وفاقی وزیر برائے ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی وسائل جولی ڈیبروسن نے اعلان کیا کہ یہ سرمایہ کاری کینیڈا کی نئی آٹو اسٹریٹجی کے تحت کی جا رہی ہے، جس کا مقصد شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال مزید آسان اور قابل رسائی بنانا ہے۔
اوٹاوا: کینیڈا کی وفاقی حکومت نے ملک بھر میں الیکٹرک گاڑیوں (Electric Vehicles) کے استعمال کو فروغ دینے، چارجنگ انفراسٹرکچر کو وسعت دینے اور عوام میں آگاہی بڑھانے کے لیے 10.9 ملین کینیڈین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ اس فنڈنگ کے ذریعے الیکٹرک گاڑیوں کے لیے نئے چارجنگ اسٹیشن نصب کیے جائیں گے اور عوامی آگاہی سے متعلق مختلف منصوبوں پر بھی عمل درآمد ہوگا۔
وفاقی وزیر برائے ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی وسائل جولی ڈیبروسن نے اعلان کیا کہ یہ سرمایہ کاری کینیڈا کی نئی آٹو اسٹریٹجی کے تحت کی جا رہی ہے، جس کا مقصد شہریوں اور کاروباری اداروں کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال مزید آسان اور قابل رسائی بنانا ہے۔
22 منصوبوں کے لیے مالی معاونت
وفاقی حکومت کے مطابق اس اعلان کے تحت مجموعی طور پر 22 منصوبوں کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
ان میں سے تقریباً 9 ملین کینیڈین ڈالر زیرو ایمیشن وہیکل انفراسٹرکچر پروگرام کے تحت مختص کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے ملک کے مختلف حصوں میں تقریباً 400 نئے الیکٹرک گاڑیوں کے چارجرز نصب کیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ تقریباً 2 ملین کینیڈین ڈالر ایسے 13 منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں جن کا مقصد عوام میں الیکٹرک گاڑیوں اور ان کی چارجنگ سہولتوں سے متعلق آگاہی پیدا کرنا اور ان کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔
برٹش کولمبیا میں چارجنگ نیٹ ورک میں تیز رفتار اضافہ
وفاقی حکومت نے بتایا کہ برٹش کولمبیا پہلے ہی الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کر رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں اس وقت 8 ہزار 900 سے زائد عوامی چارجنگ پورٹس موجود ہیں، جو 2023 کے مقابلے میں تقریباً 87 فیصد زیادہ ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ نئی سرمایہ کاری کے بعد ملک کے دیگر علاقوں میں بھی اسی طرز پر چارجنگ نیٹ ورک کو وسعت دی جائے گی۔
صاف توانائی سے ماحولیاتی تحفظ کا ہدف
حکومت کے مطابق کینیڈا دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں بجلی کی پیداوار کا نظام نسبتاً زیادہ صاف اور ماحول دوست ہے۔
وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے الیکٹرک گاڑیوں کے لیے چارجنگ نیٹ ورک میں اضافہ ہوگا، ویسے ہی صاف توانائی کے استعمال کو بھی فروغ ملے گا، جس سے کاربن کے اخراج میں کمی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
اسی مقصد کے تحت نیشنل الیکٹرک اسٹریٹجی کے ذریعے بجلی کے شعبے میں سرمایہ کاری جاری رکھی جا رہی ہے تاکہ جدت، معاشی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
آٹو انڈسٹری کو مضبوط بنانے کی کوشش
وفاقی حکومت نے کہا ہے کہ موجودہ فیصلے مستقبل میں کینیڈا کی ٹرانسپورٹ اور آٹو انڈسٹری کی سمت کا تعین کریں گے۔
اسی لیے حکومت الیکٹرک گاڑیوں، بیٹری سپلائی چین اور جدید آٹو ٹیکنالوجی میں کینیڈا کو عالمی سطح پر ایک مضبوط مقام دلانے کے لیے سرمایہ کاری کر رہی ہے۔
وزیر ماحولیات کا بیان
وفاقی وزیر جولی ڈیبروسن نے کہا کہ حکومت ملک بھر میں مزید الیکٹرک گاڑیوں کے چارجرز نصب کر رہی ہے تاکہ شہریوں کے لیے سفر مزید آسان ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ نئی آٹو اسٹریٹجی کے ذریعے نہ صرف معیاری روزگار کے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں بلکہ کینیڈا کی معیشت کو بھی مضبوط بنایا جا رہا ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر ہاؤسنگ کا مؤقف
وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ اور انفراسٹرکچر گریگور رابرٹسن نے کہا کہ حکومت کی یہ سرمایہ کاری صفر اخراج والی ٹرانسپورٹ کی جانب منتقلی کو مزید تیز کرے گی۔
ان کے مطابق نئے چارجنگ اسٹیشنوں کی تنصیب سے شہریوں کے لیے صاف، کم خرچ اور ماحول دوست سفری ذرائع اختیار کرنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو جائے گا۔
ماہرین نے منصوبے کا خیر مقدم کیا
کینیڈین چارجنگ انفراسٹرکچر کونسل کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹریوس ایلن نے کہا کہ الیکٹرک گاڑی چلانے والا ایک کینیڈین خاندان دس برس کے دوران تقریباً 23 ہزار سے 32 ہزار کینیڈین ڈالر تک بچا سکتا ہے، لیکن اپارٹمنٹس، کنڈومینیمز اور دیگر مشترکہ رہائشی عمارتوں میں رہنے والے خاندانوں کے لیے چارجنگ سہولتوں کی کمی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی یہ مالی معاونت رہائشی عمارتوں کے منتظمین اور مالکان کے لیے واضح رہنمائی فراہم کرے گی، جس سے مزید شہری الیکٹرک گاڑیوں کے فوائد سے مستفید ہو سکیں گے۔
دوسری جانب الیکٹرک موبیلیٹی کینیڈا کے صدر ڈینیئل بریٹن نے بھی اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبے ملک بھر میں الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ، جدید چارجنگ نظام کی ترقی اور بجلی کے نظام کو مزید مؤثر، قابل اعتماد اور پائیدار بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

