کینیڈا میں ایمرجنسی میڈیکل سروسز کو ایک بڑے بحران کا سامنا ہے، جہاں بڑی تعداد میں ایمرجنسی ڈاکٹرز شدید ذہنی دباؤ، کام کے غیر معمولی بوجھ اور صحت کے نظام کی مشکلات کے باعث اپنا پیشہ چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں
کینیڈا میں ایمرجنسی میڈیکل سروسز کو ایک بڑے بحران کا سامنا ہے، جہاں بڑی تعداد میں ایمرجنسی ڈاکٹرز شدید ذہنی دباؤ، کام کے غیر معمولی بوجھ اور صحت کے نظام کی مشکلات کے باعث اپنا پیشہ چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔ کینیڈین میڈیکل ایسوسی ایشن جرنل (CMAJ) میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق کینیڈا کے ہر 10 ایمرجنسی ڈاکٹروں میں سے تقریباً ایک ڈاکٹر اس شعبے سے الگ ہو چکا ہے، جبکہ کئی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انہیں ایمرجنسی میڈیسن کے مستقبل کے حوالے سے شدید مایوسی محسوس ہوتی ہے۔
تحقیق میں شامل ڈاکٹروں نے موجودہ صحت کے نظام کو ’’ٹوٹا ہوا نظام‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں بہتری کے امکانات محدود نظر آتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں نے برن آؤٹ (کام سے پیدا ہونے والی شدید ذہنی و جسمانی تھکن) کی بنیادی وجوہات میں صحت کے نظام کی کمزوریاں، معاشرے کی غیر حقیقی توقعات اور کام کی جگہ پر موجود ناقابلِ برداشت مسائل کو شامل کیا۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ مسلسل دباؤ کے نتیجے میں کئی ڈاکٹروں کو ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اور کچھ نے ایمرجنسی میڈیسن کا شعبہ ہی چھوڑ دیا۔ شعبے میں برقرار رہنے کے لیے بعض ڈاکٹروں نے اپنے کام کے اوقات کم کیے، اپنی ذمہ داریوں میں تبدیلی کی یا ایسے اداروں کا انتخاب کیا جہاں کام کے حالات نسبتاً بہتر ہوں۔
مطالعے میں مجموعی طور پر 410 ایمرجنسی ڈاکٹروں نے حصہ لیا۔ ان میں سے 41 ڈاکٹروں نے ایمرجنسی میڈیسن چھوڑ دی۔ ان میں 25 ڈاکٹروں نے طبی شعبے کے کسی دوسرے شعبے کا رخ کیا، 10 ڈاکٹروں نے ریٹائرمنٹ اختیار کی، جبکہ 6 ڈاکٹروں نے کلینیکل میڈیسن یعنی مریضوں کا براہِ راست علاج کرنا مکمل طور پر چھوڑ دیا۔
تحقیق میں شامل باقی 351 ڈاکٹروں میں سے بھی بڑی تعداد نے شدید ذہنی دباؤ کی نشاندہی کی۔ تقریباً 163 ڈاکٹروں (46 فیصد) میں جذباتی تھکن کی سطح بہت زیادہ پائی گئی، جبکہ 193 ڈاکٹروں (55 فیصد) نے ایسی کیفیت کی اطلاع دی جسے طبی اصطلاح میں ’’ڈی پرسنلائزیشن‘‘ کہا جاتا ہے، یعنی فرد کو اپنے آپ یا اپنے ماحول سے غیر حقیقی یا لاتعلق محسوس ہونے لگتا ہے۔
تقریباً نصف ڈاکٹروں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے طبی کام کے اوقات کم کر دیے ہیں، جبکہ 20 فیصد ڈاکٹروں نے کچھ عرصے کے لیے کام سے وقفہ لینے کا فیصلہ کیا۔
ڈاکٹر کیتھرین ورنر، جو ایمرجنسی فزیشن ہونے کے ساتھ کینیڈین میڈیکل ایسوسی ایشن جرنل کی ڈپٹی ایڈیٹر بھی ہیں، نے کہا کہ تحقیق کا سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ ایمرجنسی شعبے کے کارکنوں کو نہ صرف یہ محسوس ہوا کہ وہ مریضوں کو مطلوبہ معیار کی سہولت فراہم نہیں کر پا رہے، بلکہ انہیں یہ بھی لگتا ہے کہ موجودہ نظام میں تبدیلی لانے کی ان کی صلاحیت محدود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں کو محسوس ہوتا ہے کہ جن نظاموں میں وہ کام کر رہے ہیں، وہ خود کو تبدیل کرنے کے قابل نہیں ہیں۔
تحقیق میں خاص طور پر نوجوان اور خواتین ڈاکٹروں میں برن آؤٹ کی زیادہ شرح سامنے آئی، جو کینیڈا کے صحت کے شعبے کے لیے ایک بڑھتی ہوئی تشویش بن رہی ہے۔ ڈاکٹر ورنر کے مطابق اگر شعبے میں شامل ہونے والے نوجوان ڈاکٹروں کی تعداد، شعبہ چھوڑنے والوں کے مقابلے میں کم ہو جائے تو مستقبل میں ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس میں عملے کی کمی، شفٹوں کو پُر کرنے میں مشکلات اور بعض خدمات کی بندش جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے موجودہ صورتحال کو بعض اوقات بحران سے مشابہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی شعبوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر کرسٹن ڈی وٹ، جو کوئینز یونیورسٹی میں ایمرجنسی میڈیسن کی پروفیسر ہیں، نے خبردار کیا کہ اگر نوجوان ایمرجنسی ڈاکٹر اپنے کیریئر کے آغاز ہی میں یہ شعبہ چھوڑ دیتے ہیں تو ملک نہ صرف موجودہ افرادی قوت بلکہ ان ڈاکٹروں کی پوری پیشہ ورانہ خدمات سے محروم ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی ڈاکٹروں کا شعبہ چھوڑنا صحت کے نظام کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے، کیونکہ ان کی جگہ نئے ڈاکٹروں کو تیار کرنا وقت طلب عمل ہے۔
دوسری جانب کینیڈا میں ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس میں مریضوں کے انتظار کا وقت بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ کینیڈین انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ انفارمیشن (CIHI) کی جون میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں کینیڈا کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس میں داخل ہونے والے تقریباً 1 لاکھ 80 ہزار مریضوں کو اسپتال میں داخلے کے لیے 48 گھنٹے سے زیادہ انتظار کرنا پڑا۔
ماہرین کے مطابق ڈاکٹرز کی کمی، مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، اسپتالوں میں بستروں کی محدود دستیابی اور انتظامی مسائل نے ایمرجنسی نظام پر دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔ صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو کینیڈا کے ایمرجنسی صحت نظام کو مستقبل میں مزید سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

