AdvertisementStudioX News
کینیڈا

ویسٹ جیٹ فلائٹ اٹینڈنٹس یونین نے 72 گھنٹے کی ہڑتال کا نوٹس دے دیا، موسم گرما کے سفر پر خدشات

📷 WestJet Flight Attendants End Strike, Reach Tentative Deal(Instant Image)
AdvertisementStudioX test advertisement

کینیڈا کی دوسری سب سے بڑی فضائی کمپنی ویسٹ جیٹ کے 4,400 فلائٹ اٹینڈنٹس کی نمائندہ یونین نے 72 گھنٹے کی ہڑتال کا نوٹس جاری کر دیا ہے، جس سے موسم گرما کے مصروف سفری سیزن کے دوران ممکنہ ہڑتال کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔

کینیڈا کی دوسری سب سے بڑی فضائی کمپنی ویسٹ جیٹ کے 4,400 فلائٹ اٹینڈنٹس کی نمائندہ یونین نے 72 گھنٹے کی ہڑتال کا نوٹس جاری کر دیا ہے، جس سے موسم گرما کے مصروف سفری سیزن کے دوران ممکنہ ہڑتال کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔

کینیڈین یونین آف پبلک ایمپلائز (CUPE) کا کہنا ہے کہ ملازمین اور انتظامیہ کے درمیان اہم معاملات پر اب بھی شدید اختلافات موجود ہیں اور دونوں فریق کسی معاہدے تک پہنچنے سے کافی دور ہیں۔

یونین کے ویسٹ جیٹ شعبے کی سربراہ عالیہ حسین نے جمعرات کی صبح جاری ایک بیان میں کہا کہ یونین نے واضح کر دیا ہے کہ کن معاملات میں تبدیلی ضروری ہے اور وہ ایک منصفانہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے مسلسل کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب بھی ہڑتال سے بچنے کا وقت موجود ہے اور دونوں فریق اس مسئلے کے حل کے لیے چوبیس گھنٹے مذاکرات جاری رکھیں گے۔

دوسری جانب ویسٹ جیٹ نے یونین کے ہڑتال نوٹس کے جواب میں 72 گھنٹے کا تالابندی (لاک آؤٹ) نوٹس جاری کر دیا ہے۔ ایئرلائن کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی معاہدے تک پہنچنے کے لیے فعال طور پر مذاکرات کر رہی ہے۔

ویسٹ جیٹ کے چیف ایگزیکٹو الیکسس وان ہونز بروخ نے کہا کہ یونین کے اقدامات کے جواب میں لاک آؤٹ نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ آسان نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی مسافروں کو ہونے والی پریشانی اور غیر یقینی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمپنی اپنے کیبن کریو کے کام اور خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فضائی نیٹ ورک کو منظم رکھے اور مسافروں، عملے اور طیاروں کو مشکلات میں پھنسنے کے خطرے کو کم کرے۔

یونین کی جانب سے نوٹس جاری کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہڑتال لازمی طور پر شروع ہو جائے گی، تاہم اگر دونوں فریق کسی معاہدے پر نہ پہنچ سکے تو ملازمین کی جانب سے کام روکنے کا اقدام اتوار کو رات 12 بج کر ایک منٹ (ماؤنٹین ٹائم) سے شروع ہو سکتا ہے۔

اگر عارضی معاہدہ طے نہ پایا تو جمعے سے بعض پروازوں کو منسوخ یا روکنا شروع کیا جا سکتا ہے۔

ویسٹ جیٹ نے اپنے مسافروں کو سہولت دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 30 جولائی سے 4 اگست کے درمیان طے شدہ پروازوں کے مسافر ایک بار بغیر کسی اضافی فیس کے اپنی بکنگ تبدیل یا منسوخ کر سکتے ہیں۔

ایئرلائن کے مطابق ویسٹ جیٹ اینکور کی علاقائی پروازیں یا دیگر فضائی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے تحت چلنے والی کوڈ شیئر پروازیں، مثلاً ڈیلٹا ایئر لائنز کی پروازیں، ممکنہ ہڑتال سے متاثر نہیں ہوں گی۔

کمپنی نے کہا ہے کہ اگر پروازوں میں تاخیر یا منسوخی ہوتی ہے تو متاثرہ مسافروں کو حالات کے مطابق رقم واپس کی جائے گی یا انہیں متبادل سفری انتظام فراہم کیا جائے گا۔

دونوں فریقوں نے اس ہفتے ایک معاہدہ بھی کیا ہے جس میں یہ طے کیا گیا ہے کہ اگر کام بند کرنے کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو طیاروں کو محفوظ طریقے سے گراؤنڈ کیا جائے گا اور کیبن کریو کو ان کے گھروں تک پہنچانے کے انتظامات کیے جائیں گے۔

معاہدے کے مطابق اگر کوئی عملہ کام روکنے کے وقت کسی پرواز پر موجود ہوگا تو وہ پرواز اپنی منزل تک مکمل کرے گا۔ ایسے ملازمین جو فوری طور پر اپنے آبائی شہر واپس نہیں جا سکیں گے، انہیں زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے تک ہوٹل کی سہولت یا نشست دستیاب ہونے کی صورت میں کسی دوسرے کینیڈین شہر تک پہنچانے کا انتظام کیا جائے گا۔

یونین کا کہنا ہے کہ اس تنازعے میں اہم مسئلہ بغیر معاوضے کے کیے جانے والے کام ہیں، جن میں زمین پر انجام دی جانے والی مختلف ذمہ داریاں شامل ہیں۔ یونین کا مؤقف ہے کہ فلائٹ اٹینڈنٹس کو ان اضافی کاموں کا مناسب معاوضہ ملنا چاہیے۔

دوسری جانب ویسٹ جیٹ کا کہنا ہے کہ تمام ذمہ داریوں کا معاوضہ دیا جاتا ہے اور کمپنی “کریڈٹ آور سسٹم” کے ذریعے ادائیگی کرتی ہے، نہ کہ صرف فی گھنٹہ اجرت کے حساب سے۔

میک گل یونیورسٹی میں ایوی ایشن مینجمنٹ کے استاد جان گریڈک کا کہنا ہے کہ موسم گرما کے عروج پر، خصوصاً طویل تعطیلات کے دوران، مختصر مدت کی بندش بھی ایئرلائن کو لاکھوں ڈالر کا نقصان پہنچا سکتی ہے۔

ویسٹ جیٹ کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ 600 سے زیادہ پروازیں چلاتی ہے اور بعض دنوں میں 70 ہزار سے زائد مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرتی ہے۔ اگر ہڑتال شروع ہوتی ہے تو اس کا اثر نہ صرف کمپنی بلکہ ہزاروں مسافروں کے سفری منصوبوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔

Urdu contributor
+ posts

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

AdvertisementStudioX News

Related Stories