہے۔
ویسٹ جیٹ نے کہا کہ وہ ملازمین کے تحفظ، مسافروں کی سہولت اور فضائی آپریشن کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے یونین کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ ممکنہ ہڑتال سے بچا جا سکے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

