کینیڈا

کینیڈا میں زیر تعلیم بھارتی طالب علم امریکہ میں بزرگ شہریوں سے 37 لاکھ ڈالر سے زائد فراڈ میں ملوث قرار، چار سال قید کی سزا

📷 Indian Student in Canada Sentenced to 4 Years in U.S. Fraud Case(Instant Image)

کینیڈا میں اسٹوڈنٹ ویزا پر تعلیم حاصل کرنے والے ایک بھارتی شہری کو امریکہ میں بزرگ شہریوں کو نشانہ بنانے والے ملین ڈالر کے فراڈ اور منی لانڈرنگ اسکیم میں ملوث ہونے پر چار سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

واشنگٹن: کینیڈا میں اسٹوڈنٹ ویزا پر تعلیم حاصل کرنے والے ایک بھارتی شہری کو امریکہ میں بزرگ شہریوں کو نشانہ بنانے والے ملین ڈالر کے فراڈ اور منی لانڈرنگ اسکیم میں ملوث ہونے پر چار سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

امریکی محکمہ انصاف کے ماتحت یو ایس اٹارنی آفس برائے ایسٹرن ڈسٹرکٹ آف وسکونسن کے مطابق 22 سالہ روشن شاہ (Roshan Shah) کو وفاقی عدالت نے منی لانڈرنگ کی سازش میں ملوث ہونے کے جرم میں 48 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔

کینیڈا میں طالب علم، امریکہ میں فراڈ کی رقم وصول کرتا رہا

عدالتی دستاویزات کے مطابق روشن شاہ بھارت کا شہری ہے اور اسٹوڈنٹ ویزا پر کینیڈا کے ایک تعلیمی ادارے میں زیر تعلیم تھا۔ بعد ازاں وہ وزیٹر ویزا پر امریکہ داخل ہوا، جہاں اس کا کام فراڈ کے ذریعے حاصل کی گئی رقوم وصول کرنا تھا۔

امریکی حکام نے اگرچہ یہ نہیں بتایا کہ روشن شاہ کینیڈا کے کس صوبے میں رہائش پذیر تھا یا کس کالج میں تعلیم حاصل کر رہا تھا، تاہم تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ منظم بین الاقوامی فراڈ نیٹ ورک کا حصہ تھا۔

بھارت سے فون، امریکہ میں رقم کی وصولی

استغاثہ کے مطابق اس فراڈ اسکیم کے مرکزی کردار بھارت میں موجود تھے، جو امریکہ کے مختلف علاقوں میں رہنے والے بزرگ شہریوں کو فون کرتے تھے۔

فراڈیے متاثرین کو یہ باور کراتے تھے کہ ان کی شناخت مجرمانہ سرگرمیوں میں استعمال ہوئی ہے یا ان کے خلاف وفاقی تحقیقات جاری ہیں۔

متاثرین کو یقین دلایا جاتا تھا کہ اپنی رقم یا سونا محفوظ رکھنے کے لیے انہیں یہ اثاثے ایک وفاقی اہلکار کے حوالے کرنا ہوں گے، جبکہ اس جعلی وفاقی اہلکار کا کردار روشن شاہ ادا کرتا تھا۔

15 متاثرین سے 37 لاکھ ڈالر سے زیادہ وصول کیے

امریکی حکام کے مطابق روشن شاہ نے مختلف امریکی ریاستوں میں رہنے والے 15 متاثرین سے مجموعی طور پر 37 لاکھ امریکی ڈالر (3.7 ملین ڈالر) سے زائد رقم اور قیمتی اشیا وصول کیں۔

تحقیقات میں بتایا گیا کہ فراڈ کا زیادہ تر شکار بزرگ اور کمزور شہری بنے، جنہیں دھوکے اور خوف کے ذریعے اپنی جمع پونجی حوالے کرنے پر مجبور کیا گیا۔

رقم وصول کرتے ہوئے گرفتار

حکام کے مطابق روشن شاہ کو 2025 کے موسم گرما میں امریکی ریاست وسکونسن کے شہر نیو برلن میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک اور متاثرہ شخص سے فراڈ کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم وصول کرنے پہنچا تھا۔

گرفتاری کے بعد ہونے والی تحقیقات میں اس کے بین الاقوامی فراڈ نیٹ ورک سے تعلقات کے شواہد بھی سامنے آئے۔

بزرگ شہریوں کو نشانہ بنانے والے فراڈ پر سخت مؤقف

امریکی اٹارنی آفس کے فرسٹ اسسٹنٹ اٹارنی بریڈ شمیل نے کہا کہ یہ مقدمہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ امریکہ میں رہنے والے شہری، خصوصاً بزرگ افراد، اندرون اور بیرون ملک سرگرم منظم فراڈیوں کے لیے آسان ہدف بن رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں سزا وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور استغاثہ کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے، جن کا مقصد بزرگ شہریوں کو نشانہ بنانے والے مالی جرائم کا خاتمہ کرنا ہے۔

متعدد اداروں کی مشترکہ کارروائی

اس مقدمے کی تحقیقات امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی، ہوم لینڈ سکیورٹی انویسٹی گیشنز (HSI) اور نیو برلن پولیس ڈیپارٹمنٹ نے مشترکہ طور پر انجام دیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی فراڈ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی آئندہ بھی جاری رہے گی، کیونکہ ایسے جرائم نہ صرف مالی نقصان کا باعث بنتے ہیں بلکہ متاثرہ افراد، خصوصاً بزرگ شہریوں، پر شدید ذہنی اور نفسیاتی اثرات بھی چھوڑتے ہیں۔

بین الاقوامی فراڈ نیٹ ورکس پر نظر

امریکی حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی شخص خود کو سرکاری اہلکار ظاہر کرتے ہوئے رقم، سونا یا دیگر قیمتی اشیا محفوظ رکھنے کے نام پر طلب کرے تو فوری طور پر متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کریں، کیونکہ سرکاری ادارے کسی بھی شہری سے اس انداز میں نقد رقم یا قیمتی اشیا وصول نہیں کرتے۔

حکام کے مطابق اس کیس نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ بین الاقوامی فراڈ نیٹ ورکس مختلف ممالک میں موجود افراد کو استعمال کرتے ہوئے کمزور اور بزرگ شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جن کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories