شماریات کینیڈا کی رپورٹ “کینیڈین کارکنوں میں جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹولز کا استعمال” کے مطابق رواں سال مارچ میں 35.9 فیصد کارکنوں نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ بارہ ماہ کے دوران اپنی ملازمت یا کاروبار میں جنریٹو اے آئی ٹولز سے مدد لی۔
اوٹاوا: کینیڈا میں ملازمت پیشہ افراد کے درمیان جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلی جنس (Generative AI) کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، تاہم اس کا دائرہ کار مختلف شعبوں میں نمایاں طور پر مختلف ہے۔ یہ انکشاف شماریات کینیڈا (Statistics Canada) کی جانب سے جاری کی گئی نئی رپورٹ میں سامنے آیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں ہر تین میں سے ایک سے زیادہ کارکن گزشتہ ایک سال کے دوران اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں مصنوعی ذہانت کے جدید ٹولز استعمال کر چکے ہیں۔
شماریات کینیڈا کی رپورٹ “کینیڈین کارکنوں میں جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹولز کا استعمال” کے مطابق رواں سال مارچ میں 35.9 فیصد کارکنوں نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ بارہ ماہ کے دوران اپنی ملازمت یا کاروبار میں جنریٹو اے آئی ٹولز سے مدد لی۔
اکثریت اے آئی سے واقف، نصف سے زیادہ اس کے استعمال کو سمجھتے ہیں
رپورٹ کے مطابق کینیڈا میں 93.4 فیصد کارکن جنریٹو اے آئی ٹولز سے واقف ہیں، جبکہ 51.5 فیصد افراد نے کہا کہ انہیں ان ٹیکنالوجیز کے استعمال کا مناسب علم بھی حاصل ہے۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت اب صرف ٹیکنالوجی کے شعبے تک محدود نہیں رہی بلکہ مختلف پیشوں میں تیزی سے اپنی جگہ بنا رہی ہے۔
ڈاکٹر، اساتذہ اور انجینئر سب سے آگے
شماریات کینیڈا نے ملازمتوں کو تین مختلف زمروں میں تقسیم کیا۔
پہلا زمرہ ان پیشوں پر مشتمل ہے جہاں مصنوعی ذہانت نہ صرف استعمال کی جا رہی ہے بلکہ انسانی کام میں معاون بھی ثابت ہو رہی ہے۔ اس میں ڈاکٹر، نرسیں، اساتذہ، انجینئرز اور دیگر پیشہ ور افراد شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس زمرے کے 53.8 فیصد کارکنوں نے بتایا کہ وہ اپنے روزمرہ کاموں میں اے آئی ٹولز استعمال کرتے ہیں۔
ریٹیل، اکاؤنٹنگ اور سافٹ ویئر شعبہ بھی متاثر
دوسرے زمرے میں وہ شعبے شامل ہیں جہاں مصنوعی ذہانت کا استعمال زیادہ ہے اور مستقبل میں بعض کام اے آئی کے ذریعے انجام دیے جانے کا امکان بھی موجود ہے۔
اس میں ریٹیل سیلز، دفتری معاونت، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور اکاؤنٹنگ جیسے شعبے شامل ہیں۔
اس زمرے کے 45.9 فیصد ملازمین نے بتایا کہ وہ اپنے کام میں جنریٹو اے آئی استعمال کر رہے ہیں۔
ہنر مند مزدوروں میں استعمال سب سے کم
رپورٹ کے مطابق وہ پیشے جن میں مصنوعی ذہانت کے اثرات نسبتاً کم ہیں، وہاں اے آئی کا استعمال بھی محدود ہے۔
ہنر مند مزدوروں، ٹرانسپورٹ، سروس سیکٹر، فرسٹ ریسپانڈرز اور دیگر عملی نوعیت کی ملازمتوں میں صرف 14.2 فیصد افراد نے اے آئی استعمال کرنے کی تصدیق کی۔
اسی طرح ٹریڈز، ٹرانسپورٹ اور مشینری آپریٹرز میں اے آئی کا استعمال 14.7 فیصد جبکہ قدرتی وسائل اور زراعت سے وابستہ شعبوں میں یہ شرح 17 فیصد رہی۔
انتظامی عہدوں پر سب سے زیادہ استعمال
رپورٹ کے مطابق انتظامی عہدوں پر کام کرنے والے افراد اے آئی کے سب سے بڑے صارفین بن چکے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق 75.1 فیصد مینیجرز نے بتایا کہ وہ مصنوعی ذہانت کے ٹولز استعمال کرتے ہیں۔
اس کے بعد قدرتی اور اطلاقی سائنس کے شعبوں سے وابستہ افراد کا نمبر آتا ہے، جہاں 67.5 فیصد ملازمین اے آئی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
سرکاری شعبہ نجی اداروں سے آگے
رپورٹ کے مطابق سرکاری اداروں میں کام کرنے والے ملازمین اے آئی کے استعمال میں نجی شعبے سے آگے ہیں۔
سرکاری شعبے میں 41.2 فیصد ملازمین نے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کی تصدیق کی، جبکہ نجی شعبے میں یہ شرح 33.4 فیصد رہی۔
خود روزگار افراد میں 39.6 فیصد نے بتایا کہ وہ اپنے کاروبار میں اے آئی سے مدد لیتے ہیں۔
زیادہ تر افراد محدود پیمانے پر استعمال کرتے ہیں
اگرچہ اے آئی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، لیکن رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ تر کارکن ابھی بھی اسے محدود سطح پر استعمال کر رہے ہیں۔
63.5 فیصد افراد نے کہا کہ وہ صرف بعض مخصوص کاموں میں اے آئی استعمال کرتے ہیں۔
تقریباً 24.9 فیصد کارکنوں نے بتایا کہ وہ بہت کم مواقع پر اے آئی سے مدد لیتے ہیں۔
دوسری جانب 11.6 فیصد افراد نے کہا کہ وہ اپنے بیشتر کاموں میں مصنوعی ذہانت استعمال کرتے ہیں، جن میں 8 فیصد تقریباً زیادہ تر کام اے آئی سے کرواتے ہیں جبکہ 3.6 فیصد نے بتایا کہ وہ تقریباً تمام کاموں میں اے آئی پر انحصار کرتے ہیں۔
روزانہ استعمال کرنے والوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے
رپورٹ کے مطابق جن کارکنوں نے اے آئی استعمال کرنے کی تصدیق کی، ان میں سے 31.4 فیصد روزانہ اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہیں، جبکہ 38.3 فیصد ہفتے میں کئی مرتبہ استعمال کرتے ہیں۔
اسی طرح 21.7 فیصد افراد ماہ میں چند مرتبہ اور 8.7 فیصد سال میں چند مرتبہ اے آئی ٹولز استعمال کرتے ہیں۔
25 سے 54 سال کی عمر کے افراد سب سے آگے
رپورٹ میں عمر کے لحاظ سے بھی اے آئی کے استعمال کا جائزہ لیا گیا۔
25 سے 54 سال کے درمیان عمر رکھنے والے کارکن اس معاملے میں سب سے آگے رہے، جن میں 56.9 فیصد نے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کی تصدیق کی۔
55 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد میں یہ شرح 45.3 فیصد رہی، جبکہ 15 سے 24 سال کی عمر کے نوجوان کارکنوں میں 39.1 فیصد نے بتایا کہ وہ اپنے کام میں جنریٹو اے آئی ٹولز استعمال کرتے ہیں۔
شماریات کینیڈا کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے اور مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کا دائرہ مزید وسیع ہونے کا امکان ہے، تاہم مختلف شعبوں میں اس کے اثرات ایک جیسے نہیں ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق آئندہ برسوں میں اے آئی نہ صرف کام کے طریقۂ کار کو تبدیل کرے گی بلکہ ملازمتوں کی نوعیت اور مہارتوں کی ضروریات پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گی۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

