کمپنی میں تقریباً 800 افراد ملازمت کرتے ہیں، جبکہ اس سے وابستہ متعدد مقامی کاروبار اور خدمات بھی اس صنعت پر انحصار کرتے ہیں۔
سینٹ لیونارڈ (کیوبیک): کینیڈا کی وفاقی حکومت نے امریکی ٹیرف کے باعث دباؤ کا شکار سافٹ وڈ (Softwood Lumber) صنعت کو سہارا دینے اور ہزاروں ملازمتوں کے تحفظ کے لیے اہم اقدام کرتے ہوئے لکڑی تیار کرنے والی کمپنی آربیک بوآ دُووغ (Arbec Bois d’œuvre Inc.) کو 6 کروڑ کینیڈین ڈالر کا قرض فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس مالی مدد سے کمپنی اپنی پیداوار جاری رکھنے، امریکی منڈی پر انحصار کم کرنے اور ملازمین کو روزگار فراہم کرنے میں کامیاب ہوگی۔
یہ اعلان وفاقی وزیر خزانہ و قومی محصولات فرانسوا فِلپ شیمپین نے کیوبیک کے شہر سینٹ لیونارڈ میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی تجارتی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، جبکہ امریکہ کی جانب سے تجارتی پالیسیوں میں تبدیلی اور درآمدی محصولات کے باعث کینیڈا کی سافٹ وڈ صنعت کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔
امریکی ٹیرف سے صنعت پر دباؤ
وفاقی حکومت کے مطابق اگرچہ کینیڈا کو امریکہ کے دیگر تجارتی شراکت داروں کے مقابلے میں بہتر تجارتی شرائط حاصل ہیں، تاہم سافٹ وڈ لکڑی کی صنعت اب بھی امریکی محصولات سے نمایاں طور پر متاثر ہو رہی ہے۔ ان ٹیرف کے باعث کینیڈین کمپنیوں کی برآمدات اور منافع دونوں متاثر ہوئے ہیں، جس سے اس شعبے میں کام کرنے والے ہزاروں ملازمین کے روزگار پر بھی اثر پڑا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سافٹ وڈ صنعت کے لیے خصوصی معاونتی اقدامات متعارف کرائے جا رہے ہیں تاکہ مقامی صنعت کو مستحکم رکھا جا سکے اور عالمی منڈی میں اس کی مسابقت برقرار رہے۔
آربیک کمپنی کو 6 کروڑ ڈالر کا قرض
وفاقی حکومت نے بتایا کہ Large Enterprise Tariff Loan Facility کے تحت آربیک کمپنی کو 6 کروڑ کینیڈین ڈالر کا قرض فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس قرض کا مقصد کمپنی کو اپنے آپریشنز جاری رکھنے، کاروباری حکمت عملی میں تبدیلی لانے اور امریکی مارکیٹ پر انحصار کم کرنے میں مدد دینا ہے۔
حکام کے مطابق اس مالی امداد سے کمپنی اپنے ملازمین کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ نئی منڈیوں میں کاروبار کے مواقع بھی تلاش کر سکے گی، جس سے مستقبل میں اس کی معاشی پوزیشن مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔
آربیک کے آٹھ پلانٹس، 800 افراد کو روزگار
آربیک کمپنی کیوبیک کے مختلف علاقوں ساگونے-لاک سینٹ جین، موریسی اور کوٹ نور میں آٹھ صنعتی پلانٹس چلاتی ہے۔ کمپنی کی سرگرمیوں میں لکڑی کی کٹائی، پلاننگ، خشک کرنا اور فنگر جوائنٹ مصنوعات کی تیاری شامل ہے۔
کمپنی میں تقریباً 800 افراد ملازمت کرتے ہیں، جبکہ اس سے وابستہ متعدد مقامی کاروبار اور خدمات بھی اس صنعت پر انحصار کرتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کمپنی کو مالی معاونت فراہم کرنے سے نہ صرف ان ملازمتوں کا تحفظ ہوگا بلکہ مقامی معیشت کو بھی استحکام ملے گا۔
سافٹ وڈ صنعت کی اہمیت
وفاقی حکومت کے مطابق سافٹ وڈ لکڑی کی صنعت کینیڈا کی جنگلاتی معیشت کا ایک اہم ستون ہے۔ یہ شعبہ ملک بھر میں ہزاروں خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ ہے اور اس سے ٹرانسپورٹ، تعمیرات، مینوفیکچرنگ اور دیگر کئی متعلقہ شعبوں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس صنعت کو درپیش مشکلات صرف کمپنیوں تک محدود نہیں بلکہ ان علاقوں کی مجموعی معاشی سرگرمیوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں جہاں جنگلاتی صنعت بنیادی ذریعہ معاش ہے۔
وزیر خزانہ کا مؤقف
وفاقی وزیر خزانہ فرانسوا فِلپ شیمپین نے کہا کہ سافٹ وڈ صنعت کینیڈا کے جنگلاتی شعبے کی بنیاد ہے اور ملک بھر کی متعدد کمیونٹیز میں اچھی تنخواہوں والی ملازمتیں فراہم کرتی ہے۔ تاہم امریکی ٹیرف کی وجہ سے کینیڈین پروڈیوسرز کو مسلسل مالی دباؤ کا سامنا ہے، جس سے برآمدات اور منافع متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آربیک کو فراہم کیا جانے والا قرض کمپنی کو اپنے آپریشنز برقرار رکھنے، ملازمتوں کے تحفظ اور بدلتی ہوئی عالمی منڈی کے مطابق خود کو ڈھالنے میں مدد دے گا۔
توانائی اور قدرتی وسائل کے وزیر کا بیان
وفاقی وزیر برائے توانائی و قدرتی وسائل ٹم ہوجسن نے کہا کہ کینیڈا کے جنگلات ملک میں روزگار، سستی رہائش اور پائیدار اقتصادی ترقی کی بنیاد ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ عالمی غیر یقینی صورتحال میں حکومت نہ صرف صنعت کو فوری استحکام فراہم کر رہی ہے بلکہ اسے مستقبل میں مزید مضبوط اور مسابقتی بنانے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو آربیک جیسی کمپنیوں کی معاونت پر فخر ہے، جو معیاری کینیڈین جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے کے ساتھ ملک میں سینکڑوں افراد کو روزگار بھی فراہم کر رہی ہیں۔
مقامی صنعت کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی
وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ سافٹ وڈ صنعت کے لیے یہ مالی معاونت ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد کینیڈین صنعتوں کو عالمی تجارتی چیلنجز سے نمٹنے کے قابل بنانا، امریکی منڈی پر انحصار کم کرنا اور نئی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی بڑھانا ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف جنگلاتی صنعت مزید مستحکم ہوگی بلکہ کینیڈا کی مجموعی معیشت اور روزگار کے مواقع بھی طویل مدت تک محفوظ رہیں گے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

